hafiz muzafar mohsin copy

جدید دور کے مسخرے

اس وقت پاکستان کی مسلح افواج نے چند اہم کاموں کا عوامی خواہش پر حُب الوطنی کے زور پر آغاز کر دیا ہے۔ جو سارا ملبہ طالبان پر یا صرف مذہبی جماعتوں پر ڈالا جاتا تھا کہ یہ بنیاد پرست ہیں اور ہر جرم میں ملوث ہیں، اب پتا چل رہا ہے کہ اُن ’’جرائم‘‘ کے پیچھے بہت سے ’’سفید پوش جرائم پیشہ‘‘ ٹائیکون بھی ملوث ہوتے تھے جو محض اپنی SKIN محفوظ کرنے کے لیے حکومتوں کو اکساتے تھے کہ فلاں مذہبی تنظیم اس جرم میں ملوث ہے، فلاں مذہبی تنظیم فلاں واردات کے پیچھے تھی۔۔۔ حالانکہ اب پتا چلتا ہے کہ کون کہاں کھڑا کس کس مجرم کو ہدایات جاری کرتا تھا۔۔۔ وقت آنے پر بہت سے حیران کن بلکہ پریشان کن معاملات بھی سامنے آئیں گے اور عوام دانتوں تلے انگلیاں دبا کر نئی سے نئی خبریں سنیں گے اور کئی سیاستدان قبل از گرفتاری ضمانتیں بھی کروائیں گے اور ملک سے فرار ہونے کے بہانے / طریقے تلاش کریں گے ۔۔۔ کیونکہ کئی چہروں سے ماسک اتر چکے ہیں یا اندر کی بات عوام کو پتا چل چکی ہے۔۔۔
کل شام میں گھر آیا تو تھکاوٹ اور ہائی بلڈ پریشر کے باعث مجھے ایک ایک کی بجائے دو دو دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے بیٹے کو دیکھا تو مجھے بندر کے روپ میں دکھائی دیا ۔۔۔ میں گھبرا گیا ۔۔۔ صبح تو میں اسے انسان کے روپ میں چھوڑ کر گیا تھا اب یہ چہرے سے بندر لگ رہا ہے ۔۔۔ میں نے بھاگم بھاگ خود کو شیشے میں دیکھا ۔۔۔ دل مطمئن ہوا کہ میں تو انسان ہی لگ رہا تھا ۔۔۔ پھر بھی احتیاطً میں نے بلڈ پریشر کم کرنے کے لیے گولی کھائی اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔ مجھے اس حال میں دیکھا تو بیگم آہستہ آہستہ چلتی میرے پاس آئی ۔۔۔ میں نے منہ اٹھا کے دیکھا تو گھبرا گیا ۔۔۔ ’’بچاؤ ۔۔۔ بچاؤ ۔۔۔‘‘ میرے منہ سے نکلا اور میں گھر سے باہر کی طرف بھاگنے لگا ۔۔۔ بیگم اور بیٹے نے مجھے بھاگ کے پیچھے سے پکڑا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں بے ہوش ہو کے گر پڑتا ۔۔۔ میری ہنسی نکل گئی ۔۔۔
بیگم کا دھڑ اصلی تھا لیکن شکل (چہرہ) لنگور کا تھا۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں بکواس بازی شروع کرتا ۔۔۔ بیگم نے بتایا کہ احمد بازار سے یہ ایک پیکٹ ’’ماسک‘‘ کا لایا ہے۔ یہ چائنہ کے بنے ہوئے دس ماسک ایک پیکٹ میں بند ہیں ۔۔۔ اِن کو منہ سے چپکا کر آپ بندر، لنگور، جن، چڑیل، دیو کا روپ دھار سکتے ہیں ۔۔۔ اُنہوں نے ایک ماسک پکڑا اور زبردستی میرے منہ پر چپکا دیا ۔۔۔ میں بھاگم بھاگ شیشے کی طرف گیا ۔۔۔
’’چڑیل‘‘ لگ رہا تھا میں ۔۔۔
میری اپنی چیخ نکل گئی ۔۔۔ اوہ سوری پاپا ۔۔۔ آپ کے چہرے پر تو ’’جن‘‘ والا ماسک چڑھانا تھا یہ چڑیل والا ماسک لگ گیا ۔۔۔
لاؤ ۔۔۔ زلاؤ ۔۔۔ بیٹا ۔۔۔ یہاں چڑیل سے جن بنتے کون سی دیر لگتی ہے ۔۔۔ میں نے ’’چڑیل‘‘ والا ماسک اتارا اور ’’بھوت‘‘ والا ماسک اپنے چہرے پر چپکا لیا۔۔۔ ٹھہرو ٹھہرو ۔۔۔ پاپا ۔۔۔ ہلنا مت میں آپ کی ’’سیلفی‘‘ بناتا ہوں ۔۔۔ احمد نے اپنے موبائل سے بہت سی تصویریں بنا ڈالیں ۔۔۔ بیگم لنگور، بیٹا بندر اور باپ ’’بھوت‘‘۔۔۔
میں نے کہا ۔۔۔ بیٹا یہ تصاویر کسی کو دکھانا مت ورنہ دشمن یہ تصویریں فیس بک پر لگا دیں گے ۔۔۔ ہم دونوں کی تو خیر ہے کل کو تمہاری شادی کرتے وقت ہمیں مشکل ہو گی ۔۔۔
