nawaz-khan-meranii-new-copy

”رات کے پہلے پہر تو حوصلے رُوشن رہے“

حکمت انسان کی محض باتوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، حکمت اس کے عمل میں بھی ہونی چاہیے، یعنی اُس کے قول وفعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے، اِس صورت میں کامیابی اُس کے قدم ضرور چومتی ہے کیونکہ حکمت بھری باتوں کا پھل اگر اُسے اِس دنیا میں مِلتا ہے تو عملی وفعلی حکمت اُس کی آخرت میں کام آتی ہے۔
حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ کہتے ہیں کہ دنیا کی حرص غم ِفروا،حسد، حُب جاہ جس دل میں ہو، وہاں حکمت قرار نہیں پکڑتی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتخابات کی توقع کی جارہی ہے، اس حوالے سے بہت سے خدشات وخطرات بھی ذہن میں منڈلاتے رہے ہیں تاہم جمہوریت کی افادیت سے ”جمہورے“ انکار بھی نہیں کرسکتے، کیونکہ آج کے دور میں تو بادشاہت ، سہنشاہیت اور ملوکیت یک جا ہورہے ہیں۔ آج کل کہیں تو وزارتِ عظمیٰ ، عدالت ِعظمیٰ ، اور صدارت ِعظمیٰ کی عظمت کے تذکرے ہیں، اور ہرایک کی توصیف کے ڈونگرے برسائے جارہے ہیں۔ تو کہیں بیک وقت ان تمام کہانیوں کو مفروضے قرار دے کر ایک ”انجانی منزل “کا دھیان اور گمان دینے کی کوشش کی جارہی ہیں۔
جہاں تک ارکان پارلیمان کا تعلق ہے، تو معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اُن کی اہمیت کا تعین بھی اُن کی قیمت سے لگتا ہے کیونکہ خواہ ن لیگ کے ارکان ،یا پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے ارکان کو دیکھا جائے تو اُن کے ماضی اورحال پر نظر ڈالیں تو آپ کو شاذونادر کوئی بھی ایسا نمائندہ ملے گا کہ جو سیاست کی ابتداسے ایک پارٹی میں رہا ہو۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایک عام آدمی اُن پر اعتماد کا اظہار کرے، کیونکہ ہماری تو ہرجماعت کا منشورہی جداگانہ ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک اسلامی مملکت خدادادِ پاکستان میں ایک دین کو ماننے والے اپنا الگ اور منفرد منشور کیوں رکھتے ہیں؟
مسلمان ہوکر بھی کسی بھی پارٹی کا نصب العین ، اسلامی قانون عدل اور اسلامی طرز حکومت کیوں نہیں؟ اگر مسلمان اپنے ایمان و ایقان میں مخلص ہیں، تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ ہمیں اپنی منزل تک پہنچنے میں اپنے مقصود کو معبود حقیقی کے تابع فرمان کرنا پڑے گا، ورنہ تویہی سلسلہ نامراد جو سترسال سے جاری وساری ہے، نجانے کتنی مدت اور بھٹکتا رہے۔ ہماری سیاست، فرنگیانہ، بھٹکتی ارواح کی طرح دربدر ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہے۔ اور کسی کو بھی نہ اپنے اُوپر اعتماد ہے، اور نہ ہی اپنے علاقے کے اکابرین پر، اسی لیے راحت نسیم کہتے ہیں :
رات کے پہلے پہر تو حوصلے روشن رہے
پھر نہ نجانے کیوں، چراغوں کی لویں جاتی رہیں
ہوگئے اہل ہنر سب، صرفِ کار آرزو!
اور ان ہاتھوں سے روشن مشعلیں جاتی رہیں
اب کھلا کہ حق وباطل کی قلمروایک ہے
ہم نے کھینچی تھیں لہوسے جو حدیں جاتی رہیں
اس دفعہ نجانے کیوں میرا دل اس طرح کی تحریر لکھنے پہ مجبور کررہا تھا۔ واصف صاحب کہتے ہیں کہ ایمان کی تعریف یہ ہے کہ انسان موت سے اداس نہ ہو، موت بعض اوقات ”بُرے آدمی“ کو گناہ سے بچا جاتی ہے۔ کہ آئندہ اُس سے گناہ نہیں ہوگا، اور اس طرح نیک آدمی کو نیکی کرنے سے محروم کردیتی ہے۔ لیکن اصل میں راز یہ ہے کہ جس کو تم بھول گئے۔ وہ مرگیااور جس کو تم نے یاد کیا وہ کبھی نہ مرا۔ دراصل موت فراموشی کا نام ہے۔
اگر آپ کسی کو یاد رہے تو موت نہیں۔ جیسے ہم بزرگوں کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ سارے کے سارے زندہ ہیں۔ جن کے مزاروں پر جاتے ہیں، لیکن عجیب بات ہے کہ کچھ لوگ زندگی میں ہی مرجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ موت میں زندہ ہو جاتے ہیں۔ بامقصد زندگی ہی موت سے بچاتی ہے۔ مقصد کا آغاز ہو جائے تو انسان موت سے بچ جاتا ہے۔ آپ اللہ کے حکم کے مطابق چل پڑو۔ تو پھر موت کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا، انتخاب جیتے گا وہ جس نے قائداعظمؒ ، حکیم سعید جیسے کام کیے ہوں گے ۔ یہ ساری باتیں جیسا کہ میں نے پہلے عرض کی تھیں۔ مجھے اس لیے یاد آرہی ہیں کہ انتخابات کی آمد آمد ہے۔ گو ہمارے وطن میں پابندیِ وقت کی ”خرافات“ ابھی اتنی شدومد کے ساتھ نازل نہیں ہوئی، لیکن گو کہ حتمی اور یقینی طورپر آپ کسی بھی جماعت یا کسی سیاستدان کا نام نہیں لے سکتے کہ اُنہیں کامیابی ملے گی۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ہمارا ہر پرانا سیاستدان نئے سیاستدان کے ساتھ ضرور کامیاب ہوگا۔ لیکن یہ خیال کرنا کہ کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل کرے گی۔ یہ خیال خام ہے، کسی جماعت کے ”جذباتی“ سربراہ اگر یہ کہتے ہیں کہ چھ چھ دفعہ باریاں لینے والے اس دفعہ ناکامی کا منہ دیکھیں گے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ایسی بات ہوتی تو پاکستان کے دو طاقتور اداروں کے اثرورسوخ کے باوجود بھی حلقہ 120کے نتائج ان کی توقع کے مطابق نہیں نکلے، پنجاب میں جو شخصیت اتنی فعال ہے کہ تحصیلدار سے لے کر چیف سیکرٹری تک اس کے ”رت جگے“ کے ”زیراثر“ ہوں۔ تو اتنے لمبے عرصے کی رفاقت، وقتی مصلحت کے تابع رہ کر اتنی جلدی اپنی وفاداریاں نہیں بدل سکتی، اگر نئے امیدوار نے اپنا ”ہوم ورک“ اتنی جانفشانی سے کیا ہوا ہے۔ تو کیا اتنے لمبے عرصے سے رہنے والے حکمران اپنا کوئی حلقہ اثر نہیں رکھتے ہوں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ رشید ، اور عمران خان پاکستان کے مضبوط اداروں کا نام، اس ”شان ِبے نیازی“ سے لیتے ہیں کہ ہم جیسے ”حساس لوگ“ تعجب میں پڑ جاتے ہیں۔ مجھے اچانک یاد آیا۔ اگر میرے قاری، جن کو اگرچہ باری باری میں جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں، تاہم اگر میں اپنی ”مردانہ مصروفیات“ اور ”روز وشب شبانہ“ مشغولیات کی وجہ سے جواب نہ دے سکوں، تو میری عاجزانہ معافی قبول فرمائیں، بلکہ انہی اخباری سطور کو ”تار“ سمجھیں، مگر میری اس بات پر یقین رکھیں کہ ابھی کئی سال ہمارے ملک کی کشتی ”ناخدا“ کے بغیر ہچکولے کھاتی رہے گی، مگر چونکہ امت رسول مدنی کی یہ کشتی ، کشتی نوحؑ ہے، لہٰذا جب بھی یہ منزل پہ لگی۔ تو انشاءاللہ ہمارے ملک کی قسمت بدل جائے گی۔ جہاں تک نئے حکمران کا تعلق ہے، تو اُس کا فیصلہ تو لوح محفوظ میں لکھ دیا ہوگا، مگر دُنیاوی بادشاہ گر بھی فیصلے پہلے سے کرلیتے ہیں۔ اور یہ فیصلے بھی شاید ”بائیومیٹرک“ ہوتے ہیں۔ اس لیے میٹرک تک پڑھے لوگ بھی قانون ساز اداروں میں پہنچ جاتے ہیں۔ مگر اس دفعہ تمام تر کوششوں کے باوجود بھی شاید کوئی بھی واضح اکثریت حاصل نہ کرسکے، اور آئندہ الیکشن بھی جلد ہوجائیں۔ شاید یہی ”جمہوریت کا حسن“ ہے، اور ہمارا حسن تو یوں ہے کہ :
زرد روایک ہی پل میں ہوئی مدھ ماتی شام
لال ہونے بھی نہ پائے تھے ابھی گال اُس کے!!