dr-azhar-waheed

خیال۔۔۔اور صاحبِ خیال !

خیال کا تعلق عرش سے ہے ۔۔۔ اور یہ عرش کو فرش سے متعلق کرنے کیلئے آتا ہے ۔ خیال کی اَذاں ٗبر سرِ عرشِ جنوں بلند ہوتی ہے ۔۔۔ اور سرِفرشِ عقل سنائی دیتی ہے۔ طائرِ خیال ٗ سرِ لامکاں سے آتا ہے ٗ اسلئے اس کے قیام کا محل قلب ہی قرار پاتا ہے ۔۔۔ کہ قلب ہی کون و مکاں میں لامکاں کا قائم مقام ہے۔ خیال بنانا نہیں پڑتا ۔۔۔ بلکہ بنا بنایا آتا ہے۔۔۔ جس پر آتا ہے ۔۔۔بس آتاہی چلا جاتا ہے۔ خیال کا ہماجس کے سر پر بیٹھ جائے ‘ اسے صاحبِ خیال بناکر جاتا ہے۔کسی صاحبِ خیال کے وجود کے بغیر ۔۔۔ خیال کی چاپ سنائی نہیں دیتی ۔صاحبِ خیال کا خیال نہ ہو تو خیال کسی صورت الہام پذیرنہیں ہوتا ۔ صاحبِ ِ خیال جب خیال عطا کرتا ہے تو اسے اپنے طالب کے وجود کا حصہ بنا دیتا ہے۔ اب وہ آئینے میں خود کو دیکھے یا خدا کو ۔۔۔ ایک ہی بات ہے۔۔۔ شرک کی کوئی بات نہیں۔شرک اور شک تو دوئی کے وہم سے جنم لیتے ہیں۔ خیال جب وجود کا اثاثہ بن جاتا ہے تو نظرمالی اثاثوں سے اٹھ جاتی ہے۔ صاحبِ خیال کی نظر میں امیراور غریب برابر ہیں۔۔۔ بلکہ اکثراوقات وہ غریبوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔۔۔ ظاہر ہے غریب نوازی اس پر فرض ہو چکی ہوتی ہے۔ دراصل خیال کرنے سے خیال ملتاہے۔ جسے خیال ملتا ہے وہ خیال کرتا ہے ‘ کمزوروں کا ، غریبوں کا، بے نواؤں کا۔ خیال کی نوا اپنے لیے ہوتی ہی کب ہے؟ خیال کو غربت نقصان نہیں دیتی ۔۔۔ خیال کا زوال امارت میں ہے یا پھر امارت کے خیال میں! امارت کا خیال ‘ دراصل خیال کی غربت کے سبب ہوتا ہے۔ بہر حال طالب اور مطلوب کے درمیان تعلق کی ایک راہ ہے جو رسم سے فارغ ہے۔۔۔ اسے خیال کہتے ہیں۔ جب طالب کے دیدہ و دل اپنے مطلوب کی آہٹ کیلئے فرشِ راہ ہو جائیں تودل و دماغ میں خیال کی صفیں بچھنے لگتی ہیں ۔۔۔لیکن جب اسی دِل میں کسی بدگمانی کی گرہ لگتی ہے ٗتو خیال کے سورج کو گرہن لگ جاتا ہے ۔۔۔ اور یہ صف لپیٹ دی جاتی ہے۔
خیال‘ تجرید ہے ۔۔۔ وجود ‘تجسیم!!۔۔۔اور صاحبِ خیال ۔۔۔ تجسیم اور تجرید کے درمیان ایک برزخ میں کھڑا ہے ۔۔۔ وہ تجرید سے پیغام وصول کرتا ہے اور اس پیغام کی حدتِ نورسے پگھل کر۔۔۔ خیال کو اپنے کردارمیں ڈھالتا ہوا ۔۔۔ خود کو اس پیغام کی مجسم صورت بنالیتا ہے۔
