prof-abdul-azeem-janbaz

جناح،اسلام اور پاکستان

قیام پاکستان ایک معجزہ اور انسانی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے۔ مسلمانان برصغیر نے انگریز سامراج کی سازشوں اور ہندو بنیے کی چالبازیوں کے باوجود اپنی بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے ذریعے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کے قیام کو ممکن کردکھایا۔ ایک الگ مملکت کا خواب علامہ اقبال ؒ نے دیکھاتھا لیکن اس کی تعبیر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قسمت میں لکھی تھی جنہوں نے مسلمانان برصغیر کو ایک منظم قوم میں بدلا اوراپنے اخلاص، بلند کردار، جرأت و استقامت،اصول پسندی اور دو قومی نظریے پر یقین کے نتیجے میں پاکستان بنانے میں کامیابی حاصل کی۔
11اکتوبر 1947ء کو کراچی میں مسلح افواج کے افسروں سے خطاب میں فرمایا: ’’قیام پاکستان، جس کیلئے ہم گزشتہ دس برس سے کوشاں تھے، اللہ کے فضل و کرم سے آج ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن اپنی مملکت کا قیام دراصل ایک مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے بذات خود کوئی مقصد نہیں۔ تصور یہ تھا کہ ہماری ایک مملکت ہونی چاہیے جس میں ہم رہ سکیں اور آزاد افراد کی حیثیت سے سانس لے سکیں۔ جسے ہم اپنی صوابدید اور ثقافت کے مطابق ترقی دے سکیں اور جہاں اسلام کے معاشرتی انصاف کے اصول جاری و ساری ہوں‘‘۔
قائد اعظم کے تصور پاکستان کے یہ وہ خدوخال ہیں جو ان کی مختلف تقریروں میں جابجا بکھرے ہوئے ہیں اور ایک اسلامی ریاست کا وہ تصورپیش کرتے ہیں جس کو عملی جامہ پہنا کرہم نہ صرف موجودہ چیلنجز سے عہدہ برآ ہوسکتے ہیں بلکہ ایک باوقار اور ترقی یافتہ قوم کی صورت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
محترم محمد آصف بھلی صاحب ایک ممتاز ادیب ، محقق، مایۂ ناز ، جرأت نگار قلم کار اور صحافی ہیں۔ آپ ایک باغ وبہار شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات میں ایک تحریک اور دبستان بھی ہیں۔ آپ کی کتاب ’’جناح،اسلام اور پاکستان ‘‘ نظریۂ پاکستان کے حوالے سے آپ کے ذوق و شوق، احساسات و جذبات کی ترجمان ہے۔مقاصدِ پاکستان سے لا علمی ا ور تشکیک کی موجودہ فضا میں محمد آصف بھلی ایڈوکیٹ نے انتہائی محنت اور جانفشانی سے قائداعظمؒ کے حقیقی نظریۂ پاکستان کے نقوش کو اپنی کتاب میں اپنے مختلف مضامین اور قائداعظم ؒ کے افکار کی روشنی میں بڑی عمدگی کے ساتھ دو قومی نظریے کو قرآنی و اسلامی تعلیمات کے عین مطابق پیش کیا ہے۔ قائداعظم کے نزدیک پاکستان کی اساس اسلام اور صرف اسلام تھی۔ وہ محض ایک قطۂ زمین حاصل کرکے سیاسی مفہوم میں ایک ریاست نہیں بنانا چاہتے تھے بلکہ اُن کا حقیقی مقصد ایک نظریاتی اسلامی مملکت کا قیام تھا۔
بھلی صاحب نے اپنی کتاب میں ہمیں نظریۂ پاکستان کی روشنی میں اپنے فکری زاویے درست کرنے اور قائداعظمؒ کے فرمودات کے مطابق نفاذِ اسلام کی طرف قدم بڑھانے پر زور دیا ہے۔پاکستان کی نوجوان نسل دو قومی نظریے کی حقیقت سے پوری طرح آشنا نہیں ، بد قسمتی سے نظریۂ پاکستان اور قائداعظمؒ کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے بھی ہمارے اندر موجود ہیں ،ایسے افراد کا بروقت مُدلل جواب بھلی صاحب اپنے کالمز کی صورت دیتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک مخصوص طبقہ ہے جن کا اصرار اور تکرار ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے کہ قائداعظم پاکستان میں سیکولر نظام قائم کرنا چاہتے تھے ، بھلی صاحب نے اپنی اس کتاب میں قائداعظم کے فرمودات (جو اُنہوں نے مختلف اوقات میں اپنی تقاریر، تحاریر اور خطوط میں بیان کیے تھے )کی روشنی میں بڑے مستند انداز میں نظریاتی سرحدوں کے دشمنوں کے مختلف اعتراضات کو بھرپور انداز میں رد کیا۔
نظریۂ پاکستان کو اِن لوگوں نے تختہ مشق بنا رکھا ہے، پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو خیالی اور تصوراتی قرار دینے والے یہ لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ پاکستان اسلامی آئیڈیالوجی کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا تھا۔ جو لوگ اپنی نام نہاد جمہوریت پسندی، روشن خیالی اور سیکولرسوچ کا ڈھنڈوراپیٹتے رہتے ہیں، وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ پاکستان کے اجتماعی نظام کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنا قائداعظمؒ کی تعلیمات سے انحراف کے مترادف ہے۔ گویا کہ قائداعظمؒ کی فکر یہ تھی کہ دین کا ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ اگر ایک شخص کے دل و دماغ مسلمان ہوں اور اس کے اعمال بھی اسلامی تعلیمات کے تابع ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی اجتماعی زندگی اسلام کے مطابق نہ ہو۔ پاکستان مسلمانوں کیلئے انفرادی طور پر کلمہ پڑھنے کی آزادی کیلئے حاصل نہیں کیا گیا تھا‘ قیام پاکستان کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان بطور ریاست بھی کلمہ طیبہ کے تقاضے پورے کرے گا اور اس کا اجتماعی ڈھانچہ یعنی سیاسی، معاشرتی اور معاشی زندگی بھی اسلام کے مطابق ہو گی۔
قائداعظمؒ کے ان فرمودات کا اگر غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو قیام پاکستان کا پورا پس منظر ہم آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ اسلام نے ہمیں پاکستان دیا ہے اس لئے پاکستان کی اگر جغرافیائی سرحدیں ایک حقیقت ہیں تو پاکستان کی نظریاتی سرحدیں اس سے بھی بڑی حقیقت ہیں۔ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو تصوراتی اور خیالی قرار دینے والے خود احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ ’’مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے‘‘ ۔جس ملک کی بنیاد ہی مسلم قومیت ہو اور مسلم قومیت کی اساس صرف کلمہ طیبہ ہے تو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہونے والے ملک کی نظریاتی سرحدیں کیسے تصوراتی اور خیالی ہو سکتی ہیں۔ علامہ اقبال نے فرمایاتھا کہ:
گر تو می خواہی مسلمان زیستن
نیست ممکن جذ بہ قرآن زیستن
تو قائداعظم نے علامہ اقبال کے اس شعر کو اپنے الفاظ میں کچھ اس طرح بیان کیا تھا کہ ’’وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے۔ وہ کون سا لنگر ہے جس سے اُمت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے۔ وہ رشتہ، وہ چٹان اور وہ لنگر خدا کی کتاب قرآن مجید ہے‘‘۔