nawaz-khan-meranii-new-copy

جناب چیف جسٹس…. کسی کو تو جواب دینا پڑے گا

جناب چیف جسٹس آپ کی وجہ شہرت صرف ”میاں“ ہونے کے باوجود دوسرے ”میاں“ کو نااہل قرار دے کر گھر بھیجنا نہیں ہے۔سترسالوں میں ”حقوق ِانساں“ جس کے سارے ”منصف“ محض علمبردار ہی نہیں، بلکہ ان کے منصب کی بنیاد ہے۔ لہٰذا آپ نے بنیادی حقوق کے تحفظ اور اس کی عملداری کے لیے ہسپتالوں، سکولوں، اور صاف ستھرے دودھ سے لے کر عوام کو صاف پانی کی دستیابی کے لیے خلوص دل سے کام کیا ، جو صرف ”پنجاب “ تک ضروری نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کے لیے انتہائی ضروری ہے، حدتو یہ ہے کہ یہاں عوام کو لوٹنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں، جن کے پانی کا ٹیسٹ آپ کے حکم سے کرایا گیا، وہ ٹیسٹ بھی معیار کے مطابق نہیں نکلے، بلکہ کچھ پاکستانی کمپنیوں کے ٹیسٹ ٹھیک نکلے۔
میں یہ کالم باوضو ہوکر صدق دل سے اور خدا کو حاضر ناظر جان کر لکھ رہا ہوں کہ آپ نے حقوق انساں کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے، کیونکہ جب میں نے آپ کی کارکردگی اور اعمال دینی اور دنیوی کے بارے میں سوچا تو آپ نے مجھے ساری رات سونے نہیں دیا، آپ ابھی مدت ملازمت میں ہیں۔ اللہ آپ کو طویل عمر نیک اعمال کے ساتھ اور مکمل اعضا کے ساتھ عطا فرمائے، آپ یقینا جدی، پشتی مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا مسلمان ہونے کے ناتے یہ بھی ایمان ہوگا کہ زندگی اور موت اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا وقت کو اور ہر لمحے کو غنیمت جانتے اور نعمت الٰہی سمجھتے ہوئے، ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے ، مسلمان علماءکے مطابق بھی آپ مسلمان ہیں۔ آپ کو پتا ہوگا، کہ مسلمان وہ ہوتا ہے، جو خدا کے آگے سرتسلیم خم کردے، اور اللہ ہی کو اپنا مالک، آقا، حاکم، اور معبود مان لے، جواپنے آپ کو بالکل اللہ کے سپرد کردے، اور اُن ہدایات کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرے، جواللہ ہی کی طرف سے آئی ہیں۔ اس عقیدے، طرز عمل ، اور اس پر ایمان کا نام اسلام ہے۔ اور یہی ہمارے تمام انبیاءکا دین تھا۔ جوابتداءآفرینش سے دنیا کے مختلف، قوموں اور ملکوں میں آئے۔
اور ہمارے جان سے پیارے محمد رسول ِآخر کے جدامجد قرآن پاک کے بقول ”ابراہم نہ یہودی تھا، نہ عیسائی، بلکہ وہ تو ایک مسلم یکسو تھا۔ یعنی وہ ہرطرف سے رخ پھیر کر ایک خاص راستے پر صراط مستقیم پر چلے اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔ ابراہیمؑ سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے، تو ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور اس کے ماننے والے اس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں۔ اللہ صرف اُنہی کا حامی وناصر (مددگار) ہے، جو ایمان رکھتے ہوں۔ راقم کو یہ بھی یقین ہے کہ عاصمہ جہانگیر کے گھرجانے کے باوجود بھی آپ مسلمان ہیں۔ حالانکہ اس کا ہمارے نبی محترم پہ ایمان نہیں تھا، اور اس بات کی وہ تردید نہیں کرتی تھی۔ اے ایمان والواہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹا دے۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہے۔ اللہ سے ڈرو ، جیسا کہ اُس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ سب مِل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اس کی تفسیر کچھ یوں ہے کہ تفرقہ تب پیدا ہوتا ہے۔ جب مسلمان دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے ہٹ کر اس کی توجیہات ، اور جزئیات کی طرف مبذول ہوتی ہیں تو پھر اختلاف وتفرقہ پیدا ہوجاتا ہے، جوانبیاءکی اُمتوں میں پہلے بھی ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو اپنے پیارے حبیب کو بھی فرمادیا کہ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا، اور گروہ بن گئے، یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں ،کیونکہ اُن کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے، جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا، اس کے لیے دس گنا اجر ہے، اور جوبدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا اس نے قصور کیا ہے، اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
اللہ سبحانہ ‘وتعالیٰ نے اپنے محبوب کو یہ بھی فرمایا۔ کہ اے محمد کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھادیا ہے۔ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں۔ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہوکر اس نے اختیار کیا تھا۔ اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ کہو میری نماز ، میرے تمام مراسم ِعبودیت ، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے، اور سب سے پہلے سراطاعت جھکانے والا میں ہوں۔ کہو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں، حالانکہ وہی ہرچیز کا رب ہے۔ ہرشخص جو کچھ کماتا ہے، اس کا ذمہ دار وہ خود ہے، کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسروں کا بوجھ نہیں اُٹھاتا۔ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹناہے، اُس وقت وہ تمہارے اختلاف کی حقیقت تم پر کھول دے گا، وہی ہے ”جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دیئے تاکہ جوکچھ تم کودیا ہے، اس میں تمہاری آزمائش کرے“۔بیشک تمہارا رب سزادینے میں بھی بہت تیز ہے، اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے۔ جناب چیف جسٹس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنا ” بلند درجہ“ دیا کہ 22کروڑ انسانوں کی قسمت، اور مستقبل کا مالک، اور آئندہ آنے والی نسلوں کا خضرراہ بنا دیا۔ لیکن جج بننا اتنا آسان اور سہل نہیں ہے۔ اس منصب جلیلہ سے انکار کرکے امام وقت نے مرنا قبول کر لیا تھا۔ جان دے دی مگر قاضی القضا نہیں بنے۔
آپ علم وفضل میں ہم سے کہیں آگے ہیں، تو پھر مجھے یہ صفحات کیوں کالے کرنے پڑے، اس لیے کہ یہ میرے فرض کا حصہ ہے، مثال کے طورپر کوئی ایک آیت اور حدیث شریف کو خواہ آپ کتنی دفعہ روزانہ پڑھیں ۔ آپ کو ہردفعہ پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔ ہم اگر یہ بھی ”فرض“ کرلیں کہ آپ کو ان ساری باتوں کا علم ہے تو پھر اس پر ابھی تک عمل کیوں نہیں ہوسکا۔ جیسے میں نے پہلے عرض کیا کہ آپ نے عوامی جج ہونے کے باوجود بھی مجھ جیسے عوامی بندے کی نیند خراب کرکے حقوق انساں کا تحفظ نہیں کیا لہٰذا میں آپ ہی کی عدالت میں آپ کے خلاف درخواست گزار ہوں ….اور اس کا ازالہ اور کفارہ میرے اس سوال کسے جو اب سے ہوسکتا ہے کہ اللہ کے ملک، اللہ کے رسول کی شریعت ، اور بزرگان دین کے افکار وفرمودات کی موجودگی میں مسلمان ہونے کے باوجود آپ ”فیصلے“ انگریزی قانون کے مطابق کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب مجھے بے شک نہ دیں، لیکن کوئی آپ سے اس سوال کا جواب ضرور مانگے گا، اور آپ کو جواب بھی ضرور دینا پڑے گا۔ مگر اس وقت آپ کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ ابن عطارؒ فرماتے ہیں کہ عقل عبودیت کا آلہ ہے نہ کہ ربوبیت کا ذریعہ اور حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرائیل نے
جوعقل کا غلام ہو وہ دل نہ کرقبول
کھویا نہ جا صنم کدہ¿ کائنات میں
محفل گزار ، گرمی محفل نہ کر قبول