mushtaq sohail

دو اہم ایشو دونوں لازم و ملزوم

ملک کو گزشتہ دنوں دو اہم مسائل کا سامنا رہا، دونوں لازم و ملزوم ،ایک نان ایشو سے دوسرے تنازع کو ہوا ملی اور اس طرح دونوں خوامخواہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے یا جمہوریت دشمن عناصر اور عاقبت نا اندیش سیاستدانوں نے خطرہ بنا دیا، دراصل بقول شخصے۔
وہیں پر بس نشانے لگ رہے ہیں
جہاں منظر سہانے لگ رہے ہیں
بھانت بھانت کے ترجمانوں کو ملکی ترقی اور امن و امان اچھا نہیں لگتا، ’’بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو۔‘‘ مگر مختلف چینلز ان ہی ترجمانوں کی ہرزہ سرائیوں سے چل رہے ہیں، پہلا ایشو ڈان لیکس، نان ایشو کو چرب زبانی سے ایشو بنا دیا گیا، بد قسمتی سے آٹھ ماہ پہلے شروع ہونے والا نان ایشو ملکی سلامتی کے لیے واقعی خطرہ بن گیا، مقام شکر کہ دو بڑے مل بیٹھے اور 8 ماہ پرانا تنازع 8 منٹوں میں حل ہوگیا۔ وزیر اعظم نواز شریف سے آرمی چیف کی ملاقات بار آور ثابت ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ کہتے ہوئے معاملہ حل کردیا کہ وہ ٹوئٹ واپس لے لیا گیا جس میں نوٹیفکیشن کو مسترد کیا گیا تھا، فوجی ترجمان کے مطابق وزیر اعظم فائنل اتھارٹی قرار پائے وزارت داخلہ نے بھی اصل نوٹیفکیشن جاری کردیا اس میں وزیرا عظم کے احکامات کی توثیق کی گئی، فوج نے نہ صرف اسے قبول کیا بلکہ اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ فوج جمہوریت کی حامی اور آئین کی مکمل عملداری کے لیے پر عزم ہے، عاقبت نا اندیش سیاستدانوں کو بڑی مایوسی ہوئی، ڈان لیکس کا تنازع کیا حل ہوا۔ ’’سیاسی یتیموں‘‘ کی چیخیں نکل گئیں ۔۔۔ڈان لیکس دفن ہوگئی اپوزیشن اس کی مٹی خراب کر رہی ہے لیکن قبر کشائی کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ سارے ترجمان نواز شریف کو ما فل اسٹاپ کے بغیر تنقید کرنے میں مصروف لیکن فوج کے بارے میں محتاط، کیوں؟ ڈر لگتا ہے نا ،کہنے لگے حکومت تین افراد پر مشتمل ہے۔ نواز شریف، مریم نواز اور اسحاق ڈار، جمہوریت چند افراد کی حکمرانی کا نام نہیں ہے جن کے ترجمان ہیں ان کی پوری پارٹی بھی تین افراد پر ہی مشتمل ہے باقی سب ’’ریلو کٹے‘‘ اور 16 ترجمان ہیں ہر سیاسی پارٹی میں دور نزدیک کے ساتھی ہوتے ہیں ورنہ تحریک انصاف کی طرح جوتیوں میں دال بٹنے لگے۔ پیپلز پارٹی کو ڈان لیکس کے حل ہونے کا سب سے زیادہ دکھ ہے سب حیران و ششدر ہیں خورشید شاہ کو سب سے زیادہ حیرت اور چوہدری اعتزاز احسن کو سب سے زیادہ پریشانی ہوئی ہے پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اسے چھوڑے گی نہیں بلکہ مفروضوں کے پیچھے اپنا سر پھوڑے گی،ایک لیڈر چٹان کی طرح بے لچک ، چٹان پر بوند کیا دن بھر بارش پڑتی رہے تو بادل برس برس کر تھک جائیں گے چٹان پر کوئی اثر نہیں ہوگا، کہنے لگے ’’اصل ذمہ داروں کو سامنے لایا جائے۔‘‘ ذمہ دار سامنے آ تو گئے، فوج مطمئن ہوگئی اب مزید بینڈ باجے بجانے سے فائدہ، یار لوگ کچھ اور چاہتے تھے، دلی خواہش پوری نہیں ہوئی، چاہتے تھے بیٹھے بٹھائے فوج آجائے کتنوں کے نصیب جاگ اٹھیں گے، نوکریاں بحال ہوجائیں گی۔ لیکن مسئلہ حل ہونے سے ’’دل دیاں گلاں دل وچ رہ گئیاں‘‘ دلی آرزوئیں اندر ہی دم توڑ گئیں، ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ پیپلز پارٹی الیکشن سے ایک سال قبل ہی لنگر لنگوٹ کس کر مقابلے کے لیے اکھاڑے میں اتری تھی، ایک ہی داؤ میں چت گر پڑی، ’’چٹان‘‘ نے کہا کہ ڈان لیکس دو اداروں کا مسئلہ نہیں جمہوریت خطرے میں پڑی ہے ’’کہتے ہیں جس کو سیاست خلل ہے دماغ کا۔‘‘ بھلے مانس یہ دو اداروں ہی کا مسئلہ تھا ،جسے تنازع بنا کر اپوزیشن نے واقعی جمہوریت کو خطرے میں ڈال دیا تھا مقام شکر کہ دو بڑے مل بیٹھے اور مسئلہ حل ہوگیا۔
اب آئیے دوسرے ایشو کی طرف ڈان لیکس کے شور شرابے اور پانامہ لیکس کے ہنگامے نے ملک کو عدم استحکام کا شکار کردیا جس سے ارد گرد کے ہمسایوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ کنٹرول لائن پر روزانہ فائرنگ، افغانستان کی گولہ باری، ایران کی دھمکیاں، تینوں ہمسائے ایک کو چھوڑ کر ماں جائے لیکن دشمن نے دونوں کو رام کرلیا، یا دونوں نے پاکستان کے عدم استحکام اور اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردیں ،ہمسایوں کی منافقت، اپنوں کی دشمنی، معاملات کیسے چلیں گے سب اپنے مہربانوں کے شور کا کیا دھرا ہے میر تقی میر نے کہا تھا کہ
جو اس شور سے میر روتا رہے گا
تو ہمسایہ کا ہے کو سوتا رہے گا
میر صاحب کو بھی بڑھاپے میں رونے دھونے اور شور شرابے کی عادت ہوگئی تھی، رات بھر غم جاناں میں رونا دھونا، آہ و بکا، ارد گرد کے سارے پڑوسی تنگ تھے سب نے یقیناًکوتوال شہر کو رپورٹ درج کرائی ہوگی۔ مودی بھی تو عالمی عدالت انصاف میں چلا گیا ہے۔ کوتوال شہر نے میر صاحب کو استثنیٰ دے دیا کہ ‘‘اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو‘‘ لیکن ہمسایوں کی ’’گولہ باری‘‘ سے بالآخر میر صاحب کو ٹھکانہ بدلنا پڑا ،کپتان پچھلے چار سال سے ’’نواز شریف استعفیٰ دو‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں ،126 دنوں کے دھرنے نے چینی سرمایہ کاری روک دی تھی۔ ملک ان ہی حربوں سے عدم استحکام کا شکار ہوتے ہیں اور دشمن ان ہی مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں،ترکی دنیا کے نقشے پر ترقی یافتہ ملک بن کر ابھرا لیکن اندرونی سازشوں اور حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک دو کوششوں کی وجہ سے ازلی دشمنوں کو چالیں چلنے کا موقع مل گیا، امریکا نے کردوں کو جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح کردیا جو مستقل خطرہ بنے رہیں گے، اپوزیشن لیڈروں کو اعتراض ہے کہ ملک میں کوئی وزیر خارجہ نہیں اس لیے کوئی خارجہ پالیسی نہیں، خارجہ پالیسی ہوتی تو ہمسایوں کو سازشوں اور حملوں کی جرات نہ ہوتی، معاف کیجیے ہماری خارجہ پالیسی کس دور میں تھی یہ بھی کہیے کہ اس دور میں غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کیا ہوتی ہے ہم نے ابتدا سے اور پھر ہمیشہ امریکا کا ساتھ دیا، روس ہمیشہ ناراض رہا جبکہ امریکا نے ہر مرحلہ پر ہمیں دھوکا دیا اور نقصان پہنچایا، 1965ء اور 1971ء میں نواز شریف کی حکومت نہیں تھی۔ ہمارا سارا جھکاؤ امریکا کی طرف تھا۔ پاکستان کا مشرقی حصہ کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا ،کیا امریکا نے مذمت کی یا ہماری کوئی مدد کی ،پاکستان کو کیا ملا؟ امریکا مفاد پرست اور اس کی دوستی کا دم بھرنے والے ہمارے حکمران اس سے زیادہ مفاد پرست نکلے، ابھی تک واشنگٹن میں ان کے لابسٹ بیٹھے ہیں جو انہیں گڈ بکس میں رکھنے کے لیے لاکھوں کروڑوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں ،مرد مومن مرد حق نے کس کے کہنے پر ’’جنتی‘‘ بھرتی اور تیار کیے اور جنرل مشرف نے کس کی ایک فون کال پر سارے ’’جنتیوں ‘‘کو عالمی دہشت گرد بنا دیا، اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں شہید کیا گیا اس وقت کس کی حکومت تھی کس کی حکومت میں امریکا کے ایک اشارے پر ریمنڈ ڈیوس جیسے قاتل کو با عزت طور پر روانہ کیا گیا بھارتی اورامریکی جاسوسوں کو کس دور میں چھوڑا گیا ،بڑی تلخ اور دکھ بھری تاریخ ہے، ان ہی ادوار میں امریکا نے بھارت سے پینگیں بڑھائیں ،دفاعی معاہدے کیے ایران پر سے پابندیاں ختم کر کے خیر سگالی کا پیغام دیا۔ افغانستان میں فوجیں اتاریں اور بھارت کو اڈے قائم کرنے میں مدد دی، اس وقت کے حکمران لمبی تان کر سوتے اور امریکی ’’نعمتوں‘‘ سے فیضیاب ہوتے رہے،حالات بدلے پاکستان سٹرٹیجک اہمیت اختیار کر گیا۔ چین نے اقتصادی ترقی کی جانب قدم بڑھایا، بلا شبہ آصف زرداری نے اپنے دور میں چین کے کم و بیش تیرہ دورے کیے لیکن چین کی مرضی، اس نے اعتبارنہ کیا اور ایک دھیلا نہ دیا موجودہ حکومت اس سے 54 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرانے میں کامیاب ہوگئی، سی پیک ہماری خارجہ پالیسی کا نکتہ آغاز بنا، ہم نے شاید قبلہ نہیں بدلا لیکن حالات کے تحت منہ دوسرے قبلہ کی طرح پھیر لیا ہے۔ امریکا سے ہماری کیا دشمنی، سب سے دوستی کے خواہاں ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہمسائے ان حالات کو قبول کرنے میں ہچر مچر کر رہے ہیں،ہمیں چین اور ترکی سے دوستی کی سزا مل رہی ہے، سی پیک سے بلا شبہ چین کو اقتصادی ترقی کا راستہ ملے گا۔پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا لیکن ہمسائے امریکا کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں، وزیر خارجہ نہ سہی مشیر خارجہ اس عمر میں بھی خارجہ پالیسی کو واضح شکل دینے اور پڑوسیوں سے دوستی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں لیکن عالمی منافقتوں کے اس دور میں اکیلی حکومت، اکیلا وزیر خارجہ کیا کرلے گا۔ اگر اپوزیشن عقل سے کام لے کر میر تقی میر کی طرح رات دن زور و شور سے رونا بند کردے ملک میں سیاسی استحکام ہو امن و امان ہو تو دشمنوں اور منافق دوستوں کو نقصان پہنچانے کی جرات نہ ہوگی۔