sohail ahmed azmi

دنیا کی مثال، کرپشن اور ہمارا رویہ

امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ بات بڑی اچھے انداز میں سمجھائی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جارہا تھا کہ ایک شیر اس کے پیچھے بھاگا اس کے قریب کوئی بھی درخت نہیں تھا کہ وہ جس پر چڑھ جاتا۔ اسے ایک کنواں نظر آیا اس نے سوچاکہ کنویں میں چھلانگ لگادیتاہوں جب شیر چلا جائیگا تو میں بھی کنویں سے باہر نکل آؤں گا۔ جب اس نے چھلانگ لگانے کیلئے دیکھا تو کنویں میں پانی کے اوپر ایک کالا ناگ تیرتا ہوا نظر آیا۔ اب پیچھے شیر تھا اور نیچے کنویں میں کالا ناگ تھا اور وہ زیادہ پریشان ہوکر سوچنے لگا کہ اب میں کیا کروں اسے کنویں کی دیوار پر کچھ گھاس اُگی ہوئی نظر آئی اس نے سوچا کہ اس گھاس کوپکڑ کر لٹک جاتاہوں
،نہ اوپر رہوں کہ شیر کھائے اور نہ نیچے جاؤں کہ سانپ ڈسے، میں درمیان میں لٹک جاتاہوں جب شیر چلاجائے گا تو میں بھی باہر نکل آؤں گا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے دیکھا کہ ایک کالا اور ایک سفید چوہا دونوں اسی گھاس کو کاٹ رہے ہیں جس گھاس کو وہ پکڑ کر لٹک رہا تھا اب اور بھی پریشانی ہوئی اس پریشانی کے عالم میں جب اس نے ادھر ادھر دیکھا تو اسے قریب ہی شہدکی مکھیوں کا ایک چھتہ نظر آیا اس پر مکھیاں تو نہیں تھیں مگر شہد سے بھرا ہوا تھا۔ یہ چھتہ دیکھ کر اسے خیا ل آیا کہ ذرا دیکھوں تو سہی اس میں شہد کیساہے؟ چنانچہ اس نے ایک ہاتھ سے گھاس کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ کی انگلی پر جب شہد لگاکر چکھا تو اسے بڑا مزہ آیا اب وہ اسے چاٹنے میں مصروف ہوگیا نہ اسے شیر یاد رہا ، نہ ناگ یاد رہا، نہ ہی اسے چوہے یاد رہے، سوچیں کہ اس کا انجام کیاہوگا؟ یہ مثال دینے کے بعد امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں “اے دوست تیری مثال اسی انسان کی سی ہے ملک الموت شیر کی مانند تیرے پیچھے لگا ہوا ہے۔ قبر کا عذاب اس سانپ کی صورت میں تیرے انتظار میں ہے۔ کالا اور سفید چوہایہ تیری زندگی کے دن اور رات ہیں۔ گھاس تیری زندگی ہے جسے چوہے کاٹ رہے ہیں۔ اور شہد کا یہ چھتہ دنیا کی لذتیں ہیں جن سے لطف اندوز ہونے میں تو لگا ہوا ہے۔ تجھے کچھ یاد نہیں ، سوچ کہ تیرا انجام کیا ہوگا” واقعی بات یہی ہے کہ انسان دنیا کی لذتوں میں پھنس کر اپنے رب کو ناراض کرلیتاہے کوئی کھانے، پینے کی لذتوں میں پھنسا ہو اہے اور کوئی اچھے عہدے او رشہرت کی لذت میں پھنسا ہواہے۔ کوئی حکمرانی کے مزے لے رہاہے، یہی لذتیں انسان کو آخرت سے غافل کردیتی ہیں اسی لئے جہاں ترک دنیا کا لفظ آئے گا اس سے مراد ترک لذت ہوگا۔
ہم اگر اپنا محاسبہ کریں تو تقریبا لوگ حب جاء اور حب مال میں ایسے مگن ہیں کہ ہمیں آخرت کے سفر کی پہلی منزل قبر کی فکر تک نہیں ہے ہم اپنی دنیاوی لذتوں، خواہشوں اور ارادوں میں دن رات جتے ہوئے ہیں اور قبر کے اندھیروں، عذاب اور یوم حساب کے دن کی تیاری کو ہم نے پس پشت ڈالا ہواہے۔ ہم حکمرانو ں کی کرپشن کا رونا رورہے ہیں لیکن یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہواہے۔ جسکا جہاں داؤ چلتاہے موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا او رمال بٹورنے اور اعلیٰ سے اعلیٰ عہدہ حاصل کرنے کیلئے تمام منفی حربے ، سازشیں، ذرائع استعمال کرتاہے۔ ہمارا سسٹم اتنا خراب اور کرپٹ ہوچکاہے کہ ہم ایک چپڑاسی کی نوکری پر بھی میرٹ کو چھوڑ کر رشوت، قومیت، علاقائیت، سیاست کا سہار الیتے ہیں۔ حکمرانی حاصل کرنا تو بہت دور کی بات ہے اس کیلئے مال ، جان، وقت، دھونس، دھمکی، دھاندلی، سب کچھ استعمال کیاجاتاہے تب جاکر کہیں حکمرانی ملتی ہے۔ اتنی مشکل سے حاصل ہونے والی حکمرانی کو JITکی رپورٹ پر چھوڑدینے کی ہماری روایت نہیں ہے ہاں اگر ماضی میں ایسی کوئی مثال ملک پاکستان میں موجود ہو جب کوئی حکمران کرپشن کی بنیاد پر مستعفی ہواہو تو پھر بھی کوئی گنجائش نکلتی ہے جب کراچی سے خیبرتک حمام میں سب ننگے ہوں تو پھر نواز شریف سے ایسا مطالبہ کرنا چہ معنی دارد ، ہاں اگر