خیال اور سوچ میں فرق ہے ۔۔۔اور یہ وہی فرق ہے جو شئے اور لاشئے میں ہے۔ لاشئے اشیاء سے ماوراء ہے۔ لاشئے اشیاء کی کیمسٹری جانتی ہے ۔۔۔ اشیاء پر متصرف ہے ۔۔۔ لیکن اشیاء سے بے نیاز ہے۔خیال مادّی اشیاء سے اس طرح بے نیاز جس طرح مشیتِ خداوندی سبب اور نتیجے سے بے نیاز ہے۔ خیال آشنا مشیت آشنا ہوتا ہے۔ سوچ کا تعلق صرف ذہن سے ہے ۔۔۔ ذہن ٗ سوچنے کی ایک دماغی صلاحیت ہے ۔ دماغ ایک ایسے کمپیوٹر کی طرح ہے جو اپنی یاداشت کی ڈسک پر محفوظ معلومات ہی کو پروسیس کرتا رہتا ہے ۔ دماغ پہلے سے حاصل شدہ معلومات کا محتاج ہے ۔۔۔ اور سوچ ‘ انہی معلومات کے تجزیئے (analysis) اور تسویئے(synthesis) کا نام ہے ۔ عالم ظاہر میں فکر کی نظرجہاں دم توڑ دے ٗوہیں سبب کی میخ گاڑ دی جاتی ہے ۔اس لئے اکثر صاحبانِ غورو فکر ٗکے نزدیک خیال کے ظہور کا مصدربھی دماغ ہے ۔۔۔ لیکن خیال کی صورت میں اس نزدیک کو دُور سے تعلق ہے ۔۔۔ اب اس کی مثال وہ کمپیوٹر ہے جو عالم بالا (internet)سے منسلک ہے۔ اس کے پاس ہر لمحے تازہ خبر ہے ۔۔۔ گذرے ہوئے کل کی بجائے ٗ آج کی خبر ہے ۔ صاحبِ خیال ٗ بندۂ باخبر ہے ۔۔۔ وہ غیر ضروری خبروں سے نجات حاصل کر چکا ہے ۔لطف کی بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی طرح عالم بالا کے بھی تمام رابطے اور ضابطے اِدھر زمین ہی پرطے پاتے ہیں۔ دُعا یہاں کی جاتی ہے ٗ قبول وہاں ہوتی ہے ۔۔۔ خدمت یہاں کی جاتی ہے ٗ باریابی وہاں ملتی ہے۔۔۔سجد�ۂ تسلیم زمینِ وجود پر کیاجاتا ہے ۔۔۔ رضا کا قیام آسمانِ خیال پر میسرآتا ہے۔
سو۔۔۔غور وفکر بھی دو قبیلوں سے تعلق رکھتا ہے ۔۔۔ایک تفکر زمینی ہے اور ایک آسمانی! سائنسدان کا تفکر مادّی سطح پر ہوتا ہے ۔۔۔ اور بندہِ مومن ٗ صاحبِ تسلیم و رضا۔۔۔ صوفی۔۔۔ کاغور و فکرروحانی سطح پر کام کرتا ہے ۔ایک مادّی سائنسدان کا تفکر۔۔۔ محض ’کیا‘ اور’ کیسے ‘ تک محدود رہتا ہے ۔ کیا‘ اور ’کیسے ‘ کا علم اسے مادّی طاقت دیتا ہے ۔۔۔ اور اسی طاقت کے بل بوتے پر وہ مادّے پر عارضی اور عارئیاتی تصرف حاصل کر لیتا ہے ۔۔۔مگر مادے پر یہی تصرف پھر اُس کی روح کو ڈس لیتا ہے ۔وہ مادی آسائش اور کشائش تو حاصل کر لیتا ہے ٗ مگر سکون سے محرومی کی شکل میں اِس کا خراج بھی اَدا کرتا ہے۔ وہ نفع کے لالچ میں کاربارِ زندگی میں گھاٹے کا سودا کر لیتا ہے ۔۔۔وہ زیاں کے ڈر سے سود کاکاروبارکرتا ہے ۔۔۔ اور پھر ہمیشہ کیلئے دشتِ سود وزیاں میں بھٹکتا ہے ۔ طاقت کا زور اُسے زَر دیتا ہے اور پھراِسی زَر کے زورپر وہ دنیا کو جنت زار بنانے کا وعدہ کرتا ہے ۔۔۔مگر انجام کارٗ اِس دنیا کو زَر سے محروم لوگوں کیلئے ایک جہنم زار بنا دیتا ہے۔ دراصل وہ نمروداور شداد کے نقش قدم پر چلتا ہوا ٗدنیا میں جنت بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔لیکن ابھی پوری طرح قدم نہیں رکھ پاتا ٗکہ عافیت کی روح قبض ہو جاتی ہے ۔
