riaz ch

’را‘ کے ہاتھوں مزدوروں کی شہادت

ضلع گوادر کے علاقوں پیشگان اورگنز میں6 نا معلو م موٹر سا ئیکل سواروں نے پیشکان تا گنز سڑ ک اور دیوار تعمیر کر نے والی کمپنی کے مزدوروں پر فا ئرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 سگے بھائیوں سمیت 10مزدور شہید جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ شہید ہونے والے مزدوروں میں سے 9 کی شناخت محمد خان ،علی دوست، شعبان، عبدالحکیم ، رسول بخش، وحید،ظہیر ، صدام ،آصف کے نا م سے ہوئی جبکہ ایک شخص کی شنا خت نہیں ہو سکی۔ واقعہ میں حضور بخش زخمی ہوا ۔ شہید اور زخمی ہونے والے مزدورورں کا تعلق سند ھ کے علاقے کنڈیارو کے گاؤں صدیق لاکھو سے بتا یا جاتا ہے ۔
عینی شاہد قادر بخش کے مطابق دو حملہ آور پشکان کی جانب سے آئے جنہیں دیکھ کر میں اٹھ گیا اوربلوچی میں ان کے ساتھ بات کی تو انہوں نے مجھے کہاکہ آپ سائیڈ پر ہوجاؤ اس کے بعد مزدوروں کو اکٹھا کرکے قطار میں کھڑا کرکے گولیاں ماری گئیں حالانکہ میں نے انہیں بتابھی دیا کہ ان مزدوروں کا تعلق سندھ سے ہے۔ واقعہ کے بعد گوادر میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور داخلی‘ خارجی راستوں کی ناکہ بندی کرکے ملزموں کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری ، وزیر داخلہ بلوچستان میر سر فراز بگٹی نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے چھپ کر نہتے مزدوروں پر وار کیا ہے۔ دہشت گرد اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر اپنے ہی لوگوں کا خون بہا رہے ہیں۔بزدل دشت گردوں کو انکے بلوں سے نکال کرکیفر کردار تک پہنچا یا جائے گا۔ گوادراور بلوچستان کی ترقی کو روکنے کی سازش کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔ وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہے نہ قومیت ۔گوادر میں دہشت گردوں نے بزدالانہ کاروائی کر کے نہتے پا کستان مزدوروں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں ہر صورت کیفر کردار تک پہنچا یا جائے گا۔ ہم سندھی بھائیوں کے ساتھ ہیں دشمن ہمیں لڑوانا چاہتا ہے لیکن ہم لڑیں گے نہیں لواحقین کی مالی امداد کی جائے گی۔
وزیراعظم محمد نواز شریف نے گوادر میں مزدوروں فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ میں قیمتی انسانی جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ خوشحال اور ترقی یافتہ بلوچستان کا خواب پورا کرنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ سابق صدر آصف علی ز رداری نے گوادر میں مزدوروں کے وحشیانہ قتل کو دہشتگردی قرارد یتے ہوئے کہا کہ مزدور معصوم اور بے گناہ تھے جن عناصر نے ان بے گناہوں کو قتل کرایا۔ منصوبہ بندی کی اور سہولت کار بنے قطعی طور پر ناقابل معافی ہیں۔ کمانڈر سدرن کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض خصوصی طیارے سے گوادر پہنچ گئے جہاں انہوں نے شہید مزدوروں کی نماز جنازہ میں شر کت کی۔
بلوچستان میں ترقی شرپسندوں کی آنکھ میں کھٹکنے لگی ہے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں بلوچستان میں ترقی کا سفر نہیں روک سکتیں۔یہ ’’را‘‘ سے رقم لینے والے دہشت گردوں کی کارروائی لگتی ہے۔ دہشت گردوں نے کسی سندھی، بلوچی یا پنجابی نہیں پاکستانیوں کو شہید کیا۔
سانحہ کو ئٹہ کے بعد پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ اورعالمی برادری سے باضابطہ مطالبہ کیا کہ بھارت کے خلاف عالمی سطح پرپابندیاں عائد کی جائیں۔ حکومت نے بلوچستان میں بھارت کی مسلسل مداخلت کے خلاف مفصل ثبوتوں پر مبنی رپورٹ مرتب کرلی ہے۔اس رپورٹ کے ذریعے عالمی برادری کوآگاہ کیا جائے گا کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت کا واضح مقصد پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو نقصان پہنچاناہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ایک منظم پلان کے تحت بلوچستان میں اپنانیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے اوراس حوالے سے مقامی سطح پرکچھ عناصران کے ذیلی ایجنٹس کاکام کررہے ہیں۔ اس سازش کااعتراف بلوچستان میں گرفتار ہونے والا ’را‘ کا افسر کل بھوشن یادیو دوران تفتیش سیکیورٹی اداروں کے سامنے کرچکاہے۔ وفاقی حکومت نے اس گرفتار ’را‘ افسر کے اہم انکشافات کو اب عالمی سطح پر سامنے لانے کا فیصلہ کرلیا ہے
ہندوستان، پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی “را” کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور ہندوستانی وزیراعظم کے بلوچستان کے حوالے سے بیان اس بات کے ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ گزشتہ دنوں ہندوستانی میڈیا میں اس حوالے سے خبریں سامنے آئی تھیں کہ بلوچستان ری پبلکن پارٹی (بی آر پی) کے رہنما براہمداغ بگٹی نے جلد ہندوستان میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے۔سوئٹزرلینڈ میں جلا وطنی کاٹنے والے بلوچ رہنما براہمداغ کا کہنا تھا کہ ہم بنگلہ دیش، ہندوستان اور افغانستان کی مدد سے چین کو عالمی عدالت انصاف میں
لے جائیں گے۔ اس سے قبل براہمداغ بگٹی نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے یوم آزادی کے خطاب میں بلوچستان کے معاملے کو اٹھانے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ براہمداغ بگٹی کا یہ دعویٰ ہے کہ جب پاک فوج نے 2006ء میں کوئٹہ کے قریب کوہلو کے مقام پر کارروائی کی تو وہ بھی وہاں موجود تھے تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن ان کے دادا نواب اکبر خان بگٹی اس حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