Asif-anayat-final-new

حسن نثار :باکمال دوست، وضع دار مخالف

ہمدم دیرینہ جناب ابرار بھٹی ایک خاندانی،وضع دار اور انتہائی دانشور انسان ہیں۔ ان کے والد صاحب جناب چوہدری محمد سردار خان بھٹی محکمہ پولیس میں گزیٹڈ آفیسر ہوتے ہوئے وہاں سے 53سال کی عمر میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے گئے۔ ابرار بھٹی کی جناب حسن نثار کے ساتھ پرانی دوستی تھی۔حسن بھائی نے اپنی پہلی کتاب کا انتساب بھی بھٹی صاحب کے نام کیا تھا۔میں نے مجیب الرحمن شامی کا ایک کالم پڑھنے کے بعد کالم پڑھنے چھوڑ دیے تھے ماسوائے منو بھائی کے۔ میرے سسر جو محکمہ فوڈ میں ڈائریکٹر ریٹائر ہوئے کی پنشن کا مسئلہ تھا۔ ابرار بھٹی نے جناب حسن نثار سے اس مسئلہ پر کالم لکھوایا۔ کالم چھپ گیا مگر جناب حسن نثار سے ملاقات نہ ہوئی۔ کچھ دن بعد میں نے دوستوں کے ڈنر کا اہتمام کیا ،تیس چالیس لوگ تھے۔ ابرار بھٹی نے جناب حسن نثار کو بھی دعوت دی۔ ڈنر والے دن ایک بانکا سا، سجیلا سا، شرمیلا سا، بے باک سا ہیروسا، لیڈر سا، دانشور سا، عاشق سا ، کرانتی کاری سا، محب وطن سا، ایک لڑاکا سا، ڈھولن سا، ماہیا سا، بابو سا، ڈان سا، اوکھا سا، شائستہ سا، شاعر سا، رپھڑی سا، جانباز سا، محبتی سا اور انتہائی معصوم سا شرٹ کے باز وکہنیوں سے ذرا نیچے تک ٹرن کیے لیفٹ ہینڈ پیلے رنگ کی مرسڈیز گاڑی کے اندر شفاف ترین عینک لگائے محبت بانٹتی ہوئی اور غور کرتی ہوئی شعور بھری آنکھوں کے سا تھ دیکھتے ہوئے کلین شیو جوان ابرار بھٹی کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوا۔ گاڑی بڑی مہارت اور چہرے پہ بے نیازی کے ساتھ پارک کی، گاڑی سے باہر نکلے تو میں نے بطور میزبان خوش آمدید کہا ، ابرار بھٹی نے تعا رف کروایا۔ آصف بٹ اور مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے جواں سال شخصیت کا تعارف حسن نثار۔ یہ شاید 1993-95ء کی بات ہے۔ حسن بھائی ان دنوں عمران خان اور حمید گل پر امید لگائے ہوئے تھے، ہم نے بھی ایم آر ڈی اور وکالت کے پیشے میں نوجوانوں کی لیڈری کی ہوئی تھی، میں حسن بھائی سے متفق نہ ہوا۔ گپ شپ رہی۔ پھر حسن بھائی سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ میں 1998ء میں ماڈل ٹاؤن جناب پرویز صالح کے گھر شفٹ ہو گیا اور اب حسن نثار صاحب سے محلے داری بھی ہو گئی، بہت ملاقاتیں رہیں۔ معظم بھائی(جنت مکین ) کے شو روم پر ، میرے گھر، دفتر جہاں بھی حسن بھائی سے کہامردم بیزار ہونے کے باوجود ہمیشہ محبت سے پیش آئے۔ کئی مسائل پر اور کئی دوستوں کے لئے کالم لکھوائے جن کی خاطر خواہ پذیرائی ہو۔ مجھے یاد ہے حسن بھائی کی بیٹی محمدہ کی سالگرہ تھی اس میں جناب ابرار بھٹی اور میرے بیوی بچوں کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔ میرے بچے امیر حمزہ کے لیے حسن بھائی نے کہا کہ میری پری ڈکشن ہے حمزہ کہہ رہا ہے جس فیلڈ میں جاؤں گا پکڑ سکتے ہو تو پکڑ لو اور روک سکتے ہو تو روک لو کامیاب ہوں گا۔ حسن بھائی کے گھر بہت محفلیں ہوئیں۔سیاست کے بڑے بڑے سرخیل حسن بھائی کی ہاں میں ہاں نہیں بلکہ ہاں میں جاں ملاتے دیکھے۔ جیسا کہ سارا پاکستان جانتا ہے حسن بھائی کا تعلق لائل پور سے ہیں، ایک کھاتے پیتے باپ کے بیٹے ہیں جو ہندوستان سے جالندھر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے ۔ علم و ادب والے اور لوک پال گھرانے سے ہیں۔ حسن بھائی گوجرانوالہ میں بھی ہمارے دکھ درد میں شریک رہے ۔ میری والدہ صاحبہ میرے والد صاحب، معظم بھائی کے وصال پر تشریف لائے۔ لوگوں میں اس وقت بھی مقبول تھے مگر افسانوی مقام اور کردار جو آج حاصل ہے اس کی بات ہی الگ ہے ۔ ایک واقعہ جو معظم بھائی نے پہلوانی کے نقطہ نظر سے سنایا کہ ایک آدمی اپنی بھینس کے بچے کو گردن اور کندھوں پر بٹھا کر اپنی حویلی کی سیڑھیاں چڑھ جایا کرتا تھا۔ یہ دن میں تین چار مرتبہ کرتا وہ بچھڑی بھینس بن گئی۔ اب اس شخص کو لوگ دور دور سے دیکھنے آتے کہ فلاں آدمی بھینس گردن اور کندھوں پر اٹھا کر سیڑھیاں چڑھ جاتا ہے۔ اس سے پوچھا کہ آپ کی خوراک اور کثرت کیا ہے اس نے بتایا کہ یہ بچی تھی روزانہ اٹھا کر یونہی کیا کرتا تھا پتا نہیں یہ بھینس کب بن گئی۔ حسن نثار ماڈل ٹاؤن میں کرائے کے گھر پر اپنی خودی، انا پرستی اور افکار کے ساتھ لوگوں کا دکھ سپرد قرطاس کرتے رہے حکمران طبقوں کامنہ چڑاتے رہے۔ آج جب میں ان کے گھر ان کی والدہ ماجدہ کی تعزیت کے لیے جناب ابرار بھٹی ، اعظم بھائی ، گلزار بھائی کے ساتھ گیا تودیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اُن کی شہرت بچھڑی سے بھینس نہیں ہاتھی بنی بڑھی۔ میرے وطن کا لکھاری اور دانشور علامہ اقبال کی خودی کے تصور کا پیکر بنا بیٹھا ہے۔ ایک ایسا مسلمان جو دین کے پیغام کا تو قائل اور عاشق رسولؐ بھی ہے مگر مسلمانوں سے ناراض ہے ۔وہ تیس سال سے لوگوں کے دکھوں کا رونا رو رہے ہیں۔ سٹیٹس کو میں نئی بات کیا کر سکتے ہیں، حسن بھائی میرے مطابق سال میں تین چار بار ہی کالم لکھتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ حسن نثار کسے کہتے ہیں، جن کی فوٹوکاپیاں کروا کر لوگ بانٹتے ہیں اور فون کر کے کہتے ہیں حسن نثار کالم پڑھو۔ باقی تو عوامی نمائندگی میں بات کرتے رہتے ہیں اور وہ بھی ایسی کہ کسی پارلیمنٹ رکن اور سٹیک ہولڈر کو نصیب نہیں۔ حسن صاحب کی گفتگو سنی، میں سوچ رہا تھا یہ سوکھے باپ کے اوکھے بیٹے اب ایک مکتب فکر بن چکے ہیں، ایک درس گاہیں، ایک حکایت ہیں، ایک تاریخ ہیں، ایک ضرب المثل ہیں، ایک قابل تقلید ہستی۔ ان کے افکار ایک حقیقت ہیں۔ وہ مسلمانوں کے ماضی پر کھڑے ہو کر بات نہیں کرتے حال میں رہتے ہوئے مستقبل کے لیے تجویز دیتے ہیں ۔ بنیاد پرستوں کے لیے بہت بڑی میڈیسن ہیں۔