ہماری عدالت ایسا کوئی تاریخی فیصلہ پہلی مرتبہ کرتی ہے کہ وہ کرپشن کی بنیاد پر موجودہ پی ایم ایل (ن) کے وزیراعظم، ان کے بھائی شہباز شریف و دیگر لوگوں کو معطل کرتی ہے تو پھر دیگر جماعتوں کے کئی کرپٹ سیاسی حکمرانوں ، قائدین کو بھی محاسبے کیلئے تیار رہنا ہوگا کیونکہ کوئی بھی ذی شعور آدمی اپنی آنکھوں سے گلی، محلوں، بازاروں، دفاتر، ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی اداروں ، ٹھیکہ ، تقرریوں، ترقیوں میں کرپشن کے لامتناہی سلسلے کوعرصہ دراز سے دیکھ رہاہے لیکن اسے سسٹم میں بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پستی میں گرتے چلے جارہے ہیں اور ہمیں بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ حکمران ایک دوسرے کو باری باری موقع فراہم کرتے ہیں اور مل جل کر کھاتے ہیں۔ پی ٹی آئی ، پی ایم ایل این کی کرپشن کا رونا رورہے ہیں ، انہیں اپنے صوبے میں کی جانے والی کرپشن نظر نہیں آتی ان کے اپنے ایم این اے داوڑ
خان کنڈی نے راقم کو بتایاکہ پی ٹی آئی کے ناراض قومی و صوبائی اسمبلی کے کچھ نمائندوں نے عمران خان کے حوالے وزیراعلی کے پی کے ، وزیر مال علی امین خان و دیگر کی کرپشن کے دستاویزی ثبوت دئیے لیکن انہوں نے چپ سادھی ہوئی ہے۔ اسی طرح سندھ اور بلوچستان کے صوبے کرپشن کا گڑھ بنے ہوئے ہیں ۔ زرداری او رکرپشن لازم و ملزوم ہیں۔ لاڑکانہ کا شہر جو بھٹو مرحوم کا آبائی گھر ہے میں اربوں روپے کاغذی کارروائی میں لگادئیے گئے آپ چھوٹے شہروں کو تو چھوڑیں سندھ میں عرصہ دراز سے پی پی پی کی حکومت ہے لیکن کراچی، حیدر آباد، جیسے بڑے شہرکے کروڑوں لوگ پینے کے صاف پانی، صفائی، نکاسی آب، صحت، تعلیم کی سہولیات سے محروم ہیں۔ سالانہ کھربوں روپے سندھ حکومت کرپشن کی مد میں ڈکار جاتی ہے لیکن وہ نیب کے محکمے کو ختم کرنے کیلئے بل بھی صوبائی اسمبلی میں پاس کرتی ہے تاکہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو لیکن وہ بھی مطالبہ کررہے ہیں کہ نواز شریف مستعفی ہوجائیں۔ اگر آرٹیکل 62 اور 63 پر ہمارے حکمرانوں کو جانچا جائے تو کوئی بھی اس قابل نہیں کہ وہ صادق و امین کہلائے۔ من حیث القوم ہم سارے کرپشن کا شکار ہیں تمام کرپٹ حکمرانوں، افسران، جرنیل، صنعت کار، تاجران کے خلاف کارروائی بلا امتیاز ہونی چاہئے رہی بات اخلاقیات، کردار، گفتار کی تو اسکا تو جنازہ کب کا نکل چکاہے۔ اخلاقی بنیادوں پر کرپشن منی لانڈرنگ کے الزاما ت لگنے کے بعد نوازشریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وہ لوگ کریں جو خود ایسا کرنے کیلئے تیار ہوں۔ البتہ اگر ہمارے انصاف کے ادارے (سپریم کورٹ) کراس دی بورڈ کرپشن اور ملکی دولت لوٹنے والوں کے خلاف اخلاص کیساتھ شروعات کرنا چاہتی ہے تو پھر اس کی ابتداء کہیں نہ کہیں سے تو کرنا ہوگی۔ بصورت دیگر یہاں تو اکثریت (شہد کا چھتہ) دنیا کی لذتوں میں مصروف ہے اسے اپنے انجام کی بالکل فکر نہیں ہے ہم نے بلوچستان کے ایک رئیسانی کے گھر سے 65کروڑ روپے نقد برآمد کئے جبکہ ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں رئیسانی موجود ہیں جن کے گھروں پر اگر چھاپے لگائے جائیں اور ان کی جائیدادروں کا حساب لگایاجائے تو اتنا مال برآمد ہو کہ نہ صرف ہمارے تمام قر ضے ادا ہوجائیں الٹا ہم قرضے دینے کے قابل ہوجائیں لیکن ایسا کام کرے گا کون؟۔