tariq mehmood ch

حلقہ این اے 120

آج، این اے حلقہ نمبر 120، قومی اسمبلی کی نشست کیلئے جاری انتخابی مہم کا آخری روز ہے۔ آج رات 12 بجے۔ انتخابی قوانین کے مطابق آج رات 12 بجے انتخابی مہم اختتام پذیر ہو جائے گی۔ اگلے دو روز کارنر میٹنگ، ڈور ٹو ڈور، مہم چلائی جا سکتی ہے۔ انفرادی رابطے کئے جا سکتے ہیں۔ ریلی، جلسے، جلوس کی اجازت نہ ہوگی۔ ٹھیک تین دن بعد اتوار کی صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک انتخابی معرکہ برپا ہوگا۔ سوموار کی صبح جب اس شکستہ قلم، کیمرہ و قلم کے مزدور کی اگلی تحریر، آپ کے ذوق بصارت پر امتحان بن کر سامنے آئے گی اس تاریخی معرکہ کا حتمی نتیجہ سامنے آ چکا ہو گا۔ پیشہ ورانہ اخلاقیات، انتخابی نتائج پر کسی قسم کے تبصرے کی اجازت نہیں دیتے۔ لہٰذا فی الحال اس قسم کی دانشورانہ حرکت سے گریز کروں گا۔ اس قسم کا تبصرہ بھی نہیں کروں گا جس طرح ماضی میں سپورٹس کے ایک تجزیہ نگار کیا کرتے تھے۔ موقر اخبارات میں سے ایک کے جزوقتی تجزیہ نگار، کسی بھی اہم کرکٹ میچ کے متعلق تبصرہ، قبل از وقت لکھتے۔ دونوں ٹیموں کی خوبیوں، خامیوں، کھلاڑیوں کے ماضی، وکٹ کی صورت حال سمیت، ایک طولانی بحث شروع کر کے آخر میں تجزیہ کو ایک فقرہ لکھ کر وائنڈ اپ کر دیتے کہ میچ وہی ٹیم جیتے گی جو اچھا کھیلے گی۔ اب ایسا آفاقی تجزیہ ہماشما کے بس کی بات نہیں ہے۔ ویسے بھی شیدا ٹلی ہی کی اتنی ہمت ہے کہ ہزاروں پیشین گوئیوں کی ناکامی کے بعد طمطراق سے سکرین پر آتے اور اگلی پیشین گوئی کر کے پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔ اپنی اخلاقیات میں تو اس کی گنجائش ہی نہیں۔ ایک دفعہ خبر باؤنس ہو گئی تھی، باسز نے تو کوئی بات نہیں کی۔ البتہ مارے ندامت کے کئی روز تک سکرین پر آنے کو دل نہ چاہا۔ لیکن گرگٹ کی طرح رنگ آئے روز بدلنے اور پارٹی بدلنے والوں کو اخلاقیات سے کیا تعلق۔ بات کسی اور طرف نکل گئی۔ این اے 120 میں کیا ہوگا؟ کون جیتے گا؟ کون ہارے گا؟ کس کی مات اور کس کی جیت ہوگی۔ اس ایک حلقہ کے ضمنی انتخاب کو اس قدر اہمیت کیوں دی جا رہی ہے۔ آیئے، جائزہ لیتے ہیں۔
پاکستان کی جمہوری تاریخ میں، جو نہایت مختصر ہے۔ 35 سال سے زائد عرصہ تو مارشل لاء رہا۔ جمہوری ادوار میں بھی اگر نگران حکومتوں کے ادوار کو بھی شامل کر لیا جائے تو مارشل لائی ادوار کا پلڑہ بھاری ہی نظر آئے گا۔ انتخابات کی تاریخ کا آغاز 1970ء میں ہوا تو چشم فلک نے، اس مختصر عرصہ میں عام انتخابات اور ضمنی الیکشنوں کے ان گنت معرکے دیکھے۔ ضمنی انتخابات کا ماحول عام طور پر نسبتاً پھیکا ہوا کرتا ہے۔ جیت بھی عام طور پر اسی کی ہوتی ہے جو مرکز یا صوبہ میں حکمران ہو۔ برصغیر کا ووٹر، حلیے سے کتنا ہی اول جلول، جھلا، کملا نظر آئے۔ ووٹ ڈالتے وقت غلطی نہیں کرتا، کر جائے تو پھر پہلی فرصت میں اس کا کفارہ ادا کرتا ہے۔ ضمنی انتخابات عام طور پر ایک سے زیادہ نشستوں پر جیتنے والے قائدین، ممبر منتخب ہو کر وفات پا جانے یا کسی عدالتی فیصلہ سے ڈس کوالیفائی ہو جانے یا مستعفی ہو جانے کے بعد منعقد ہوا کرتے ہیں۔ بڑے قومی لیڈروں کی خالی نشستیں، اکثر ان کے نامزد کردہ کارکن ہی جیتا کرتے ہیں۔ یہ اعزاز قائد محترم عمران خان کو حاصل ہوا۔ اپنی خالی چھوڑی ہوئی دو نشستیں، این اے ون پشاور اور این اے 72 میانوالی، ضمنی انتخابات میں ہار گئے۔ ویسے تو 2013ء سے آج تک منعقدہ ضمنی انتخابات میں اکثر سیٹیں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے ہی جیتیں۔ البتہ لودھراں میں ضمنی انتخاب منعقد ہوا تو جہانگیر ترین،
خوش قسمت رہے اور سیٹ جیت گئے۔ کیسے؟ معلوم نہیں۔ علاقہ مکین بتاتے ہیں کہ دوران الیکشن، ٹریکٹروں اور موٹر سائیکلوں کی سیل بڑھ گئی۔ لاہور کی تاریخ میں بائی الیکشن کے بڑے بڑے گھمسان کے معرکے برپا ہوئے۔ 1988ء کا شدید سیاسی محاذ آرائی کا دور تھا۔ پیپلزپارٹی مرکز اور مسلم لیگ (ن) پنجاب میں حکمران تھی۔ ایک دوسرے سے برسرپیکار لشکر آمنے سامنے تھے۔ لاہور کے سرحدی علاقہ سے منتخب حاجی اصغر گھرکی فوت ہو گئے۔ حلقہ خالی ہوا۔ ان کے صاحبزادے میدان میں اترے۔ ارشد گھرکی ان کا نام تھا۔ میدان میں چودھری ذوالفقار تھے۔ یہ الیکشن حلقہ 99 کے نام سے مشہور ہوا۔ فاتح ضمنی انتخاب۔ پرویز الٰہی، نوازشریف کے سالار اعلیٰ تھے۔ مرکز نے غلام مصطفی کھر کو میدان میں اتارا۔ مرکز کے پاس بانٹنے کیلئے بہت کچھ تھا۔ صوبے کے خزانوں کے منہ بھی کھل گئے۔ یہ الیکشن زندگی، موت کا مسئلہ بن گیا۔ کشیدگی کا یہ عالم تھا کہ سارا حلقہ ایک دوسرے سے متصادم نظر آتا تھا۔ سیاسی جماعت کے رضاکار کی حیثیت سے دوسرے شہر سے آ کر خاکسار نے ایک دیہی پولنگ سٹیشن ڈیوٹی کی۔ لاہور کے سرحدی دیہات کا کلچر، کہاں انقلابی لٹریچر پڑھنے والا اپنے تئیں، دانشور۔ واپسی پر تھپڑوں کا تحفہ لے کر رخصت ہوا۔ البتہ خوشی یہ تھی کہ اس وقت پسندیدہ پارٹی کا امیدوار جیت گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی صوبائی اسمبلی کے ایک حلقہ میں الیکشن ہوا۔ بچپنے کا دور تھا، وہ الیکشن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ البتہ دائیں بازو کے جہادی قلمکار اس ضمنی الیکشن کو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف فرد جرم کا لازمی نکتہ سمجھتے ہیں۔ بہرحال لاہور میں ضمنی انتخاب کا آخری معرکہ دو سال پہلے اس وقت ہوا جب عمران خان کے مطالبے پر حلقہ این اے 122 کھول دیا گیا۔ دھرنا کے بعد برپا یہ معرکہ بھی مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ منتخب اس حلقہ سے ایاز صادق ہوئے تھے۔ عام انتخابات میں عمران خان اسی نشست سے ہارے۔ یہ شکست ان کو ناگوار گزری۔ سونامی کی خیالی لہروں پر سوار کو یہ بات ہضم نہ ہوئی۔ حلقہ کھلا تو بجائے خود میدان میں آنے کے ارب پتی علیم خان کو میدان میں اتار دیا۔ اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی ہچکاہٹ نہیں کہ علیم خان نے یہ الیکشن یادگار بنا دیا۔ پیسہ پانی کی طرح بہایا، نہیں بلکہ لٹایا۔ شکست گولی کی مانند ایاز صادق کے کان سے چھو کر گزر گئی۔ حلقہ این اے 120 کی نشست میاں نوازشریف نے خالی کی۔ اس حلقہ سے مسلم لیگ (ن) ہی ہمیشہ فاتح رہی۔ نوازشریف کی غیر موجودگی میں پرویز ملک اور بلال یاسین آرائیوں اور کشمیریوں کے اکثریتی حلقوں سے جیتے۔ اب اس حلقہ سے ایک زمانہ میں مزاحمت کی علامت، بیگم کلثوم نواز امیدوار ہیں۔ وہ علالت کے ہاتھوں لاچار ہیں۔ میاں نوازشریف بھی اہلیہ کی تیمار داری کے سبب ملک میں موجود نہیں ہیں۔ شہباز شریف انتخابی قوانین کی مجبوریوں کے سبب انتخابی مہم میں شریک نہیں۔ لاہور کو عملاً کنٹرول کرنے والے حمزہ شہباز بعض خانگی مصروفیات کی وجہ سے بیرون ملک ہیں۔ البتہ وہ روانگی سے پہلے ایک منظم سیٹ اپ تیار کر کے گئے ہیں۔ جو متحرک ہے، اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ این اے 120 کا الیکشن مریم نواز تن تنہا لڑ رہی ہیں۔ ان کی انتخابی مہم داتا دربار سے شروع ہوئی۔ اسی روحانی مرکز پر نوازشریف نے اپنی احتجاجی ریلی ختم کی تھی۔ مریم نواز ہر روز غروب آفتاب سے قبل، جنگجو شہزادی کی طرح نکلتی ہیں۔ حلقہ کے مرد و زن بے اختیار گلیوں میں نکل آتے ہیں۔ پھر رات گئے وارفتگی، الفت اور سیاسی بحث کے انوکھے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔ ایک طویل عرصہ ہوا ایک سیاسی گھرانہ کی غیر سیاسی خاتون سیاسی انتخابی معرکہ کیلئے میدان میں اتری ہیں۔ اب تک کا رسپانس غیر معمولی ہے۔ وہ اپنے ووٹر کو جو پیغام دینا چاہتی ہیں۔ اس کے ابلاغ میں کامیاب رہی ہیں۔ معمر عورتیں، بوڑھے، سفید ریش بزرگ، گھریلو عورتیں، مزدور، تاجر، گھنٹوں پیدل ان کے ساتھ چلتے ہیں۔ ہر روز مہکتے گلابوں کی پتیاں ان پر نچھاور کی جاتی ہیں۔ یہ معرکہ اب کلثوم نواز اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے مابین نہیں بلکہ ووٹ کی حرمت، اس کے تقدس، ووٹر کے احترام اور پی ٹی آئی کے مابین ہے۔ جس نے اپنے ساڑھے چار سال انگلی کھڑی ہونے کے انتظار میں ضائع کئے۔ ابتدا میں مریم نواز کی انتخابی مہم کو سنجیدگی سے نہ لینے کے بعد عمران خان مضطرب ہو کر خود میدان میں اترے۔ لیکن قرطبہ چوک کا جلسہ عام واٹر لو ثابت ہوا۔ کم از کم لاہور کی حد تک۔ ماضی میں اس حلقہ کے الیکشن، مسلم لیگ (ن) نے بھاری اکثریت سے جیتے۔ اس حلقہ میں جانے کا موقع نہیں ملا۔ ابھی تک نہیں۔ ٹی وی سکرین، حلقہ کی تاریخ، عمومی مشاہدہ کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ انتخابی نتائج کیا ہوں گے۔ لیکن نہیں، نتائج کا فیصلہ، عوام نے 17 ستمبر کو کرنا ہے۔ ان کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔ البتہ ایک بات بالکل واضح ہے کہ ایک فریق ایسا ہے جو بھاری اکثریت سے جیتے گا۔ لاہور چھپ کر فیصلہ نہیں کرتا۔ اس کے فیصلے دیوار پر لکھے صاف نظر آتے ہیں۔ یہ فیصلہ بھی لکھا صاف نظر آتا ہے۔