حالات پر ، انسانوں کے مسائل ومصائب پر، جس قدر ان کی گرفت ہے کسی دوسرے کی نہیں ۔ ایک کالم ،ایک ٹی وی پروگرام میرے مطابق جناب حسن نثار کو سننے کے لیے جو کہ ایک بین البراعظمی ، بین الاقوامی، علمی ، ادبی ، سیاسی ، شخصیت ہیں ناکافی ہیں اِن کے لئے تو ایک چینل مخصوص ہونا چاہیے۔ یقین کیجیے ایک ایک فقرہ ایک ایک لفظ پورا پورا کالم کیا پوری پوری کتاب کا عرق بلکہ پوری تاریخ اور تہذیب ہے۔ جناب حسن نثار جیسے لوگ جس معاشرے میں موجود ہوں اس معاشرے کی آواز دبانا نا ممکن ہے۔ ایک اینگری میں دکھائی دیتے ہیں مگر وہ اپنے نہیں لوگوں کے دکھ کی بات کرتے ہیں۔ میں نے ان کے کالم ہر ایک کے حق اور مخالفت میں پڑھے ہیں۔ در اصل جیسے الفاظ اور رویے کا کوئی مستحق ہو حسن نثار سمجھوتہ نہیں کرتے ویسا ہی رویہ رکھتے ہیں ۔چلتے لمحے میں حسن نثار جیسا دانشور کوئی دوسرا نہیں ہے۔ مورخ آج کے دور کو منو بھائی اور حسن نثار کے دور سے منسوب کرے گا۔ حسن بھائی کو عرصہ بعد ملا تو مجھے ملتے ہی کہا کیا حال ہے جناب سینئر تجزیہ کار صاحب اور ساتھ مسکرائے جیسے جھارا پہلوان کسی لاغر سے کہے کہ پہلوان جی کیا حال ہے۔ مگر حسن بھائی کے لہجے میں محبت تھی مجھے احساس ہواکہ میں جو کافی عرصہ ان کی محفل میں نہ چاہتے ہوئے بھی شریک نہ رہا اس عدم شرکت کا ازالہ ممکن نہیں۔ حسن بھائی کے افکار، ان کا بیان، ان کا انداز، ان کی سچائی اور بے باکی سے کوئی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وطن عزیز کا ایک عظیم سپوت ہے۔وکالت میں میرے سینئر وکیل جناب خواجہ جاوید صاحب کہا کرتے تھے کہ بچوں کی پرورش جنگلی بلی کی طرح ہونی چاہیے جو اس معاشرت میں اپنا حصہ خود لے لیں۔ حسن نثار جیسے لوگ اگر انڈیا میں بھی ہوتے تو دلیپ کمار، سلمان خان ، شاہ رخ خان ،رائٹر گلزار، جاوید اختر، کمال امروہوی، ساحر لدھیانوی، کیفی اعظمی اور دیگر لوگوں کی طرح ڈیڑھ ارب لوگوں میں اپنا آپ منوا لیتے۔ بلکہ دنیا کے کسی خطے میں بھی ہوں تو اپنا لوہا منواتے اور پہچان بناتے۔ حسن بھائی دوست بھی کمال کے ہیں اور مخالف بھی وضع دار ہیں ۔ ان کی شاعری، نعت ، نثر، تجزیے، گفتگو، کردار ایک جاندار، جانباز اور حقیقت پسند دانشور کا پتا دیتے ہیں۔ ان پر ایک کالم ناکافی ہے وطن عزیز کا سرمایہ ہیں۔ اللہ سلامت رکھے۔