dr akhtar

جس دئےے میں جان ہو گی وہ دیارہ جائے گا

پیر صاحب سے ایک مرید نے پوچھا کہ اگر ہمارے حکمران کرپٹ ہیں تو عوام ان کو باربار منتخب کیوں کرتے ہیں؟ پیر صاحب مسکرائے اور فرمایا : ایک جگہ نماز کھڑی تھی ایک راہ گیر بھی نماز میںشامل ہوا ،اچانک اس کی نظر امام کے کپڑوں پر پڑی تو وہ گندے تھے۔نماز کے بعد ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے پوچھاکہ ایسے شخص کو کیوں آگے کرتے ہو ، جس کے کپڑے بھی ناپاک ہوتے ہیں؟شخص نے بتایا کپڑے اس کے تب خراب ہوتے ہیں جب یہ شراب پیتا ہے۔راہگیر حیران ہو کر بولا : شراب بھی پیتا ہے پھر بھی آپ اس سے نماز کی امامت کے لےے کہتے ہیں۔وہ شخص بولا : جب یہ جوا ہارتا ہے تو تب شراب پتیا ہے۔راہگیر © مزید حیرت سے بولا:” شراب پیتا ہے ،جوا بھی کھیلتا ہے پھر بھی اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہو“۔وہ شخص بولا : ”کیا کریں پیچھے کھڑا کرتے ہیں تو تمام نمازیوں کے جوتے اٹھا کر لے جاتا ہے۔اس لےے مجبوراََ اس کو آگے کھڑا کر لیتے ہیں“۔
بظاہر یہ ایک لطیفہ ہے مگر کس قدر فکر انگیز ہے ، سوشل میڈیا پر اس طرح کے کئی لطیفے پڑھے جا سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے حکمران کیاواقعی کرپٹ ہیں؟اگر ایسا ہے تو پھر عوام ان کو منتخب کیوں کرتے ہیں۔یہ سوال بہت معنی خیز ہے۔کہا جاتا ہے جیسے عوام ہوں ویسے ہی حکمران ان پر مسلط کےے جاتے ہیں۔ آج کے دور میںمیڈیا کی ترقی کے سبب کوئی خبر پوشیدہ نہیں رہتی۔اب تو آناََ فاناََ ساری دنیا خبر سے آگاہ ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاںکرپشن کے حوالے سے پچھلے کئی برسوں سے کہانیاں عام ہیں۔کئی سیاست دانوں پر مقدمات چل رہے ہیں۔میاں نواز شریف کا خاندان بھی کرپشن کے الزام سے دو چار ہے۔اب تو نیب ان کے تعاقب میں سر گرم ہے۔جلد ہی انہیں گرفتار کرنے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے۔پاکستان کا وزیراعظم عدالت کے فیصلے کے مطابق نااہل ہو چکا ہے ،اب وزیر خزانہ کے سمن جاری ہو چکے ہیں۔جس دن پہلی بار پانامہ کیس میںمیاں نواز شریف یا ان کے خاندان کا نام آیا تھا اگر اسی روز وہ اپنے عہدے سے الگ ہو جاتے تو یہ جو اِس وقت تک ہو چکا ہے، شاید نہ ہوتا۔اپوزیشن کا بھی یہی مطالبہ تھا کہ وزیراعظم عہدے سے الگ ہو کر خود کو عدالت سے کلئیر کروائیں۔لیکن ایسا نہ ہوا اور نواز شریف نے پہلے قوم سے خطاب کیا پھر پارلیمنٹ سے خطاب کیا ۔ان کے اوربچوں کے بیانات میں تضاد سے ساری قوم آگاہ ہے۔اب انہیں نااہل قرا ر دیا گیا ہے تو اس پر ” مجھے کیوں نکالا “ کی رٹ ایک مذاق بن گیا ہے۔بندہ پوچھے آپ کی حکومت تو قائم ہے آپ کے جانے سے ترقی کیسے رک سکتی ہے۔صرف وزیر اعظم کی نشست پر چہرہ تبدیل ہوا ہے۔پالیساں بھی وہی ہیں ،سارے کام اسی طرح چلتے رہنے چاہےےں۔تجزیہ نگاروں کے مطابق ڈان لیکس ہو یا پانامہ لیکس کا عدالتی فیصلہ، اس سارے قصے میں بڑے میاں صاحب اپنی صاحبزادی کے ہاتھوں مجبور ہوئے۔کیا ہی اچھا ہوتا وزارت عظمیٰ سے الگ ہوتے ہی شاہد خاقان عباسی کی بجائے اپنے بھائی میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنا دےتے اور انہیں پارٹی کی سربراہی سونپ دیتے۔مگر ایسا نہیں کیا گیا۔اب پارٹی میں پھوٹ پڑنے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔چوہدری نثار علی خان نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو میاں نواز شریف کے لےے باعث آزار ہو ۔وہ تو اب تک بالکل ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کی طرح ان کو اچھے مشورے دیتے رہے ہیں۔مگر جس روز سے میاں صاحب نااہل ہوئے ہیںان کے چند قریبی وزرا ءسمیت مریم نواز کا پارہ چڑھاہوا ہے۔اور ان سب کا ٹارگٹ عدلیہ کے علاوہ پاک فوج بھی ہے۔میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی نے ایسا مشورہ کبھی نہیں دیا لیکن اب بیگم کلثوم نواز کے حلقہ نمبر ایک سو بیس میںجیتنے کے بعد بھی ان کی صاحبزادی اورمرکزی حکومت کے وزراءبہت سخت تنقید کر رہے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خواجہ آصف اور احسن اقبال کے بیانات کی وزیر اعظم شاہد حاقان عباسی بھی تائید کر رہے ہیں۔