Amir-Mehmood-Khatk-copy-(Da

خیبرپختونخوامیں صنعتوں کی خستہ حالی

اخلاقی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی بھی بہت ضروری ہے یہ ترقی تب ہی ممکن ہے جب حکمران طبقہ قوم اور اقوام کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیں اگر ایک علاقہ یا ریاست مسلسل مسائل کا شکار ہواور ان مسائل سے نظام درہم برہم ہو گیاہو عوام کی زندگی اجیرن بن گئی ہو تو اس نظام کو درست سمت پر لانا تبدیلی کہلاتا ہے خیبر پختونخوا کا صوبہ گزشتہ کئی عرصہ سے مختلف مسائل کا شکار ہے جس میں دہشت گردی سرفہرست ہے اس کے بعد غربت اور بے روزگاری ہے کیوں کہ جہاں امن نہیں ہو گا وہاں بے روزگاری جیسے مسائل جنم لیں گے غربت اور بے روزگاری انسان کو غلامی کی طرف دھکیل دیتے ہیں کیوں کہ انسان جب غربت کے مسائل میں الجھ جاتا ہے تو اسکی آگے بڑھنے اور سوچنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے خیبرپختونخوامیں بے روزگاری کا مسئلہ گھمبیر صورت اختیارکر گیا ہے کیوں کہ گزشتہ دو حکومتوںیعنیMMA،عوامی نیشنل پارٹی اور حا لیہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی سب سے بڑھ کر پاکستان تحریک انصاف جس نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھااس وقت تبدیلی کا نعرہ ہی عوام کو attarctکرتا تھاباقی دو جماعتوں کو تو عوام دیکھ چکی تھی اس لیے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو تبدیلی کے نعرے کے ساتھ ووٹ دیا تھااور تبدیلی کے اس نعرے میں معیشت کی ترقی بھی شامل تھی اور معیشت میں ترقی ہمیشہ میگا پروجیکٹس،پروڈکشن یعنی صنعتکاروں کو سہولیات اور protection دینے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ انڈسٹری لگانے سے او سرمایہ کاری سے ہوتی ہے اگر ہم پچھلے دو حکومتوں اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر نظر دوڑائیں تومعیشت کے ترقی میں پوری طرح ناکام نظر آتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے ان تینوں ادوار میں نہ تو کوئی خاص انڈسٹری لگی ہے اورنہ ہی کوئی میگا پروجیکٹ جس سے عوام کو کوئی فائدہ ہوا ہے خیبرپختونخوا میں گدون ،عطار ، منڈیاں ایبٹ آ باد، حیات آبادانڈسٹریل سٹیٹ اور کوہاٹ روڈ پر سمال انڈسٹریل سٹیٹ میں انڈسٹری موجود تھیں اس کے علاوہ کوہاٹ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں چند ملز موجود تھیں مگر ان انڈسٹریل زون میں موجود صنعتوں کو ترجیح نہ دینے کی وجہ سے یہاں انڈسٹری بندہوتی گئی مزودر بے روزگار ہوتے گئے اور صنعتی پےۂ رکتاگیا اب جس صوبے میں پہلے ہی انڈسٹری کم ہو اور پھرجو موجود ہو اسکو ترجیح نہ دی جائے تو بے روزگاری کے ساتھ ساتھ مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو روزی روٹی کے لیے دور دراز علاقوں میں جانا پڑتا ہے سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہے دوسری طرف اس صوبے میں قدرتی معدنیات موجود ہے گیس ،تیل، جپسم اور کوئلہ کے وسیع ذخائر موجود ہے حکومت نے ان قدرتی معدنیات سے بھی کوئی استفادہ حاصل نہیں کیااخلاقی ترقی تو مضبوط نظام سے ممکن ہوتی ہے مگر مضبوط نظام تب ہی پروان چڑھتا ہے جب وہاں کے عوام معاشی طور پر خوشحال ہوں غربت سے تنگ عوام ہمیشہ مضبوط نظام کو تہس نہس کردیتے ہیں اس لیے تو مشعال خان جیسے واقعات جنم لیتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کے ترقی کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے ہیں خیبرپختونخوا کی حکومت نے نوشہرہ،بنوں،ہری پور،ڈیرہ اسماعیل خان اور کرک میں انڈسٹریل زون کا اعلان تو کیا ہے مگر عملی طور پر انڈسٹری کو پروموٹ کرنے کے لیے کوئی اقدامات بھی نہیں کیے گئے اور نہ ہی کوئی معاشی پالیسی وضح کی گئی جن اضلاع کو حکومت نے انڈسڑیل زون کے لیے نامزد کیا ہے دیکھا جائے تو انڈسٹریل زون کے لیے موضوع ہیں خاص طور پر ضلع کرک کو کیوں کہ وہاں گیس اور تیل کے زخائیر موجود ہیں اور صنعتکار ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اب حکومت کو معاشی پالیسی واضح کرنی چاہیے اور معاشی پالیسی کا دائرہ خوشحالی پر منحصر ہونا چاہیے جو تکنیکی ترقی پیداوار میں اضافے کا سبب بنے ٹیکسوں کا دائرہ بھی مناسب نوعیت کا ہوجس میں صنعت کاروں کے ساتھ ساتھ صارفین کو بھی فائدہ ہو کیوں کی ٹیکسوں کا زیادہ بوجھ صارفین کواٹھانا پڑتا ہے بجلی اور گیس کی سہولیات بھی میسر ہوں اور میٹریل کی فراہمی میں اسانی ہوچھوٹے صنعتی یونٹوں اور چھوٹے تاجروں کو کریڈٹ اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی سہولیات فراہم کریں عالمی منڈیوں تک لوکل تاجروں کی رسائی ممکن بنانے کے لیے اقدامات کرے سب سے بڑھ کرصنعتکاروں اور صنعتوں کو protection فراہم کرے بھارت چین سمیت پوری دنیا وسیع معاشی پالیسی پر عمل پیرا ہے عالمی معاشی ادارے بھی اس پر عمل کر رہیں ہیں خاص طور پر چین نے پوری دنیا میں صنعتی ترقی کر کے عالمی منڈیوں پر قبضہ کیا ہوا ہے لیکن ہماری حکومتیں معاشی ترقی کے اقدامات سے عاری نظر آتی ہیں کیوں کہ معاشی ترقی سے خوشحالی آتی ہے بے روزگاری کا خاتمہ ہوتا ہے آمدن میں اضافہ ہوتا ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اس طرف توجہ دیتے ہوئے ترجیحاتی بنیادوں پرصنعتی ترقی کیلئے اقدامات کرے جب تک معاشی ترقی نہیں ہو گی عوام خوشحال نہیں ہونگے اور زہنی طور پر آزاد نہیں ہونگے اس وقت تک تبدیلی کا نعرہ صرف اور صرف عوام کو دھوکا دینے کے مترادف ہے