لگا دیں ’’فیس بک‘‘ پر ۔۔۔ اس سے ہمیں بھلا کیا فرق پڑے گا۔۔۔
ہمیں کون پہچانے گا اس روپ میں ۔۔۔ (اسلام آباد میں ’’بین‘‘ ہو کے دو دن بعد ’’بحال‘‘ ہو جانے والی این جی اوز بھی تو ماسک گروپ سے ہی تعلق رکھتی ہیں یعنی ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور) واقعی ۔۔۔ یہ ماسک آج کے دور کی اہم ضرورت ہیں اور اسی لیے گلی گلی محلے محلے فروخت ہو رہے ہیں ۔۔۔ کہ یہ اب بڑی تعداد میں بک رہے ہیں ۔۔۔ ’’باقی کے ماسک‘‘ دکھاؤ بیٹا ۔۔۔ میں نے بیٹے سے (تقریباً) چھین لینے کے انداز میں ماسک مانگے ۔۔۔ تو بیگم نے جھپٹ کر پکڑ لیے ۔۔۔ اور غصے سے بولی ۔۔۔ ’’آپ کو یہ جو سچ بولنے کی بیماری ہے اس سے ہم ایک تو پہلے ہی تنگ ہیں ۔۔۔ دوسرا اگر آپ کو یہ ماسک ہم نے دے دئیے تو آپ یہ ماسک لگا کر تصویریں اتاریں گے اور فیس بک پر لگا دیں گے ۔۔۔ اور پھر ’’پولیس‘‘ ہمارے دروازے کھٹکھٹاتی پھرے گی کہ یہ ماسک پاکستان کے اُن بڑے سیاستدانوں کے ہیں کہ جو بظاہر ’’ان داتا‘‘ انسانیت کے دوست اور عوام کے صحیح معنوں میں پسندیدہ راہنما ہیں ۔۔۔ جبکہ عوام کو ان کے اصل کرتوتوں کا پتا ہے شک ہی نہیں یقین بھی ہے کہ یہ ’’ٹائیکون‘‘ کس کس کی گردن کاٹ کر کس کس کو زندہ درگور کر کے بنے ہیں ۔۔۔ کس کے سر پر کس کا خون ہے یہ اب چینلز پر دوست دشمن سب، اک دوسرے کے بارے میں بتا رہے ہیں ۔۔۔ سچ اگل رہے ہیں اور عوام ’’بد حواسیاں‘‘ دیکھ دیکھ کر خود بھی بد حواس ہو رہے ہیں۔۔۔
میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔ میری دانشوری بیگم نے ایک ہی بیان میں جلا کے رکھ دی ۔۔۔ گویا گھروں میں بیٹھی عورتیں بھی اس ملک کی سیاست، سیاستدانوں، نافرمانوں سب پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔ گردن میں سریا والے ’’ٹائیکون‘‘ صبح اٹھتے ہیں سیکرٹری سے کہتے ہیں ۔۔۔ ماسک نمبر 9 لاؤ ۔۔۔ آج میں نے سیاستدانوں سے خطاب کرنا ہے ۔۔۔ دوپہر کو سیکرٹری سے کہتے ہیں ماسک نمبر 3 لاؤ ۔۔۔ میں نے ذرا مذہبی لوگوں سے خطاب کرنے جانا ہے ۔۔۔ رات کو سیکرٹری سے کہتے ہیں ذرا ماسک نمبر 2 لانا ۔۔۔ میں نے رات کے کھانے کے بعد سرکاری افسروں سے خطاب کرنا ہے۔۔۔
’’اور ۔۔۔ اور ذرا ماسک نمبر 10 (بندر کے چہرے والا) دینا ۔۔۔ میں نے چڑیا گھر کا دورہ کرنا ہے ۔۔۔‘‘ بیٹے نے بندر والا ماسک میرے چہرے پر لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔ اور ہم تینوں اپنے اپنے ماسک اتار کر اصلی چہروں کے ساتھ ہنسنے لگے کہ عوام اور ہم جیسے سفید پوشوں کو ایسے ماسک کی ہر گز ہر گز ضرورت نہیں ۔۔۔ اسی سلسلے میں نظم ’’ایک ڈاکو کا انٹرویو‘‘ کے چند اشعار ۔۔۔ ؂
جی اس بندے کو ویسے تو ابو داؤد کہتے ہیں
بہت سے مہرباں لیکن ابو المردود کہتے ہیں
مرے والد فرید آباد کے مشہور ڈاکو تھے
خدا بخشے انہیں اپنے زمانے کے ہلاکو تھے
فرنکا باد کا تھانہ مرے نانا نے لوٹا تھا
وہ گیارہ سیر کا تالہ اسی بندے سے ٹوٹا تھا
نہیں تھا چور کوئی شہر میں دادا کے پائے کا
چرا کر گھر میں لے آئے تھے کتا وائسرائے کا
مرے ماموں کے جعلی نوٹ امریکہ میں چلتے تھے
ہزاروں چور ڈاکو ان کی نگرانی میں پلتے تھے