meer moeed

حدیبیہ کیس ، مستقبل لندن کیوں ؟؟

اگر پاکستان کی مغرب نواز آئیڈیالوجی جو کہ جنرل یحییٰ کے وزیر اطلاعات جنرل شیر علی خان آف پٹودی کی سازشِ شرمناک تھی کو نظر انداز کردیا جائے اور قائداعظم کی تقاریر ، اقبال کے کلام و خطبات ، ذولفقار علی بھٹو کی1967ء میں مطبوعہ کتاب ” دی متھ آف اینڈیپنڈینس ” وغیرہ کو سامنے رکھاجائے تو پاکستان کا مطلب واضح ہو جاتا ہے ۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے لا الہ اس کا آئین اولین اور مقصد و محور ہے اور مسلمانوں کی حفاظت اور بالخصوص “اپنے باشندوں” کی فلاح کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنا اس فلاحی ریاست کا نصب العین ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے بڑے اسلام آباد کے بجائے خود کو اور اپنی دولت کو لندن میں محفوظ کیوں سمجھتے ہیں۔ اور ان کی وجہ سے ملک میں انتھک محنت کر کے کمائے گئے سرمائے اور مقام کے مالک سرمایہ دار خود کو غیر محفوظ کیوں محسوس کرتے ہیں۔
ہم سے غلطی کہاں ہوئی ہے ؟ انگریز کی غلامی سے نکلنے کے باوجود انگریز ساخت کے انگریزوں سے بدتر لیڈر چننے کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو دماغ میں یوں گھومتا ہے کہ عقل متحیر و متغیر ہو جاتی ہے کہ ہم نے ہندوستان تقسیم میں جو خون بہایا اور جو قربانیاں دیں کیا وہ آزاد اسلامی مملکت کے بجائے محض ہندو سے علیحدگی کے لیے تھیں۔ چونکہ ہندوؤں سے علیحدگی کے بعد تو ہم انگریزوں کے غلاموں کے غلام بن گئے۔ اشرافیہ نے اپنی اقدار کودوام بخشنے کے لیے ہمیشہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی طرف یتیم بچے کی طرح دیکھا اور اپنی نسلوں کے لیے قوم کی نسلوں کو تباہ و برباد کر تے رہے۔اور اپنے لیے اربوں روپے کمانے کی خاطر ملک کے کھربوں روپے کو بلی چڑھاتے رہے۔
جب لیڈر کے بچے خود لندن میں رہتے ہوں۔ اسکا کاروبار ، علاج معالجہ عیدیں سب کچھ لندن میں ہوں تو پھر پاکستان میں وہ خدمت کے لیے نہیں آئے گا بلکہ حدیبیہ پیپر مل کی طرح کا کوئی کاروبار سوچ کر آئے گا جو اس کا کالا دھن نہ صرف سفید کر دے بلکہ اس میں کئی صفروں کا بھی اضافہ کردے۔ یہ کہانی اسحاق ڈار اور لندن کی قاضی فیملی کے گرد گھومتی ہے۔قاضی فیملی اسحاق ڈار کے قریبی عزیزوں میں تھی۔ اس بات کا علم فی الحال کسی کو نہیں کہ قاضی فیملی بھی اس زمانے میں شریف خاندان کی منی لانڈرنگ میں ملوث تھی یا پھر جیسا کہ انکا موقف ہے کہ یہ سب ان کی لاعلمی میں کیا گیا۔پانامہ کیس کی سماعت کے دوران مسعود قاضی کے بیٹے کاشف قاضی نے سپریم کورٹ کو خط لکھا جس میں انہوں نے یہ دعوی کیا کہ مے فیر کے اپارٹمنٹس اسی منی لانڈرنگ کے پیسے سے خریدے گئے ہیں جو ان کے والد کے اکاؤنٹس کے ذریعے ہوتی تھی۔ انہوں نے مزید لکھا کہ وہ ایک محب وطن پاکستانی ہیں اور اگر عدالت انھیں تحفظ فراہم کرے تو وہ سپریم کورٹ میں گواہی دینے کو بھی تیار ہیں۔
