mushtaq sohail

جرم ضعیفی کی سزا

حرمین شریفین میں حج کے دوران بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ایک درد مند مسلمان نے بھرائی ہوئی آواز میں لبیک اللھم لبیک کہا ،کعبہ کی چھت کی طرف دیکھا جیسے رب کعبہ چھت پر جلوہ گر ہو، اس کی آنکھوں سے ندامت کے آنسو ٹپکے اور اس نے قریب کھڑے ایک پاکستانی عالم دین کو مخاطب کر کے کہا ’’یا حضرت آپ لاکھوں مسلمانوں کے اس اجتماع عظیم کو دیکھ رہے ہیں یہ کل مسلمان نہیں، صاحب استطاعت لوگ ہیں جنہیں حج کی سعادت نصیب ہوئی ہے دنیا بھر میں 53 مسلم ممالک میں اربوں کلمہ گو مسلمان بستے ہیں یہ مل کر اسرائیل کو پھونک بھی مار دیں تو وہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے‘‘پاکستانی عالم دین مفتی دین محمد نے تاسف بھرے لہجہ میں جواب دیا۔ ’’بھائی دکھ تو اسی بات کا ہے کہ اجتماعی پھونک ناپید ہے مسلمان تنکوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں ’’کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک‘‘ واقعی ڈیڑھ دو ارب مسلمانوں کی پھونک اسرائیل کو تباہ کردیتی مسلمان حکمران بے حس اورعیش وعشرت میں غرق، عام مسلمان لا تعلق، اپنے معاملات روز و شب میں مصروف، جب کوئی سانحہ حادثہ یا واقعہ رونما ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے گلہ ضرور کرتا ہے کہ
رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
تب مقبوضہ طور کی چوٹی سے اس برق تجلی سے جواب ملتا ہے کہ
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
امریکی صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو یہودی ریاست کا دار الحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کر کے بے حس و حرکت مسلمان حکمرانوں کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کیا ٹرمپ نے وہ باریک پردہ بھی ہٹا دیا جس نے نام نہاد مسلم حکمرانوں کے ننگے پن کو چھپا رکھا تھا ٹرمپ نے یہودیوں سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کیا کہ وہ اسی وعدے پر اسے اقتدار میں لائے تھے، یہ تعجب کی بات نہیں نہ ہی اس بات پر حیرت ہونی چاہیے کہ عیسائی یہودیوں کی سرپرستی اور مدد کیوں کر رہے ہیں ،کفر ملت واحدہ ہے اور قرآن مجید میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ’’ اولیاء بعضھم اولیاء بعض‘‘ (یہود و نصاریٰ ایک دوسرے کے دوست ہیں) یہ بھی درست کہ
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی
حیرت اور دکھ اس بات پر ہے کہ امریکی صدر نے اعلان سے قبل عالم اسلام کے ان حکمرانوں کو فون کر کے اعتماد میں لیا جو القدس کے بارے میں بلند بانگ دعوے کرتے رہے اور بتایا کہ وہ آئندہ 24 گھنٹوں میں یہ اعلان کرنے والے ہیں اس کے باوجود ان سب حکمرانوں نے قبروں میں پڑے مردوں کی طرح خاموشی اختیار کیے رکھی، ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘ کون نہیں جانتا کہ امریکا نے 1948ء میں یہودی ریاست کے وجود کو تسلیم کیا اور اس (Land Less) بے گھر بے در بلکہ در بدر بھٹکی ہوئی قوم کی آبادکاری کے لیے کوششیں شروع کردیں، مسلم حکمران خاموش رہے ، 1967ء کی جنگ میں یہودیوں نے فلسطین، اردن اور مصر کے بڑے علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکا نے اس جنگ میں اسرائیل کی مدد کی، مسلمان حکمران نیند سے نہ جاگے بلکہ امریکا کو ثالث بنا کر اس امید پر مطمئن ہوگئے کہ وہ عربوں کے مقبوضہ علاقے واپس دلا دے گا، لیکن امریکا نے اسرائیل کو ایٹمی طاقت دے کر ناقابل تسخیر بنا دیا، بالآخر عین اس موقع پر جب مسلمان سقوط پروشلم کی صد سالہ یاد منا رہے تھے صدر ٹرمپ نے ترپ کا پتا پھینکا ،مسکراہٹوں کا تبادلہ کرنے کے لیے اپنے نائب صدر کو مسلم حکمرانوں کی جانب روانہ کیا اور اسراء و معراج کی سر زمین جس کے ارد گرد رحمتوں اور برکتوں کی نوید ربانی سنائی گئی، جہاں مسجد اقصیٰ میں نبی رحمت ﷺ نے ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبروں کی امامت فرمائی، وہیں سے سفر معراج پر روانہ ہوئے قرآن پاک نے اس کی تصدیق کی، مسلمانوں کے اسی قبلہ اول کو یہودیوں کا دار الحکومت بنا دیا گیا دسمبر 1917ء ہی میں سلطنت عثمانیہ کو برطانوی سامراج کے ہاتھوں شکست کے نتیجے میں یروشلم سرنڈر کرنا پڑا تھا، سو سال گزر گئے مسلم حکمران اور کلمہ گو مسلمان خواب غفلت سے بیدار نہ ہوسکے معاف کیجیے دراصل ہم میں یہود و نصاریٰ کی چار صفات در آئیں، بقول امیر الاسلام ہاشمی۔
مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
امریکی صدر کے اس اعلان سے کوئی تہلکہ نہیں مچا کسی اسٹیٹ اور اسٹریٹ کی سطح پر ایسا طاقتور احتجاج نہیں ہوا جس سے امریکا کے کان پر جوں رینگتی، سرکاری سطح کے ’’پھوکے‘‘ احتجاج اور مذہبی جماعتوں کی ’’انفرادی احتجاجی پھونکیں‘‘ ٹرمپ نے ہمارا ہی مصرع پڑھ کر کہ ’’پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘‘ انہیں مسترد کردیا ،اقوام متحدہ کیا کرے گی کچھ کرسکتی تو 1967ء کے بعد کچھ کرلیتی اور فلسطینیوں کو ان کے مقبوضہ علاقے واپس دلا دیتی یاسر عرفات تادم مرگ فلسطینیوں کے سربراہ رہے لیکن انہوں نے اپنے عوام کے ہاتھوں میں صرف پتھر دیے، اسلحہ دینے سے جانے کیوں گریزاں رہے شاید وہ ان پتھروں کو ’’ابابیلوں کی کنکریاں‘‘ تصور کیے بیٹھے رہے جن کے لگنے سے ابرہہ کے ہاتھی کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہوگئے تھے مگر حالات مختلف تھے، رب کعبہ پر یقین اور ایمان کامل کی کمی تھی پتھروں سے اسرائیلیوں کا کچھ نہ بگڑا فلسطینی شہید ہوتے رہے پوری ایک نسل تباہ ہوگئی، ایسا نہیں ہے کہ عالم اسلام کے پاس وسائل کی کمی تھی اور ہے صرف عزم وہمت اور قوت ایمانی کی کمی ہے اجتماعیت کا فقدان ہے عیش و عشرت نے کچھ نہیں چھوڑا۔ 1970ء کی دہائی میں تیل کا ہتھیار استعمال کرنے کا آپشن سامنے آیا اس آپشن کو امت مسلمہ کے سامنے رکھنے والے کو ان کے اپنے ’’شہزادے‘‘ نے شہید کردیا، امریکا نے بعد کے سالوں میں لیبیا، مصر، شام اور عراق میں تباہی مچا کر تیل کے کنوؤں پر قبضہ کیا اور مسئلہ حل کرلیا عراق کے تیل کے کنوئیں ڈک چنی کے قبضے میں ہیں جبکہ حکمران امریکا کے زیر تسلط ہیں اقوام متحدہ کچھ نہیں کرسکی تو 53 اسلامی ملکوں کی نمائندہ تنظم او آئی سی ہی کچھ کرلیتی کم از کم ’’اجتماعی پھونک‘‘ سے ہی اسرائیل کو تباہ کردیتی مگر ’’اوہ آئی سی،بیٹھی سی اور چلی گئی سی‘‘ ٹرمپ کے حالیہ اعلان کے بعد ہی او آئی سی کا ہنگامی اجلاس ہوا ،مذمت، تقریریں، قرار دادیں اور آخر میں تین مطالبات، امریکا اپنا اعلان واپس لے اور بیت المقدس کو فلسطینی دار الحکومت تسلیم کرے ،شرافت سے کیسے تسلیم کرے گا، لوگوں نے کہا احتجاجی مظاہرے ابتدا ہے معاملہ بڑھے گا جوش ایمانی سے ہم اسرائیل کو نیست و نابود کریں گے، قیادت کون کرے گا؟ بڑا اہم سوال ہے سعودی عرب ،ترکی یا پاکستان؟ بد قسمتی سے تینوں ممالک اپنے اندرونی مسائل میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ اپنے نازک کندھوں پر عالم اسلام کی قیادت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے پاکستان کی تو اپنی قیادت داؤ پر لگی ہوئی ہے اس کے ایک منتخب قائد کو 4 ماہ سولہ دن پہلے نا اہل قرار دے کر ایرینا سے باہر بٹھا دیا گیا وہ اب تک صحراؤں میں آوازیں لگاتا پھر رہا ہے کہ مجھے کیوں نکالا، متبادل قائد لانے کی کوششیں، لیکن اس پر بھی یہودی ایجنٹ ہونے کا الزام، لندن میئر کے انتخابات سے قبل اس نے یہودی امیدوار جو کبھی اس کا برادر نسبتی تھا کو جتوانے کے لیے انتخابی مہم چلائی تھی، تیسرا قائد سر اٹھا رہا ہے مگر ابھی بچہ ہے، ابا میاں کو قوم پہلے ہی آزما چکی، چوتھا قائد دھرنوں کے سوا کچھ جانتا نہیں پہنچانتا نہیں، ملک کا 4 ماہ 16 دن کے اندر ستیاناس ہوگیا، ترقی کا پہیہ الٹا چلنے لگا، سب کچھ داؤ پر لگ گیا، جمہوریت کے لالے پڑے ہیں، انتخابات نظر نہیں آتے اسپیکر مایوس، چیئرمین سینیٹ برہم، عدالتیں سر گرم جبکہ پارلیمنٹ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ مسائل بے شمار، حل ندارد، سب کا مطمح نظر اقتدار، ذاتی مفادات، شیروانیاں تیار، کرپشن کرپشن ہر طرف کرپشن کا شور، سب کے اپنے بت، لات و منات جدا’’کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ‘‘ پاکستان اپنی قیادت سے محروم ہے تو عالم اسلام کی قیادت کیسے کرے گا؟