tariq mehmood ch

دفاعی صلاحیت میں اضافہ ناگزیر

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کے بیان کا منہ توڑ جواب دے دیا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ نیا روپ ایسا نہیں کہ اس کو نظرانداز کر دیا جائے۔ خاص طور پر ایسی صورت حال میں جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو تاریخ کے طویل ترین سفارتی دورے پر بھارت کی راجدھانی نئی دلی کی دھرتی پر موجود ہیں۔ ایسی صورت حال میں جب بھارت کو، اسلحہ کا سب سے بڑا سپلائر، 130 کمپنیوں کے سی ای اوز کے ہمراہ دورے پر ہے، بھارتی عزائم کو سمجھنا ہوگا۔
بھارتی سینا پتی بپن راوت نے سپہ سالاروں کی تاریخ کا غیر ذمہ دارانہ ترین بیان دیا ہے۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھارت میں جرنیلی عہدہ پر پہنچنے کیلئے شاید ذہنی استعداد کو معیار نہیں بنایا جاتا۔ بارہ جنوری کو بھارتی آرمی چیف نے ایک ایسی پریس بریفنگ میڈیا کو دی، جس کے متعلق، متعلقہ صحافیوں کو صرف ایک روز قبل اطلاع دی گئی تھی۔ یہ پریس بریفنگ بنیادی طور پر بھارتی دفاعی تیاریوں، بھارت امریکہ تعلقات اور چین کے ساتھ دفاعی کشیدگی سے متعلق وضاحتوں کے لئے دی گئی تھی۔ زیادہ تر سوالات بھی ان موضوعات پر ہی پوچھے گئے۔ لیکن یہ انڈیا ہے۔ جہاں پر راگ کی تان پاکستان پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ ایک پترکار اٹھا اور طے شدہ پلانٹڈ سوال داغ دیا گیا۔ سوال تھا کہ کیا پاکستان کسی ممکنہ کشیدگی کی صورت حال میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی آپشن استعمال کر سکتا ہے۔ بھارتی آرمی چیف کا بیان غیر ذمہ دارانہ تو تھا ہی، اس بات کا بھی ثبوت تھا کہ وہ پاکستان کی نیوکلیئر استعداد اور اس کی ہلاکت خیزی سے باخبر تو ہے لیکن اپنی قوم کو بیوقوف بنانے کیلئے ادھر ادھر کی ہانک رہا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے متعلق ریسرچ اور اعدادوشمار مرتب کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان جوہری استعداد میں بھارت سے بہت آگے ہے۔ پاکستان ایٹمی صلاحیت میں لیکج نام کی کوئی چیز نہیں۔ جبکہ بھارتی ایٹمی مواد کی چوری اور سمگلنگ معمول کی بات ہے۔ اسی طرح ایٹمی تنصیبات میں حادثات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس نیوکلیئر وارہیڈز کی تعداد بھی بھارت سے زیادہ ہے۔ لیکن یہ بھی معمول کی بات ہے۔ ہتھیاروں کی کمی بیشی سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اصل چیز ان ہتھیاروں کی رینج، استعداد اور ہلاکت خیزی ہے۔ ایک اور اہم چیز۔ ان ہتھیاروں کی اپنے ہدف تک پہنچنے کی ایکوریسی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے بھارتی ایٹمی ہتھیار پاکستان کی بہ نسبت ازکار رفتہ ہیں۔ جن میں سے کئی اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی عمر رسیدہ کھلاڑی کی طرح راستہ میں ہی ہانپ جاتے ہیں۔ پاکستان نے اگرچہ بہت موثر، طویل رینج کے ایٹمی ہتھیار تیار کر رکھے ہیں جن کا رخ بوقت ضرورت تل ابیب کی جانب موڑا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے آج تک کوئی ایسا میزائل نہیں لانچ کیا، جو بین الاقوامی پابندیوں کی حدود سے تجاوز کرتا ہو۔ لیکن پاکستان نے شارٹ رینج میکنیکل ہتھیاروں کی ایسی کھیپ تیار کر رکھی ہے جو کوئی معاندانہ رویہ رکھنے والے بدخواہ دشمن ممالک کے دارالحکومتوں میں بھونچال پیدا کئے رکھتے ہیں۔ یہ شارٹ رینج ملٹی پرپز ہتھیار 50 سے 300 کلومیٹر فاصلے پر واقعہ بھارتی شہروں میں ہمہ وقت ایمرجنسی کی صورت حال طاری رکھتے ہیں۔ ان ہتھیاروں کا فی الحال بھارت کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لہٰذا وہ اپنے غریب اور کیڑوں مکوڑوں سے بھی بدتر زندگی گزارتے عوام سے ٹیکس بٹورنے کیلئے ناٹک رچاتے رہتے ہیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے نام سے بھارتی جنتا کو ڈراوا دیتے رہیں۔ دوسری جانب وہ امریکہ، آسٹریلیا، اسرائیل اور دیگر ممالک سے اسلحہ خریدتے رہیں۔ عوام کے ٹیکسوں سے اسلحہ خریداری کے سودے ہوں گے تو کمیشن کا بازار گرم اور جیب بھرے گی۔ لہٰذا وہ پلانٹڈ سوال ہندوستان ٹائمز کے نمائندے کے ذریعے داغا گیا۔ بنیادی مقصد، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی آمد سے قبل واویلا مچانا تھا تاکہ اسرائیلی سمجھیں کہ ان کا ملک بھارت خطرے میں ہے۔ بھارتی سینا پتی کا ترنت جواب تھا کہ ہمیں حکم ملا تو پاکستان نیوکلیئر حلیف کو چیلنج کر سکتے ہیں اور پاکستان کے اندر گھس کر کارروائی کریں گے۔ خام خیالی کا کوئی علاج نہیں۔ خیالی پلاؤ پکانے کیلئے چاول درکار ہیں نہ چاول۔ بس فرضی ہانڈی چڑھانی پڑتی ہے۔ پاکستان کے اندر گھس کر کارروائی بھارتی پالیسی سازوں کا پرانا خواب ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں وہ سرجیکل سٹرائیکس کے چکر میں کئی بار اپنی سرجری کرا چکے ہیں۔ آج تک ان مبینہ سرجیکل حملوں کے متعلق کوئی دستاویز یا ویڈیو نہیں۔ بس خالی دعوے، بیان بازی، منہ سے ٹھاہ ٹھاہ اور چہرے کے تاثر۔ بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کا شافی جواب دیا گیا۔ پاکستان نے آرمی چیف کے عہدے پر فائز اس کھلنڈرے لڑکے کو بتایا کہ دو نیو کلیئر ممالک کے مابین جزوی جنگ کوئی آپشن نہیں ہوتی۔ اگر کبھی خدانخواستہ ایسا ہوا تو دونوں ممالک پتھر کے دور میں واپس چلے جائیں گے۔ انسانیت عشروں تک اس غیر ضروری جنگ کے بوجھ تلے سسکتی رہے گی۔ اس پریس کانفرنس کے دو روز بعد، بھارتی آرمی چیف نے پھر بیان داغا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سیاسی حل تلاش کرنا چاہتا ہے، لیکن ملٹری آپشن کی موجودگی میں۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ کشمیری حریت پسندوں کو طاقت کے زور پر دباؤ ڈال کر آزادی کے سوا کسی دوسرے آپشن پر بہکانا چاہتا ہے۔ یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم کی آمد سے چند گھنٹے پہلے دیا گیا۔ اسرائیل اس وقت بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ حالیہ دورے میں 50 کروڑ ڈالر کے میزائلوں اور ٹینکوں کی ڈیل بھی فائنل ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی سیکورٹی اہلکار تل ابیب میں کشمیری تحریک مزاحمت کو کچلنے کی بھی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل، بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ ایک واضح شکل اختیار کر چکاہے۔ بھارت ایک جانب ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ دوسری طرف وہ ورکنگ باؤنڈری پر بھی بلااشتعال گاہے بگاہے فائرنگ کرتا رہتا ہے۔ جب بھی موقع ملے۔ انٹرنیشنل بارڈر پر بھی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ جنوبی سرحد سے اس نے داعش اور این ڈی ایس کے جاسوسوں کے ذریعے مستقل دہشت گردی کو ہوا دی ہے۔ کابل اب بھارتی جاسوسوں اور کرائے کے دہشت گردوں کا اڈا بن چکا ہے۔ بلوچستان اور کراچی میں کلبھوش نیٹ ورک بے نقاب ہو چکا۔ اس کے اعترافی بیانات کی ویڈیوز ثبوت بن کر عالمی لیول کے چینلوں کی سکرینوں پر فرد جرم بن کر ہائی لائٹ ہو رہی ہیں۔ بھارتی فیصلہ سازوں کیلئے پریشانی کا ایک اور موضوع، ان کی افواج کی دگرگوں دفاعی صلاحیت ہے۔ آٹھ صوبوں میں علیحدگی پسندی کی تحریکوں، چائنا بارڈر پر مار کھانے، کشمیری حریت پسندوں کے ہاتھوں درگت، افسروں کی جانب سے غیر انسانی رویوں نے ان کو دنیا کی نااہل ترین فورس بنا دیا ہے۔ اب تک کئی ہزار فوجی خودکشیاں کر چکے ہیں۔
امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ افغانستان نے اپنی جانب سے سرحدیں دہشت گردوں کیلئے مستقل کھول رکھی ہیں۔ بھارتی آرمی چیف ہی نہیں مودی جی اور بھارتی وزراء مارچ کے موسم تک جنگ کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ اسرائیل پیسہ، ٹیکنالوجی اور اسلحہ کے انبار بھارت میں بانٹ رہا ہے۔ ایسے میں ہمارے پاس کیا حل ہے؟ کئی دفعہ لکھ چکا ہوں۔ قومی اتحاد۔ ٹیکنالوجی کا حصول اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ۔ اس کے بغیر کوئی اور راستہ نہیں۔