سائنسدان کے برعکس ایک صوفی کا غور و فکر ’کیوں‘ سے شروع ہوتا ہے ۔۔۔اور ’کیوں‘ ۔۔۔ غائت دریافت کرنے کا نام ہے ۔ غائت۔۔۔آغازِ سفر ہی سے انجامِ سفر سے باخبررکھتی ہے۔نقطہ انجام سے باخبر مسافر کی چال اور چلن اس مسافر سے مختلف ہوتا ہے جو اپنے انجام سے بے خبر ہے۔ انجام پر نظر رکھنے والوں کا نہ خیال بھٹکتا ہے ٗ نہ قدم!!انجام ہی آغاز کو بامعنی بناتا ہے۔ نقطہ اختتام ہی کسی سفر کو اس کے مفہوم سے آشنا کرتا ہے ۔ صوفیاء اکرام جب کثرت سے دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ کرتے ہیں اور موت کو یاد رکھنے کی بات کرتے ہیں۔۔۔ تو اس سے کیا مراد ہے ؟ موت کو یاد رکھنا ۔۔۔دراصل انجامِ سفر کی نشاندہی کرنا ہے۔زندگی ایک سفر ہے اور اس کا انجام موت ہے ۔۔۔سچا آدمی موت کو پہلے یاد کرے گا ۔۔۔ اور زندگی کو بعد میں! جھوٹا آدمی ٗموت کی نہ تمنا کرے گا ،نہ موت کو یاد رکھے گا۔۔۔ اس کی نظرزندگی کی مصنوعی روشنیوں کی چکا چوندسے چندھیا جاتی ہے ۔ یوں وہ بصارت کے ساتھ ساتھ نورِ بصیرت بھی کھو بیٹھتا ہے ۔ درحقیقت مابعد۔۔۔ زندگی کے بعد کا منظر ہوتا ہے ۔ اپنی صلاحیتوں اور جذبوں سمیت زندگی کے سفر ہی میں خرچ ہو جانے والا ۔۔۔ مابعد میں طلوع ہونے والا منظر کیسے دیکھ پائے گا؟
تفکرکی اصل ۔۔۔ظاہری کائنات سے باطنی کائنات دریافت کرنا ہے۔ غائتِ سفر کی طرف توجہ رکھنے والا غور و فکر کے آلات سے باہر کی کائنات سے باطن کی کائنات کی خبر وصول کرتا ہے ۔۔۔ وہ تجسیم سے تجرید کی طرف سفر کرتا ہوا ۔۔۔ مجاز سے حقیقت کی طرف ۔۔۔ظاہر سے باطن کی طرف ۔۔۔لفظ سے معنی کی طرف ۔۔۔ جسم سے چہرے کی طرف ۔۔۔اور مادّے سے روح کی طرف ہجرت کرجاتا ہے ۔
صوفی کاتفکر غائتِ وجود دریافت کرتا ہے ۔ غائتِ وجود۔۔۔بیک آنِ واحد ابتدائے تخلیق کی بھی خبر دیتی ہے اور انتہائے تخلیق کی بھی! ۔۔۔ابتدا اور انتہا جس نقطے میں اکٹھے ہو جائیں ۔۔۔ وہ نقطہ ہی نقطہ تکمیل کہلاتا ہے۔دائرہ ۔۔۔جہاں سے شروع ہوتا ہے ‘وہیں پر ختم ہوتا ہے ۔ آغاز کو اختتام سے واصل کرنے والانقطہِ کامل و اَکمل ۔۔۔نقطہِ خاتم بھی ہوتا ہے ۔
نوعِ انسانی کو تخلیقِ کائنات کی غائتِ اُولیٰ کے متعلق پہلی اورواحد خبر۔۔۔محسنِ انسانیت ؐ مخبرِ صادق ؐ پیغمبرِ کامل و اکمل ٗخاتم الانبیاء سرکارِ دو عالمؐ نے ایک حدیث قدسی کی صورت میں یوں بہم پہنچائی ۔۔۔ کنت کنز مخفی فاحببت من عرف فخلقت الخلق ۔۔۔ ’’ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں ٗپس میں نے خلق کیا‘‘۔۔۔ ۔۔۔ یہی حدیثِ دل تصوف کی بنیاد ہے!!