abdul sattar awan

جنگ آزادی 1857ء کے ہیروزکو سلام

گزشتہ دنوں خانقاہ بھرچونڈی شریف کے متعلق ہمارے ایک کالم میں مختصرطور پر جنگ آزادی1857ء کا ذکر آگیا تھا۔اس پر ایک معزز قاری نے توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ آپ شہدائے وطن پر بے شمارتحریریں لکھ چکے ہیں ، کیا ہی اچھا ہو 1857ء کے ہیروزپربھی کچھ لکھ ڈالیں کہ جنہوں نے تحریک آزادی ہند کی بنیاد رکھی تھی،لہذا آج کے کالم میں مختصر طورپر مجاہدین آزادی کاذکر کیاجاتا ہے۔افسوس یہ بھی ہے کہ بہت سے مورخین نے آزادی کی اس جنگ کو’’ غدر‘‘ یا’’ بغاوت ‘‘ سے تعبیر کیاجو سراسر غلط ہے ۔برصغیر کے تمام فرقوں اورمذاہب نے اس جنگ میں حصہ لیا تھا اور انگریز کی غلامی سے نجات کے لئے تاریخی جدوجد کی تھی۔یہ صر ف اور صرف جنگ آزادی تھی اور اسے غدر یا بغاوت کے نام سے موسوم کر نا درست نہیں ۔جب ہم 1857ء کے واقعات کا ایک جائزہ لیتے ہیں توہمیں علماء ،صوفیا ء اور مجاہدین کا کردار بڑا جرات مندانہ اور دلیرانہ نظرآتا ہے۔ خطہ برصغیر کے حریت پسندوں ، آزادی کے متوالوں نے اس تاریخی جنگ میں جو سزائیں کاٹیں اور معتوب ہوئے یہ انہی قربانیوں کا صلہ ہے کہ آج میں اور آپ آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔اہل قلم اور دانش وروں ، علمائے
کرام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان ہیروز کو یاد کرتے رہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔جنگ آزادی1857ء میں حصہ لینے والے سرفروشوں کی ایک طویل فہرست ہے جن پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں ، ان حریت پسندوں کا ذکر صرف ایک کالم میں ممکن نہیں۔رائے احمد نواز کھرل، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، عمائدین درگاہ بغیہ شریف،حافظ محمد ضامن شہید،علمائے صادق پور،مسلمانان شاملی و تھانہ بھون،مولوی احمد اللہ شاہ اور مجاہدین روہیل کھنڈسے لے کر خانقاہ نیازیہ اور علمائے رام پورتک ‘ایک طویل فہرست ہے علماء،صوفیاء اور مجاہدین کی جوآزادی ہند کے لئے برطانوی استعمار کے خلاف عملی طور پر میدان کار زار میں اترے۔
اس جنگ کے اہم مراکز شاملی اور تھانہ بھون کے قائد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ تھے۔حاجی صاحب انگریز کے خلاف جدوجہد میں مولانا قاسم نانوتویؒ ،مولانارحمت اللہ کیرانویؒ جیسے ساتھیوں کے ہمراہ میدان میں اترے اور آزادی کی جنگ لڑی ،اسی موقع پر مجاہد آزادی حافظ محمد ضامن شہید ہوئے۔بریلی کے خان بہادر خان انقلابی مجاہدین کے شانہ بشانہ ترلائی کے جنگلات میں کئی ماہ تک انگریز کے خلاف لڑتے رہے اورایک دست بدست معرکہ کے بعد گرفتار ہوئے ۔1860ء میں انہیں پھانسی دے کر نامعلوم مقام پر دفن کر دیا گیا۔ جنگ آزادی میں مولوی احمد اللہ شاہ ؒ کا نام نامی فہرست ہے ۔ ان کی جدو جہد دیکھتے ہوئے انگریز نے اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ اس مرد مجاہد کا کردار دنیا بھر کے حریت پسندوں کے ہاں ہمیشہ مشعل راہ رہے گا اور اس کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا رہے گا‘‘۔یہ مرد مجاہد گرفتار ہوئے، ان کا سرتن سے جد ا کر دیا گیا ، کہاجاتا ہے کہ ان کا سرشاہ جہان پور کی جامع مسجد کے قریب دفن ہے ۔پنجاب کے رائے احمد خان کھرل شہید کا نام تو کسی تعارف کا محتا ج نہیں،آپ بہت بڑے مجاہد آزادی تھے۔ قصبہ گوگیرہ ضلع ساہیوال کے رہنے والے تھے۔جنگ57ء میں ان کا کردار سرفہرست نظرآتاہے ۔ رائے احمد خان کھرل اور ان کے دوستوں نے پنجاب میں انگریز کے خلاف تحریک کا علم بلند کیا ۔دریائے راوی ، ستلج اور چناب کے ارد گرد جنگلات میں اس مجاہد آزادی کا بسیراتھا۔رائے احمد خان کھرل شہید نے گوگیرہ جیل پر دھاوا بول کر سینکڑوں مجاہدین آزادی کو انگریز کی قید سے نجات دلائی ۔تخت برطانیہ نے دھرتی کے اس وفادار بیٹے کو خطابات اور اعزازات کا لالچ دیا لیکن اس نے پائے حقارت سے یہ پیشکش ٹھکرا دی اور آزادی کا سفر جاری رکھا۔اس کے جانباز ساتھیوں میں مراد فتیانہ اور شجاع بہادر کا نام لیا جاتا ہے ۔مئی1857ء سے جون 1858ء تک مسلسل انگریز کے خلاف برسرپیکا ر رہے اور بیسیوں انگریزوں کوانجام تک پہنچایا۔ رائے احمد خان نے آخر کار ایک مقابلے میں جام شہادت نوش فرمایا۔ حیدر آباد دکن کے مجاہد مولوی طرہ بازخاں اس جنگ میں شدیدزخمی حالت میں گرفتار ہوئے اور کچھ دن بعد انگریزکی حراست سے فرار ہوگئے۔ بعدمیں انگریز کے وفاداروں نے اس مرد مجاہد کو شہید کر کے اس کی لاش زنجیروں میں جکڑ کر شہر کے چوراہے میں لٹکا دی ۔کہاجاتا ہے کہ آندھراپردیش میں اس مجاہد آزادی کا مجسمہ آج بھی نصب ہے۔جس وقت جنگ آزادی کے شعلے بلند ہوئے سید گلزار علی اور سید شبیر علی نے مراد آبادمیں آزادی کا پرچم لہرایا، یہ سرفروش انگریز سرکار اور ان کے وفادار نوابوں کے خلاف برسرپیکار رہے، شبیر علی گرفتار ہوئے اور انہیں کالاپانی میں قید کر دیا گیا جہاں انہوں نے 1890 میں شہادت پائی ۔گلزار علی کی گرفتاری پر انگریز سرکارنے بھاری انعامات مقرر کئے لیکن یہ ہاتھ نہ آئے اور گوشہ گمنامی میں ہی کہیں وفات پا گئے۔فتح پور کے جج دیوان حکمت اللہ خان بھی انقلابیوں کے راہنماؤں میں شامل ہو گئے تھے۔انہوں نے تادم آخریں انگریز فوج کا مقابلہ کیااور گرفتار کئے گئے ۔انہیں مختلف اذیتیں دی جاتی رہیں اور
بالآخر اس مرد جری کو پھانسی دے دی گئی ۔لکھنو کے آغا مرزا بڑے بے باک اور نڈر انسان تھے ، زخمی حالت میں گرفتار ی کے بعد پھانسی پر جھول گئے۔اعظم گڑھ کے شیخ رجب علی دریائے ٹونس کنارے انگریز فوج کے کمانڈر بیلسن سے برسرپیکار رہے ۔انگریز شیخ رجب علی کا سر کاٹ کر اپنے ساتھ لے گئے اور ان کی جائیداد ضبط کرلی۔پٹنہ بھی جنگ آزادی کا مرکز رہا ، مولانا پیر علی پٹنہ کے رہنے والے تھے۔وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میدان عمل میں اترے اور ان کی قیادت میں ہندو ، سکھ، مسلم اور دیگر مذاہب کے حریت پسند جمع ہوئے۔مولانا اور ان کے ساتھیوں نے جم کر انگریز کا مقابلہ کیا ۔ پیر علی اپنے تیس جانثاروں سمیت گرفتار ہوئے ۔ انگریز نے پیر علی سے کہا کہ اگر وہ اپنے دیگر حریت پسندوں کو گرفتار کر وا دیں تو انہیں معافی مل سکتی ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور تختہ دار پر لٹکا دیئے گئے۔
قارئین!تصویر کا دوسرا رخ اور کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ اس جدو جہد آزادی میں اپنے لوگوں کی غداری کی بھی ایک الگ تاریخ ہے جسے کھنگالنے بیٹھا جائے تو ان ’’وطن فروشوں‘‘ کے کالے کارناموں سے کئی ورق سیاہ کیے جا سکتے ہیں۔ان غداروں اور انگریز کے وفاداروں کا ذکر ہم پھر کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