گھر کی صفائی والے بیان کو جس طرح بھارتی میڈیا نے اٹھایا ہوا ہے کیا وہ ہمارے لےے باعث شرمندگی نہیں؟عام آدمی تو حیران ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کس قد ر”صابر “ ہوگئی ہے ۔اسے مشتعل کرنے کی کوششیں جاری ہےںمگر وہ اس بار نہایت تحمل اور بردباری سے سویلین بالادستی پر ےقین رکھے ہوئے ہے۔میاں نواز شریف کے قریبی حلقے جو جے آئی ٹی سے لے کر عدلیہ تک کو مسلسل طنز کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔یہی تمنا رکھتے ہیں کہ انہیں زبردستی حکومت سے نکال دیا جائے تاکہ وہ ایک بار پھر مظلوم بن کر ابھر سکیں۔لیکن اس بار مسلسل تنقید کے باوجود اسٹیبلشمنٹ نہایت صبر اور استقامت سے برداشت کر رہی ہے۔اگلے روز آرمی چیف نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ہم سویلین بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔گویا فوج کا مارشل لا ءلگانے کا کوئی ارادہ نہیں۔البتہ انہوں نے قانون کی حکمرانی پر زور دیا ہے۔جبکہ مسلم لیگ ن قانون سے کسی حد تک بغاوت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔عام لوگ حیران ہیں کہ عدالت کے سامنے پیش نہ ہونے پر بھی ملزمان کو کس قدر ڈھیل دی جاری ہے۔کیا ایسی رعایت یا سہولت کسی عام چور ی کے ملز م کو حاصل ہو سکتی ہے؟موجودہ وزیراعظم امریکہ میں ہیں،امریکی صدر سے ملاقات تو شاید ہی ہو لیکن اس حوالے سے آغاز میں خود اپنی حکومت کے بارے میں یہ بیا ن دینا کہ ہمیں پہلے اپنے گھر کی صفائی پر توجہ دینا ہو گی۔یہ کیسا بیا ن ہے۔خورشید شاہ نے درست کہا ہے کہ چار برس سے اوپر ہو رہے ہیں،لیگی حکومت نے گھر کی صفائی پر توجہ کیوں نہیںدی۔کس نے انہیں روکا ہے؟اصل بات یہ ہے کہ اس بات میں بھی گہرا طنز پوشیدہ ہے۔جس کے ”ڈانڈے“عدلیہ کے علاوہ پاک فوج سے جا ملتے ہیں۔ یہ بھی عدلیہ اور فوج پر تنقید کا انداز ہے ۔صدشکر کہ سعد رفیق کو ان دنوں کچھ خیال آگیا ہے کہ وہ مریم بی بی کو نصیحت کر رہے ہیں کہ ایسے سخت بیانا ت سے گریز کیا جائے۔حکومت کے سرکردہ لوگ ملک سے باہر ہیں۔حکومت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔پٹرول کی مصنوعی قلت ا یک بار پھر پیدا کی جارہی ہے۔کئی شہروں میں پٹرول پمپوںپر گاڑیوں کی قطاریں لگی نظر آتی ہیں۔لوگ غربت سے مر رہے ہیں۔ہر روز مہنگائی اور بے روز گاری سے تنگ آکر لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں۔عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں ۔
اب آئین میں ترامیم لا کر خود کو قانون سے بالاتر رکھنے کی باتیں سننے میں آرہی ہےں۔دیکھئے حالات کس طرف جاتے ہیں۔عوام الناس میں سے بیشتر میاں شہباز شریف کو مسلم لیگ کے قائد کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ظاہر ہے میاں صاحب کی نااہلی کے بعد پارٹی کی سربراہی شہباز شریف کا حق ہے۔وہی پارٹی کو متحد رکھ کر پارٹی کو آگے لے کر جاسکتے ہیں۔ورنہ جو حالات نظر آتے ہیں مسلم لیگ ن کئی دھڑوں میں بٹ سکتی ہے۔مسلم لیگی قیادت کو نہایت تدبر سے فیصلے کرنے ہوں گے۔چوہدری نثار علی خان جیسے بے لوث اور مشاق سیاست دان مسلم لیگ ن کا اثاثہ ہیں۔انہیں الگ کر کے پارٹی کو فائدہ نہیں ہوسکتا ۔یہ تاثر عام آدمی کا ہے۔مسلم لیگ کی باگ ڈور شہباز شریف کو سونپ کر حکومت کو فی الفورانتخابات کا اعلان کرنا چاہےے۔کچھ بھی ہے شہباز شریف میں لوگوں کو میاں صاحب کی جھلک دکھائی دے گی۔اولاد ہوجائے تو بھائیوں میں بھی دراڑیں پڑ جایا کرتی ہےں اور پھر اقتدار کی جنگ میں تو سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے۔دیکھیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ بقول شاعر :
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دئےے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا