Atta ur Rehman copy

دو روز مردان اور پشاور میں

گزشتہ ہفتہ اور اتوار کے دو دن صوبہ خیبر پختونخوا کے دو بڑے شہروں مردان اور پشاور میں گزرے۔۔۔ لاہور اسلام آباد اور کراچی سے جمع ہونے والے پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے جواں عمر اور سینئر صحافیوں پر مشتمل ایک وفد تھا جو مشاہداتی دورے پر وہاں گیا۔ پاکستان میڈیا کلب نامی تنظیم نے اس کا اہتمام کیا تھا اور جناب ضیاء اللہ خاں روح روں تھے۔۔۔ مردان میں ہمارے چند گھنٹے قیام کا مقصد وہاں کی کسی بڑی شخصیت سے ملاقات نہ تھا۔۔۔ اس شہر کے کچھ اہل خیر نے باہمی تعاون کے ساتھ الاصلاح سنٹر کے نام سے یتیم اور بے سہارا بچوں کی پرورش اور تعلیم کے لیے ادارہ قائم کر رکھا ہے اس کی کارکردگی دیکھنا مقصود تھا۔۔۔ غالباً 2002ء سے دہشت گردی اور دوسرے اسباب کی بنا پر والدین سے محروم ہو جانے والے معصوم مقامی بچوں کو اس ادارے نے یوں کہئے شفقت بھری آغوش میں لے رکھا ہے۔۔۔ انہیں زندگی کی تمام ضروریات مہیا کی جاتی ہیں۔۔۔ صاف ستھرے کھلے اور ہوا دار کمروں میں رہائش ہے۔۔۔ تین وقت کا کھانا دیا جاتا ہے۔۔۔ ہاسٹل کے ساتھ دس جماعتوں تک باقاعدہ تعلیم کے لیے سکول ہے۔۔۔ پرورش، تعلیم اور تربیت کا امتزاج ہے جو اس ادارے میں دیکھنے کو ملا۔۔۔ ہماری آمد پر انتظامیہ اور اساتذہ نے طلباء و طالبات سے ملاقات کے لیے سکول کے ہال میں باقاعدہ تقریب منعقد کر رکھی تھی۔۔۔ جس کے دوران چھوٹے اور بڑے بچوں نے نظمیں اور گیت سنائے۔۔۔ اپنے احساسات سے آگاہ کیا۔۔۔ ان معصوموں کے چہروں پر رونق تھی۔۔۔ ان کے اندر زندگی کے میدان میں اترنے اور اپنا مقام خو د بنانے کا جذبہ اور عزم فراواں تھا۔۔۔ انتظامیہ کے افراد اپنی کارکردگی پر خوش تھے کہ ان کی مساعی کے نتیجے میں مردان اور اس کے گردوپیش کی آبادیوں میں کم بچے ہوں گے جو والدین یا قریبی سرپرست کی شفقت سے محرومی اور غذا ،کپڑوں اور تعلیم جیسی سہولتیں دستیاب نہ ہونے کی بنا پر بیچارگی اور لاچاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔۔۔ یہ فرض کفایہ ہے جس سے مردان کے مقامی لوگ بطریق احسن عہدہ برآ ہو رہے ہیں۔۔۔ ہوتی خاندان کے ایک صاحب خیر نے شہر کے وسط میں زمین کا بڑا ٹکڑا اس مقصد کے لیے وقف کر رکھا ہے۔۔۔ مشہور دانشور ڈاکٹر محمد فاروق کی جنہیں چند برس قبل دہشت گردوں نے تہ تیغ کر کے رکھ دیا تھا بیوہ اور جواں عمر صاحبزادہ اس مرکز کے کاموں اور انہیں ترقی دینے کی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں۔۔۔ پاکستان میں بلاشبہ یتیم اور لاچار و غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو مفت تعلیم مہیا کرنے اور ان کی پرورش کے دوسرے اسباب پیدا کرنے کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔۔۔ پچھلے پندرہ بیس سالوں میں لاہور ، کراچی، راولپنڈی، پشاور اور فیصل آباد و حیدر آباد ، سکھر وغیرہ جیسے بڑے شہروں سمیت چھوٹے مقامات پر بھی اس طرح کے اداروں کا وسیع نیٹ ورک وجود میں آگیا ہے۔۔۔ ان میں سے کئی ایک کی کارکردگی قابل رشک ہے۔۔۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو وسائل کی کمی یا بہتر انتظامی صلاحیتوں کے فقدان کی وجہ سے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے لیکن ان کا وجود نہ ہونے سے بہتر ہے۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر بڑے اور چھوٹے شہر یہاں تک کہ قصبات میں تعلیم یافتہ اور سماجی شعور رکھنے والے افراد مل کر کامیاب اداروں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غریب ونادار بچوں اور بچیوں کے لیے ایسے سکول، پرورش گاہیں اور فنی تربیتی اداروں کے جال بچھا دیں جہاں قوم کے ان نو نہالوں کو معاشرے کا بہترین شہری اور مستقبل کے معمار بنانے کا سامان مہیا کیا جائے یہ ہماری قومی، دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے اس سے بتمام و کمال عہدہ برآ ہونا کسی بھی بڑی نیکی اور قومی اصلاح کے فریضے سے کم نہیں۔۔۔ مردان میں چند گھنٹے قیام کے دوران وہاں کے مشہور تعلیمی ادارے عبدالولی خان یونیورسٹی جانے کا موقع تو نہیں ملا ۔۔۔ البتہ اس کی دور سے نظر آنے والی خوبصورت اور وسیع رقبے کی حامل عمارت کے پاس سے گزرنے کا ضرور اتفاق ہوا۔۔۔ چند ماہ قبل توہین مذہب کے الزام کی پاداش میں اس یونیورسٹی کے احاطے کے اندر مشعال نامی ایک خوبرو نوجوان کے مشتعل طلباء و اساتذہ کے ہاتھوں قتل کے واقعے نے بڑی شہرت حاصل کی۔۔۔ کیا مقتول واقعی قصور وار تھا۔۔۔ میڈیا پر اس بارے میں جس رائے نے غلبہ حاصل کر لیا اور مرنے والے نوجوان کے والد، اہل خانہ اور قریب ترین دوستوں نے اس باب میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ
اس کے بے گناہ ہونے پر اصرار کرتے ہیں۔۔۔ جبکہ مردان کے مقامی افراد یا کم از کم جن سے مجھے بات کرنے کا موقع ملا ان کا خیال یکسر مختلف تھا۔۔۔ ان کے نزدیک مقتول مشعال فی الواقعہ ایسے نظریات کا بیباکی کے ساتھ پرچار کرتا تھا جو ہماری مجموعی دینی اور قومی حسیات کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔۔۔ حقیقت جو بھی ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا خواہ جرم کتنا بڑا اور سنگین نوعیت کا ہو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا کسی لحاظ سے اور کسی طور قابل قبول نہیں۔۔۔ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے نہ جدید دنیا کا مہذب یا قانون کی حکمرانی کو اپنا شعار ماننے والا کوئی سماج یا ملک۔۔۔
مردان سے گھنٹہ بھر کے سفر کے بعد ہمارا قافلہ صوبے کے دارالحکومت اور پاکستان کے تاریخی اور زمانہ قدیم سے سٹریٹجک اہمیت رکھنے والے عظیم شہر پشاور پہنچا۔۔۔ ہوٹل میں اسباب رکھا۔۔۔ نہائے دھوئے اور گاڑیوں میں سوار ہو کر اس ہال میں پہنچے جہاں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی جانب سے عشائیے کا اہتمام تھا۔۔۔ جناب پرویز خٹک پرانے اور منجھے ہوئے سیاسی کارکن ہیں۔۔۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو جو کامیابیاں ملیں۔۔۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد اس جماعت کی حکومت قائم ہوئی۔۔۔ تمام مشکلات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرتی ہوئی اب تک برقرار ہے حالانکہ اراکین اسمبلی کی تعداد کے لحاظ سے اس کی پارلیمانی طاقت اتنی مضبوط نہیں۔۔۔ لیکن جماعت اسلامی وغیرہ کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے اسمبلی کے اندر واحد بڑی جماعت کی حیثیت سے اپنی پوزیشن قائم رکھنے میں کامیاب چلی آ رہی ہے۔۔۔ ان تمام منازل کو طے کرنے میں عمران خان کے بعد جس شخصیت کا کردار سب سے مؤثر ہے وہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک ہیں۔۔۔ موصوف اپنا مؤقف پیش کرنے اور سخت سوالوں کا خندہ پیشانی کے ساتھ جواب دینے کے فن میں طاق ہیں۔۔۔ ہم اخبار نویسوں نے ہر پہلوسے سوالات کی بوچھاڑ کی۔۔۔ حملہ آور ہوئے وہ مقابلے میں کھڑے رہے۔۔۔ بیچ میں ان کے وزیر اطلاعات شاہ مردان بار بار مداخلت نہ کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔۔۔ مجموعی تاثر جو پرویز خٹک صاحب کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹے کی طویل گفتگو کے بعد قائم ہوا یہ تھا اگرچہ صوبہ خیبر پختونخوا کے حالات ’اے این پی‘ اور اس سے ماقبل ’ایم کیو ایم‘ کی حکومتوں کے ادوار کے مقابلے میں بہتر ہوئے ہیں۔۔۔ تعلیم اور صحت جیسے شعبہ جات اور پولیس کی کارگزاری میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔۔۔ سرکاری محکموں کے اندر کرپشن میں کمی واقع ہوئی ہے۔۔۔ امن عامہ کی صورت حال بھی پہلے جیسی ناگفتہ بہ نہیں رہی۔۔۔ لیکن یہ جو عمران خان اٹھتے بیٹھتے دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی حکومت والے صوبے میں انقلاب عظیم برپا ہونے میں بس تھوڑی سی کسر باقی رہ گئی ہے۔۔۔ خیبر پختونخوا ملک کے دوسرے صوبے کیا پنجاب کو بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے۔۔۔ اس کے آثار نظر نہیں آتے۔۔۔ اب تو خیر بی بی سی والے انٹرویو میں انہوں نے اعتراف بھی کر لیا ہے۔۔۔ سرکاری سکولوں کی حالت پہلے سے یقیناًبہتر ہے لیکن یہ جو ہمارے کرکٹ کے ہیرو نے دعویٰ کیا تھا کہ والدین میں نجی سکولوں سے نکال کر بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرانے کا رجحان بڑھ رہا ہے ایسے شواہد نظر نہ آئے۔۔۔ تعلیمی نتائج میں بھی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا۔۔۔ ہسپتالوں کی حالت زار درست کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔۔۔ یقیناًبہتری آئی ہے۔۔۔ مگر انہیں جس معیار پر لے آنے کا بہت دعویٰ کیا گیا تھا اس کی منزل ابھی بہت دور ہے۔۔۔ اس سال ڈینگی کے مرض نے آن دبوچا ہے۔۔۔ صوبائی حکومت بلائے ناگہانی کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔۔۔ پنجاب نے مدد کی پیش کش کی۔۔۔ اسے محدود سطح پر قبول کرنا پڑا مگر خاصی بے دلی کے ساتھ۔۔۔ دہشت گردی کا گراف بہت نیچے آیا ہے جس کی وجہ سے عوام کے اندر خاصی حد تک امن و سکون پایا جاتا ہے لیکن یہ ایک صوبے کا احوال نہیں پورے ملک کے اندر اس عفریت سے نجات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔۔۔ خیبر پختونخوا بھی اس سے متمتع ہو رہا ہے۔۔۔ عمران خان شہباز شریف کی میٹرو ٹرین کا بہت مذاق اڑاتے تھے اب ان کی حکومت پیروی پر مجبور ہے۔۔۔
اگلے روز اتوار کو صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کے انسپکٹر جنرل جناب صلاح الدین اور ان کے قریبی رفقاء کار کے ساتھ ظہرانے پر ملاقات کا پروگرام تھا۔۔۔ ہم نے پولیس مرکز میں داخل ہوتے ہی شہداء کی یادگار پرپھول چڑھائے۔ آئی جی صاحب نے بڑے فخر اور اطمینان کے ساتھ اپنے محکمے کی کارکردگی اور اس کے مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفتوں سے آگاہ کیا۔۔۔ اس صوبے کی پولیس کے بارے عمومی تاثر ہمیشہ سے دوسروں کے مقابلے میں اچھا چلا آرہا ہے۔۔۔ موجودہ حکومت نے اسے نکھارنے میں خصوصی توجہ دی ہے۔۔۔ سب سے بڑی بات یہ ہے سیاسی مداخلت بہت کم ہو کر رہ گئی ہے۔۔۔ اس کی وجہ سے پولیس افسران اور ماتحت عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نسبتاً آزادی کے ساتھ جوہر دکھانے کا موقع ملا ہے۔۔۔ عمران خان یقیناًاس پر فخر کر سکتے ہیں۔۔۔ دوران گفتگو اور کھانے کی میز پر میں نے جناب آئی جی سے دو تین سوال کیے۔۔۔ ایک یہ تھا پولیس کے محکمے کی عمومی حالت یہ ہے جب کوئی بااثر آدمی ایف آئی آر درج کرانے جاتا ہے تو اس میں مرضی کی دفعات شامل کرالیتا ہے۔۔۔ تا کہ حریف یا اس کا نشانہ پوری طرح شکنجے میں آجائے۔۔۔ اس کے بعد تفتیشی عمل شروع ہوتا ہے تو ذاتی رسوخ کی بنا پر اس عمل کو بھی مرضی کی نہج پر لے جاتا ہے۔۔۔ نتیجتاً استغاثے کا تمام مقدمہ اس کی خواہشات کے مطابق تیار ہوتا ہے۔۔۔ مخالف اگر غریب یابے اثر ہو تو انصاف سے محروم رہ جاتا ہے۔۔۔ ان حالات میں اگر اوپر کی مداخلت نہ بھی ہو تو نیچے کا سارا نظام گدلا رہتا ہے۔۔۔ عام آدمی کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچتا۔۔۔ آئی جی صلاح الدین نے اعترا ف کیا یہ خرابی ان کے یہاں بھی پائی جاتی ہے۔۔۔ اصلاح نہیں ہو پائی۔۔۔ میرا دوسرا اہم سوال یہ تھا تھانوں میں جائیں تو پولیس ملازمین دو شکایتیں کرتے ہیں۔۔۔ ایک انہیں کئی گھنٹے زیادہ ڈیوٹی دینا پڑتی ہے۔۔۔ نیند پوری نہیں ہوتی ہر لمحہ چاق و چوبند کیسے رہیں۔۔۔ دوسرا اکثر و بیشتر تھانوں کی سٹیشنری تک کا سامان اپنی جیبوں سے خریدنا پڑتا ہے۔۔۔ اس کی خاطر رشوت نہ لیں تو کیا کریں۔۔۔ آئی جی صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا یہ خرابیاں تو پائی جاتی ہیں۔۔۔ دور کرنے میں معلوم نہیں کتنا عرصہ لگے گا۔۔۔ سفر خوشگوار تھا۔۔۔ راستے میں اور ہوٹل کے اندر ناشتے کی میز پر چودھری غلام حسین، خوشنود علی خان، رؤف طاہر اور فرید رئیس کے ساتھ گپ شپ رہی۔۔۔ در پیش ملکی حالات پر تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