صورت حال اور بھی دلچسپ تب ہوتی ہے جب اس سب کے ساتھ 2000 ء میں دیے گئے اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کو دیکھیں ان کے مطابق 90 ء کی دہائی میں انہوں نے میاں نواز اور شہباز شریف کے کہنے پر بینک آف امریکہ میں طلعت مسعود قاضی اورسکندرہ مسعود قاضی کے نام پر دو اکاؤنٹس کھلوائے اور ان اکاؤنٹس کے لیے جہاں جہاں بھی ان دو افراد کے دستخط کی ضرورت ہوتی وہ بھی اسحاق ڈار خود ہی کرتے یہ منی لانڈرنگ صرف بینک آف امریکا نہیں بلکہ سٹی بینک،التوفیق انوسٹمنٹ بینک،ال برقا اور بھی دیگر کئی بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوا کر کی جاتی۔پیسہ پاکستان سے قاضی خاندان کے جعلی بینک اکاؤنٹس میں جاتا اور پھر واپس حدیبیہ پیپر ملز کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جاتا اور اس طرح بڑی آسانی سے کالا دھن اجلا سفید دھن ہو جاتا۔مشرف کے دور میں حدیبیہ کا کیس کھولا گیا مگر بعد میں کیس کو کھولے جانے کے مقاصد پورے ہونے پر اسے فی الفور بند کردیا گیا۔
آج جسٹس آصف سعید کھوسہ کے حدیبیہ پیپر مل کیس سننے سے انکار پر سپریم کورٹ کا بنچ ٹوٹ گیا ہے اگر اس کیس کا فیصلہ پانامہ کیس کے فیصلے کی طرح مؤثر ہوا اور شریف خاندان کے خدشات درست ثابت ہوئے کہ انھیں کوئی فیصلہ ان کے حق میں آتا دکھائی نہیں دیتا تو پھر اسحاق ڈار کے ساتھ نواز شریف اور شہباز شریف بھی لندن میں دکھائی دیں گے اور حمزہ شہباز بھی اپنے کزنز کے ساتھ لندن کے کسی پر تعیش فلیٹ میں اپنے سیاسی اور کاروباری مستقبل کی تگ دو کرتے پائے جائیں گے۔ یہ مسئلہ نواز شریف کا ہی نہیں ہے الطاف حسین سے لے کر آصف علی زرداری تک اورکمانڈو مشرف سے لے کر نواز شریف تک سب ہی بلوچستان کے باغی حربیار مری کی طرح ملک سے باہر کسی جائے پناہ میں مستقل مسکن رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو اب شاید ملک واپس نہیں آسکتے البتہ لائے جا ئیں گے لیکن وہ بڑے لیڈر جو ملک میں آتے جاتے رہتے ہیں ان کی دولت ملک میں نہیں آ سکتی البتہ وہ بھی ایک دن لائی جائے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ شاہ ایران کی طرح ہمارے ملک کے بڑے بھی اپنی دولت ملک سے باہر رکھتے کیوں ہیں۔ کیا ملک میں ان کے اثر و رسوخ کی کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ کیا عوام اتنے باشعور ہوگئے ہیں کہ ان کو پکڑ لیں گے یا ان کے سرسے اقتدار کا ہما اڑائیں گے اور کسی ایسے کے سر پر بٹھا دیں گے جو ان کااحتساب کرے گا۔ یا پھر یہ کہ ملک کے ادارے اتنے
مضبوط ہوگئے ہیں کہ ملک کے وزیر اعظم یا کسی وزیر کو کرپشن کی بدولت پابند سلاسل ہونا پڑ سکتا ہے یا پھرکسی باوقار ملک کی طرح بدعنونی کی سزا موت بھی ہو سکتی ہے۔ابھی ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ ملک میں جو ملتی جلتی صورت حال پیدا ہوتی دکھائی دیتی ہے وہ بھی چند ناموں کی الٹ پلٹ اور چند شخصیات کے ایک پارٹی سے نکل کر دوسری پارٹی میں چلے جانے پر یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ حالات معمول کے کرپٹ عناصر کے حق ہیں اور رہیں گے۔ تو پھر یہ دولت ملک سے باہر رکھ کر ملکی اشرافیہ کو کیا فائدہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چور کا سب سے بڑا خوف اس کا اپنا ماضی ہوتا ہے اور چور کا سب سے بڑا خدشہ اس کا مستقبل ہوتا ہے۔ اور یہ خوف اور خدشہ ہی اس کے حال کا آئنہ دار ہوتا ہے۔ اس وقت شریف فیملی کا سب سے بڑا ڈر حدیبیہ پیپر مل ہے اور سب سے بڑا خدشہ اس کیس کا وہ فیصلہ ہے جس کا عوام کو انتظار ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کواسلام آباد اور لاہور کے بجائے لندن اچھا لگتا ہے۔