tofeeq butt

جنازے !

جو لوگ عاصمہ جہانگیر کی وفات کے بعد اُس پر تنقید کر رہے ہیں ، مجھے اُن پر ذرا حیرت نہیں ہو رہی۔ گندگی سے کبھی خوشبو نہیں آتی۔ ہم نے منفی سوچ کو ہی ہمیشہ پروان چڑھایا۔ عاصمہ جہانگیر کے بعض نظریات سے مجھے بھی اختلاف تھا، جس کا اظہار اپنے کچھ کالموں اور تقریروں میں بھی میں کرتا رہا ہوں۔ مگر میرا یہ اختلاف اُس کے جرا¿ت مندانہ کردار کے آگے ہمیشہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتا تھا۔ گند پرستوں کو کون سمجھائے کسی سے اختلاف کے لئے زندگی ہوتی ہے موت نہیں ہوتی۔ میری کم ظرفی کی یہ انتہا ہوگی اُس کی وفات پر اُس کے بعض نظریات سے اختلاف کی میں کوئی گنجائش ڈھونڈ لُوں۔ ہم سب نے مرنا ہے۔ مرنا مگر کسی کو یاد نہیں۔ ہمارا دین کہتا ہے ” جب کوئی اِس دنیا سے رخصت ہو جائے اُس کی صرف خوبیاں بیان کرو“۔۔۔ مگر جو ہمارا اپنا اپنا ”دین“ ہے وہ کہتا ہے ” کسی کو اُس کی زندگی میں معاف کرو نہ اُس کے مرنے کے بعد کرو“۔۔۔ کسی کی خرابیاں بیان کرتے کرتے پوری زندگی ہم گزار دیتے ہیںاور کسی کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے ہمیں موت پڑتی ہے۔ اِس رویے نے دنیا میں ہمیں ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیا ہے۔ ہماری رسوائیوں میں دِن بدن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ دو ٹکے کی دنیا میں ہماری عزت نہیں ہے۔ معاشرہ بداخلاقی کی انتہا پر ہے۔ جس معاشرے میں مرتے ہوئے کسی شخص کی جیبوں سے لوگ پیسے نکال لیں، مرتی ہوئی کسی عورت کی چوڑیاں اُتار لیں، چوڑیاں اُتارنے میں کوئی مشکل پیش آئے اُس کے بازو تک کاٹ لیں وہاں بعد از مرگ ایک عورت کو گالیاں دینا کون سی بڑی بات ہے؟ عورت کو گالی دے کر ہم ویسے بھی بڑے خوش ہوتے ہیں۔ ہماری ”مردانگی“ کی ایک علامت یا ثبوت یہ بھی ہے۔۔۔ ایک عورت کسی اللہ والے کے پاس گئی، عرض کیا” میرا خاوند نامرد ہے، میں اُس سے خلع لے سکتی ہوں؟“۔ اللہ والے نے فرمایا ” ہاں تم ایسا کر سکتی ہو“۔۔ کچھ دِن بعد اُس عورت کا خاوند اُس اللہ والے کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا ”حضرت میری بیوی جھوٹ بولتی ہے کہ میں نامرد ہوں۔ اُس میں سے میرے تین بچے ہیں“۔ اللہ والے نے اُس عورت کو بلایا اور پوچھا ”تم نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا کہ تمہارا خاوند نامرد ہے؟ “وہ بولی ” سرکار میں نے اُسے ”نامرد“ اِس لئے کہا کہ وہ مجھے گالی دیتا ہے“۔۔۔ عاصمہ جہانگیر کو اُس کی زندگی میں اتنی گالیاں شاید اِس لئے نہیں دی گئیں وہ اِن گالیوں کا اپنے مخصوص انداز میں جواب دینا جانتی تھی۔ وہ مقابلہ کرنا جانتی تھی۔ ہمارے ہاں کچھ مرد ”زنانہ وار“ مقابلہ کرتے ہیں اور کچھ عورتیں ”مردانہ وار“ مقابلہ کرتی ہیں۔ اب جبکہ وہ کِسی بات کا جواب نہیں دے سکتی، بول نہیں سکتی تو کچھ لوگ اُس کی لاش پر پتھر برسانے کو اپنا ” دینی فریضہ “ سمجھ رہے ہیں۔ اُن کا خیال ہے اِس عمل کے بغیر اُن کی شاید بخشش نہیں ہوگی۔ اِن لوگوں کا بس چلے اللہ کے پاس کسی کو اُس کے بدترین گناہ گار ہونے کے باوجود بخش دینے کا جو اختیار ہے وہ چھین کر اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ کسی کو معاف کرنا اللہ کی شان ہے۔ ہم اللہ کی اِس شان سے مکمل طور پر بے نیاز ہیں، اللہ معاف کر دیتا ہے اللہ کے بندے معاف نہیں کرتے۔ ہم اللہ کو معاف نہیں کرتے اُس کے بندوں کو کیسے کریں؟۔۔۔ کل میرا بیٹا کسی بات پر مجھ سے کہنے لگا ”بابا میں نے یہ فیصلہ کیا ہے“۔۔ میں نے بیچ میں اُسے ٹوک دیا۔ میں نے کہا ”بیٹا آپ کون ہوتے ہیں کوئی فیصلہ کرنے والے؟ فیصلہ کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ ہم بس زیادہ سے زیادہ ”ارادہ “ کر سکتے ہیں، یا دعا کر سکتے ہیں۔ یہ ارادہ ہمارے حق میں بہتر ہے اللہ اِسے اپنے فیصلہ میں بدل دے۔ بے شک اللہ سب سے بہتر جاننے والا ہے“۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا ”میں نے اپنے رب کو اپنے بنتے ٹوٹتے ارادوں سے پہچانا“۔ اِس امر کی روشنی میں ہم تو اِرادہ کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ انسان کے اختیار میں کیا ہے؟ ۔ مگر المیہ یہ ہے انسان خود کو اللہ سے زیادہ ”بااختیار“ سمجھنے لگا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کسی کو جنت اور دوزخ میں بھیجنے کا ٹھیکہ اُس کے پاس ہے۔ اُس کی منظوری یا پرچی کے بغیر کوئی جنت میں جاسکتا ہے نہ دوزخ میں۔ یہ افسوس کا مقام
ہے جسے کچھ لوگ فخر کا مقام سمجھتے ہیں۔ بے شک وہ گھاٹے میں ہیں۔ مگر یہ نہیں کہ سارا زمانہ خراب ہے۔ عاصمہ جہانگیر کی وفات پر اُس کے بعض بدترین مخالفین کو اُس کے لئے کلمہ خیر کہتے بھی میں نے سنا ہے۔ یہی وہ ظرف ہے جسے مجموعی حیثیت میں اپنا کر اپنا وقار دنیا میں ہم دوبارہ بحال کر سکتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر کا مذہب کیا تھا؟ اُس کا ذاتی کردار کیا تھا؟ اُس کی نیت کیا تھی؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو بہت رحیم کریم اور معاف کرنے والا ہے۔ ہم صرف یہ جانتے ہیں وہ ایک دلیر عورت تھی انسانی حقوق کے لئے اپنی ہمت سے بڑھ کر جس نے کردار ادا کیا۔ وہ اپنے اِسی کردار کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ جبکہ اُس کی وفات کے بعد اسے تنقید کا نشانہ بنانے والوں کا ایک عمل شاید ایسا نہیں جس کی بنیاد پر انہیں یاد رکھا جائے۔ ہم اپنے گریبانوں میں جانکنا شروع کر دیں پھر کوئی ہمیں بُرا نہیں لگے گا۔۔۔ ایک مولوی صاحب فرما رہے تھے ”عاصمہ جہانگیر کا جنازہ پڑھانے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا“۔۔ یہ بات وہ اس یقین سے بتا رہے تھے جیسے یہ بات اللہ نے خود اُنہیں بتائی ہو۔ موصوف شاید اپنے ” تخلیق کردہ اسلام “ کی بات کر رہے ہوں گے۔ ممکن ہے کسی روز وہ اللہ کے لئے بھی یہ ” اختلافی نوٹ“ جاری فرما دیں کہ اُس نے خود کو ” رب العالمین “ کے بجائے ” رب المولوین “ قرار کیوں نہیں دیا؟۔۔۔ یہ بھی فرمایا گیا ” اُسے پاکستان کے بجائے ہندوستان میں دفن کیا جائے“۔ حتیٰ کہ اُسے دفنانے کے بجائے جلا دینے کی بات بھی کی گئی۔ ایسے انتہا پسندوں کا کوئی کیا علاج کرے؟۔ ہمارے ہاں محبِ وطن اب شاید صرف وہی ہے جسے ہماری فوج حُب الوطنی کا سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ اور مسلمان صرف وہی ہے جسے ہمارا مولوی ” مسلمانیت“ کا سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ عاصمہ جہانگیر کا قصور یہ ہے اُس نے یہ ”سرٹیفکیٹس “ حاصل کرنے کے لئے کبھی درخواست ہی نہیں دی۔ میں تو ”مولوی صاحب“ کا شکر گزار ہوں انہوں نے صرف اُس کی نمازِ جنازہ پڑھانے والے کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے، اُس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کے لئے ایسا کوئی فتویٰ جاری نہیں کر دیا۔ اب میں بڑے اطمینان سے اُس کی نمازِ جنازہ میں شریک ہو سکوں گا۔ اُس کے بعد مجھے اپنی اخلاقیات کے جنازے میں بھی شریک ہونا ہے!