nawaz-khan-meranii-new-copy

حضرت بی بی معصوم زینبؓ سے معصوم زینب تک

جب سے معصوم زینب کے ساتھ بھارتی شیوسینا ”دلتوں “ کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں، وہ سلوک ”پاک وپوتر‘ ‘ پاکستان میں ہوگیا ہے، مجھ سمیت ہر شاعر اور ہر قلمکار کو ہر پل بے کل کرکے رکھ دیا ہے۔
نجانے کیا بات ہے، یہ واقعہ آزادی حیوانیات کے ستر سالوں میں پہلی دفعہ تو نہیں ہوا، اب تو اخبارات نے ”جرائم اورجنسیات“ کی اس دوڑ میں کارکردگی دکھانے کے لیے الگ صفحات مخصوص کردیئے ہیں۔ اس ”دوردرندگی“ میں ”کرائم رپورٹر“ کی شان وشوکت اتنی بلند ہوگئی ہے، کہ ڈی پی اوزاُن کو اخلاق حسنہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑی تک چھوڑنے آتے ہیں۔
اور آئی جی ”انسائیکلوپیڈیاپولیس“ کو اپنے ساتھ چائے پینے کی دست بستہ درخواست کرتے ہیں۔ ایسا آخر وہ کیوں کرتے ہیں، شاید سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کا قیامت سے پہلے قیامت اور روزِ محشر والا ” روز حساب“ خدا کی بجائے خدائی خدمت گزار انسان کو لیتے دیکھ کر مجبوراً اور بادل نخواستہ طواہاً وکراماً کرتے ہیں۔
زینب کے کیس میں آئی ٹی کے سربراہ عمر سیف نے تمام تفصیل مہیا کردی ہے ، اب انسانیت کے نام پر انسانیت سوز واقعہ کی تحقیقات کے لیے ، اب دیکھنا چاہیے کہ وہ اب کب آئی جی سے ذاتی طورپر درخواست کرتے ہیں۔
کیونکہ زینب کی لاش ڈھونڈنے پر دس ہزار دینے کا مشورہ حکم کی صورت میں دینے والے ڈی پی او کی سزا بھی وہی ہے، جو رشوت مانگنے اور دینے والے کی ہوتی ہے۔ مشتاق سکھیرا کے علاوہ بھی کسی پولیس والے کے خلاف لکھنا بھی، انصاف کے حصول میں مدد دینے کے مترادف ہے۔
زینب جیسے واقعات کیوں رُونما ہوتے ہیں ؟ اِس پر تفصیل سے غور کرنا چاہیے، میں سمجھتا ہوں کہ سندھ میں نصاب میں بچوں کو اِس صورت حال سے آگاہی کے لیے معلومات فراہم کرنا، احسن اقدام ہے۔
آج سے صدیوں پہلے رسول پاک کے گھرانے اہلِ بیت ؓکے ساتھ کیا ہوا تھا، گھرانہ رسول کی معصوم اور پاک دامن بیبیوں کے ساتھ جو شرم ناک اور تماش بینوں کا ہوس ناک مظاہرہ کیا گیا، اُنہیں شام کے بازاروں میں چادروں کے بغیر ننگے سر گھمایا گیا، یہی وجہ ہے کہ وہاں ابھی تک امن وامان قائم نہیں ہوسکا، دربار یزیدیت میں بی بی زینبؓ کا خطاب خطبہ حجة الوداع کے بعد تاریخ کا یادگار خطبہ ہے، جو قیامت تک مسلمانوں کے دل کو جھنجھوڑتا رہے گا ، اور ان کے ضمیروں پہ کچوکے لگاتا رہے گا۔
جب یزید اپنے اقتدار اور تخت شہنشاہیت پہ فروکش ہوا، تو اس نے حضور کی قائم کردہ شرعی حدود وقیود سے نہ صرف تجاوز کیا، بلکہ تعزیری، اور دوسرے قوانین سے بھی اپنی مرضی کی ترمیم کرڈالیں، مثلاً اس بدبخت نے دو بہنوں سے بیک وقت شادی کو جائز قرار دے دیا۔تب بھی فسقِ وفجور تھا اور اب بھی فسق فجور کا دور ہے۔ پاکستان کی بھی یہی بدبختی ہے کہ ایک خالصتاً اسلامی ملک میں انگریزوں کا قانون نافذ ہے۔ اگر اسلامی قانون رائج ہوتا، تو معصوم زینب کے ساتھ یہ واقعہ پیش نہ آتا، اصولی طورپر زینب کے والدین کو زینب کو اپنے ساتھ لے جانا چاہیے تھا، سرائیکی کی ایک مثال ہے، کہ
