Sajid Hussain Malik

جماعتِ اسلامی۔۔۔ کامیابی سے کیوں دور ہے۔۔۔؟

جماعتِ اسلامی پاکستان کی ایک اہم دینی سیاسی جماعت ہے جس کی تنظیم اور حلقہِ اثر ہی پورے ملک میں نہیں پھیلا ہوا ہے بلکہ اس کی سٹریٹ پاور کو بھی سبھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس میں عہدیداروں کا انتخاب ایک مربوط اور مبسوط نظام کے تحت مقررہ مدت کے لیے اس طرح کیا جاتا ہے کہ کسی طرح کی بے قاعدگی یا رائے دہندگان کی رائے سے انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جماعتِ اسلامی کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کے بانی امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کو عالم اسلام میں ایک ایسے فکری رہنما اور دین کے داعی کی حیثیت حاصل ہے جن کی اسلامی فکر کی تشکیلِ نو اور احیائے اسلام کی کوششوں سے رہنمائی حاصل کر کے کئی اسلامی ممالک بالخصوص ترکی، تیونس اور سوڈان وغیرہ میں اسلام پسند جماعتیں اسلامی انقلاب کی راہ پر کامیابی سے گامزن ہوئی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں جماعتِ اسلامی، اسلامی انقلاب کی داعی ہونے کے باوجود کامیابی کی وہ منزل حاصل نہیں کر سکی ہے جو اسے حاصل کرنی چاہیے تھی۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کے اسباب وعلل کیا ہیں؟ جماعتِ اسلامی کے قیام کے مقاصد ، اس کے طریقہ کار اور لائحہ عمل اور 1941 ء میں اس کے قیام سے اب تک قومی سیاسی زندگی میں اس کے کردار ، اہمیت اور انتخابی کارکردگی کو سامنے رکھ کر اجمالی سا جائزہ لیا جاتا ہے۔
جماعتِ اسلامی کا قیام اگست 1941 ء میں عمل میں آیا۔ اس سے قبل بیسویں صدی کے تیسرے اور چوتھے عشروں میں جماعتِ اسلامی کے بانی امیر سید ابولاعلیٰ مودودی ؒ کی کئی تصانیف ، خطبات اور مضامین سامنے آ چکے تھے جن کی بنا پر برصغیر کے دینی اور علمی حلقوں میں اُن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا تھا۔ مولانا کی تصنیف ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ کو وسیع پذیرائی ملی تھی ۔ حکیم الامت حضرت علامہ اقبال ؒ بھی مولانا مودودیؒ کی فکر اور تحریروں سے متاثر تھے ۔ جماعتِ اسلامی کی بنیاد رکھنے سے قبل 1937 ء کے اواخر میں لاہور میں علامہ اقبال سے مولانا مودودیؒ کی تفصیلی ملاقات ہو چکی تھی اور انہوں نے مولانا کو دعوت دی کہ وہ پنجاب میں آکر دین کی دعوت اور اسلامی فکر کے احیاء کاکام شروع کریں۔ اگست 1941 ء میں مولانا مودودیؒ نے جماعتِ اسلامی کی بنیاد رکھی تو اُن کے نزدیک جماعتِ اسلامی کے قیام کا بڑا مقصد یہ تھا کہ اس کے ذریعے برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں کہ وہ دین کی حقیقی تعلیمات پر کاربند ہو کر اسلامی معاشرے اور
اسلامی نظام کے قیام کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔ مولانا مودودیؒ نے جماعتِ اسلامی کو ایک ایسی روشن خیال اسلامی فکری تحریک کے طور پر پیش کیا جس کے ذریعے دعوت الی اللہ کے مقصد کو حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے جماعتِ اسلامی کو کسی فرقے، گروہ یا مسلک تک محدود نہیں رکھا بلکہ تمام مسلمہ مکاتبِ فکر کے افراد کو دعوت دی کہ وہ ایک بڑے مقصد کے حصول کے لیے ایک پرچم تلے جمع ہو جائیں۔ کیونکہ منظم شر کا مقابلہ منظم نیکی کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اُن کے نزدیک سُنتِ رسول ﷺ کی پیروی، ایمان، اجتہاد اور جہاد کے بغیر احیائے اسلام کی منزل سَر نہیں کی جاسکتی تھی۔
جماعتِ اسلامی کو اپنے قیام کے ساتھ ہی فکری لحاظ سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا اس طرح کرنا پڑاکہ ایک طرف برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی اکثریت اپنے عظیم قائد محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں برصغیر جنوبی ایشیاء میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ خطہِ ارض کے حصول کو اپنی منزل قرار دے چکی تھی تو دوسریے طرف جمیعت علماء ہند کے بعض اکابرین، مجلسِ حرار کے قائدین، خدائی خدمت گار، خاکسار اور کئی دوسرے قوم پرست مسلمان رہنما پاکستان کے قیام کی مخالفت کے راستے کو اختیار کر چکے تھے۔ اُن کے نزدیک انگریزوں سے آزادی حاصل کرنا ہی مسلمانوں کے مسائل کا حل تھا مگر مولانا مودودیؒ جو ایک زمانے میں جمعیت علماء ہند کے ترجمان اخبار ’’الجمیتعہ ‘‘ کے مدیر رہے تھے وہ جمیعت کے جماعتی مؤقف سے ہٹ کر اپنی تحریروں اور خطبات کے ذریعے اسلام کے احیاء ، اسلامی معاشرے کے قیام اور اسلامی ریاست کے حصول کو اپنا ہدف بنائے ہوئے تھے۔ اس طرح وہ بالواسطہ علامہ اقبال ؒ کے خطبہ الہ آباد میں پیش کیے گئے برصغیر جنوبی ایشیاء کے شمال مغر ب اور شمال مشرق میں مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کی ایک جداگانہ قومی ریاست کے قیام کے نظریے سے اتفاق کرتے دیکھائی دیتے تھے۔ باالفاظِ دیگر وہ مسلمانوں کے جداگانہ قومی تشخص جسے عرفِ عام میں دو قومی نظریہ کہا جاتا ہے کی بھرپور وکالت کر رہے تھے ۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہوا کہ وہ برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی تاریخ کے اس انتہائی اہم اور فیصلہ کن موڑ پر عملاً تحریکِ پاکستان میں شامل نہ ہونے اور بعض معاملات میں مسلم لیگی قائدین کو ہدفِ تنقید بنانے کی بنا پر قیامِ پاکستان کے مخالف سمجھے جانے لگے۔ اس وقت سے قیامِ پاکستان کی مخالفت کا یہ لیبل جماعتِ اسلامی کے ساتھ ایسا چپکا کہ آج تک دُور نہیں ہو سکا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ مولانا مودودیؒ نے اپنی تقاریر، خطبات اور تعلیمات میں برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے جداگانہ قومی تشخص کی بھرپور وکالت کی۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ قیامِ پاکستان کے موقع پر انہوں نے بے پناہ خوشی کا اظہار ان الفاظ میں کیا ’’میں نئی مملکت کو صرف اپنا ملک نہیں کہتا بلکہ یہ اسلام کا وطن ہے۔ ہمیں صدیوں بعد ایک ایسا موقع ملا ہے کہ ہم اللہ کی ریاست کو اُس کی حقیقی شکل میں قائم کر سکیں اور پوری دنیا کے سامنے اس دین کے اندر رکھی فلاح و نجات کا حقیقی مظاہرہ پیش کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے‘‘۔ کیا یہ ستم ظریفی نہیں ہے کہ اس طرح کے خیالات رکھنے کے باوجود بھی مولانا مودودیؒ قیامِ پاکستان کی مخالفت کے ذمہ دار گردانے جاتے رہے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ قائد اعظم ؒ کی قیادت میں ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ ‘‘ کا نعرہ بلند کر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگی اکابرین کی اکثریت اس نعرے سے کچھ زیادہ مخلص نہیں تھی۔ اُن کے نزدیک پاکستان کے قیام کا مقصد محض اقتدار و اختیار کا حصول تھا۔ پاکستان کے قیام کے بعد یہ لوگ پاکستان کے قیام کے اصل نظریے اور مقصد کو بھُلا کر اسی راستے پر چل پڑے۔ اس طرح مولانا مودودیؒ کی جماعتِ اسلامی اور مسلم لیگی قیادت کے درمیان ٹکراؤ کا پیدا ہونا لازمی امر تھا۔ لیکن اس کے باوجود جماعتِ اسلامی پاکستان میں اسلامی نظام اور قرآن و سنت کی بنیا د پر اسلامی دستور کی تشکیل کے مشن پر گامزن رہی۔ مارچ 1949 ء میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے ’’قرادادِ مقاصد‘‘ کی منظوری اور بعد میں 1951 ء علماء کے بائیس نکات کی تیاری میں جماعتِ اسلامی اور اُس کے بانی سید ابولاعلی مودودیؒ کا بڑا عمل دخل تھا۔ ازاں بعد جماعتِ اسلامی مختلف ملکی اور قومی معاملات و مسائل میں اہم کردار ہی ادا نہیں کرتی رہی بلکہ اُس کی اعلیٰ قیادت بالخصوص مولانا مودودی ؒ کو اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں۔ ساٹھ کی دہائی میں صدر ایوب کے دور میں جماعتِ اسلامی کو غیر قانونی قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی گئی اور اس کے قائدین کو نظر بند کر دیا گیا۔ تاہم پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس پابندی کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ستر کی دہائی میں بھٹو کے دور میں 1973 ء کے آئین کی تیاری ، متفقہ منظوری اور اس میں اسلامی دفعات کے شامل کروانے میں جماعتِ اسلامی نے اہم کردار ادا کیا لیکن یہ سب کچھ کرنے اور اتنی قربانیاں دینے اور صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ جماعتِ اسلامی کو عوام میں وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی وہ بجا طور پر حقدار تھی۔ آخر ایسا کیوں ہوا ہے اس کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ (جاری ہے)