سو(ولے) تے ہک راہ
سو ماسیاں تے ہک ما
یعنی سو خالائیں ، مل کر بھی ایک ماں جیسی نہیں بن سکتیں ۔ہوسکتا ہے، کہ زینب کے والدین کے پاس اتنی رقم کا بندوبست نہ ہو، اور وہ اس بچی کو اپنے ساتھ نہ لے جاسکے ہوں۔
مگر جہاں انصاف کا معیار دوہرا ہوگیا ہو، غریب کے لیے انصاف اور امیر کے لیے اور، سابق چیف جسٹس چوہدری افتخار کہتے ہیں کہ میں اگر چیف جسٹس ہوتا، تو ملزم اب تک گرفتار ہوگیا ہوتا۔ بہرکیف اس وقت چونکہ اس واقعہ کو سیاسی رنگ میں بھی نہیں دینا چاہتا۔ موجودہ چیف جسٹس کہتے ہیں ، کہ مجھے اور میری اہلیہ کو زینب والے واقعے کا شدید دکھ ہے۔ بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ بغیر نقشے کی منظوری کے بنی ہے، چیف جسٹس نے کہا ہے، کہ چونکہ یہ بن چکی ہے، لہٰذا میں گرانے کی بات نہیں کرتا، وہ اب نقشہ منظور کروالیں۔
اب ان کامعیار انصاف دیکھیے کہ کراچی میں بنی ہوئی بہت بڑی عمارت اور شادی ہال، انہوں نے اپنے حکم سے گروا دی ہیں۔ اُنہیں بنانے والوں پر ذراترس نہیں آیا کہ ان کی زندگی بھر کی کمائی اُس پر لگی ہے، اور یہی ان کا ذریعہ روزگار بھی ہے۔
اگر وہ ان پر جرمانہ لگادیتے، چاہے وہ بہت زیادہ رقم کا ہوتا تو حکومت کے خزانے میں بھی اضافے کا باعث بنتا، مجھے چیف جسٹس سے ذاتی پرخاش یا عدوات نہیں، میں نے تو صرف یہ پڑھا کہ جو دوسروں پہ رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اُس پر رحم نہیں کرتا ۔قانون کا احترام بہت ضروری ہے، اور اس پر عمل کرنا بھی ہم سب کا فرض ہے، مگر مصلحت، دوراندیشی اور کارِ خیر سے بھی کام لینا ضروری ہے۔ میں نے اپنے گھر میں By Lawsکی خلاف ورزی کرتے ہوئے، دو کمرے تعمیر کرائے، تو مجھے اٹھارہ لاکھ ادا کرنے پڑے، جو میری برداشت سے بھی باہر تھے، کیونکہ عمارت پر بھی خرچ ہوچکا تھا، مگر جرمانے سے میرا ضمیر بھی مطمئن ہے…. اور میری ضرورت بھی پوری ہوگئی ہے۔
میں کہنا تو صرف یہ چاہتا ہوں، کہ حضرت عمرؓ کے دور میں چرواہے، بھیڑیوں سے بچاﺅ کے لیے کوئی بندوبست نہیں کرتے تھے، اور بھیڑیوں کی مجال نہیں تھی کہ وہ کسی بھیڑ کو چیر پھاڑ کر کھا سکتے۔ جیسے پہلے عرض کرچکا ہوں، حضور نے خود فرمایا ہے کہ نمازیوں کے کردار، اور خیال کی سوچ کا اثر امام پر بھی پڑتا ہے، اور وہ نماز بھول جاتا ہے۔ اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ عوام کی سوچ، ذہنیت اور کردار کا اثر حکمرانوں پر بھی پڑتا ہے، جس کا مظاہرہ ہم نے قصور میں دیکھا ہے کہ درندوں نے زینب کو چیرپھاڑ کر نوچ ڈالا ہے، خدا کے لیے کم ازکم اس مجرمانہ فعل کی سزا تو اسلامی ہونی چاہیے۔ ٹرمپ کی بجائے اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا چاہیے۔ امیر تیمور جیسے ظالم حکمران کے دور میں عزت وعصمت محفوظ تھی، تو رانا ثناءاللہ کے دور میں کیوں نہیں ہوسکتی۔ بقول فیض احمد فیض :
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے
منصف ہوتو اب حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے