Awais-Ghauri

جب آوے گا عمران ، بنے گا نیا ’’روحانی‘‘ پاکستان

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں عمران خان نہ ہوتے تو کیا ہوتا ؟ پاکستانی سیاست میں ہلچل کیسے ہوتی ، ہمیں تھری پارٹی سسٹم کی افادیت کیسے معلوم ہوتی ، روز نت نئے خیالات و افکار سے آگاہی کیسے ہوتی ، سیاسی کلچر میں ماں بہن کی گالیاں کیسے سننے کو ملتیں اور کیسے یہ معلوم ہوتا کہ اب پاکستان ایک نئے روحانی حصار کی حفاظت میں جانے والا ہے۔ جیسے ہی عوام بلے کو ووٹ دیں گے ایوان اقتدار میں خان صاحب کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی طاقتیں بھی قدم رنجہ فرمائیں گے ۔ خان صاحب کے تازہ روحانی افکار ملاحظہ ہوں
’’دیکھیں میں نے سات آٹھ سال پہلے ایک کتاب لکھی ’’میرا پاکستان‘‘ اردو میں بھی اس کی ٹرانسلیشن ہے ’’Pakistan a Personal Journey” میں نے اس میں 30 سال پہلے جو میرا روحانی سفر شروع ہوا تھا وہ بیان کیا ہوا ہے۔ میراکوئی ایمان نہیں تھا اللہ میں ،ہوا کیا کہ مجھے ایک آدمی ملا جس کا نام تھا میاں بشیر۔ پہلی بار مجھے سمجھ آئی صوفی ازم ، معرفت کا سفر۔ جو معرفت ہوتی ہے نہ وہ میرا سفر شروع ہوا۔ میں ایمان کی طرف آیا ، مجھے سمجھ آئی کہ صوفی ازم کیا ہوتی ہے؟ مولانا رومی کو پڑھیں ، ابن عربی پڑھیں ،ان کو پتہ چلے گا کہ پوری سائنس ہے۔میں کوئی اپنے آپ کو سکالر نہیں مانتا مگر میں یہ مانتاہوں کہ جو ان کا (بشریٰ بی بی) کا علم ہے وہ میں جن سے بھی ملا ، ان کا ان سے آگے ہے۔ دو سال پہلے بشریٰ بی بی سے ملا ، جب بھی ملا پردے میں ملا۔پورے پردے میں ۔ میرا ان سے یہ تعلق تھا ، پھر ان کی طلاق ہو گئی اور میں نے پرپوزل بھیجا۔ بشریٰ بیگم کا خاندان بہت کنزرویٹو خاندان ہے۔ ایک اخبار کی انویسٹی گیٹو سٹوری کی وجہ سے اس خاندان کو دکھ پہنچا اور اس خبر سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوا۔ میں جب بھی بشریٰ بیگم سے ملاہوں انہوں نے مجھ سے بھی مکمل پردہ کیا ہے اور میں نے بھی آج تک انہیں نہیں دیکھا ، میرا تو ان سے رشتہ ہی کچھ اور ہے۔‘‘
اہل وطن خوش ہو جائیں کہ اب پی ٹی آئی حکومت میں آنے کے بعد سیاسی اور روحانی طریقے سے بھی مملکت خدادادکو سپر پاور بنانے کی صلاحیتوں سے لیس ہو چکی ہے۔ مگر وائے افسوس کہ تصوف کے اعلیٰ درجے اور روحانیت کی فضائیں ہم گناہ گاروں سے تو شاید روٹھ ہی گئی ہیں جبکہ سارے جہاں کی ’’نازکی چھان‘‘کر ہمارے خان صاحب آج بھی جس روحانی مقام پر فائز ہیں ہمیں تو ان سے اک حسد سا ہونے لگا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ پی ٹی آئی کے روحانی پروانے اپنی نئی ’’بھابی‘‘ کی روحانیت پر جل مرنے کوبے تاب ہیں اورلگ تو ایسے رہا ہے کہ جو بھی اس روحانیت کے راستے میں آیا’’اس کو جدید دور کے جنون سے بھرپور ’’ماں ، بہن‘‘ کی گالیاں دے کر نیا’’روحانی‘‘ پاکستان بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ جو بھی اس ’’نئے روحانی پاکستان‘‘ کے راستے پر آنے کی کوشش کرے گا ،‘ اس کی پین کی سری کو گالیوں کی سیاہی میں ڈبو دیا جائے گا ۔
خان صاحب کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہماری کچھ روایات ہے ، ہمارا کلچر ہے ، ہمارا سسٹم ہے۔ مغربی معاشرے میں بھی ایسی چیزیں نہیں ہوتی۔ ہماری چادر اور چار دیواری بھی ہے۔ ہماری روایتیں ہیں۔ مگر ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اگرکسی کو رشتہ بھیجنا کوئی غلط اور غیر شرعی کام نہیں تو اس خبر سے لوگوں کو دکھ کیسے ہو سکتا ہے؟خان صاحب کا خیال ہے کہ اس خبر کے ذریعے انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی تو بنیادی سوال ہے کہ اگر آپ کو علم تھا کہ آپ کو بلیک میل کرنے کیلئے آپ کے بدخواہ کچھ کمزوری ڈھونڈ رہے ہیں تو آپ ہی الیکشن گزر جانے کا انتظار فرما لیتے۔ یہ کیوں ہر الیکشن سے پہلے آپ کو سہرہ سجانے کی جلدی ہو جاتی ہے۔جناب اگر آپ کے بچوں اور بہنوں کو نہیں پتہ تھا اور دوسری طرف بشریٰ بیگم کے خاوند اور بچوں کو نہیں پتہ تھا کہ آپ شادی کا پرپوزل بھی بھجوا چکے ہیں تو یہ پردے پردے میں ہو کیا رہا تھا اور اس خبر کے منظر عام پر آنے سے تو شاید آپ کی مشکل ہی آسان ہوئی ہے۔ آپ کو فردا فردا سب کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔ سب کو ہی معلوم ہو چکا ہے اور اب تو بس فریق ثانی کی طرف سے ہاں کا انتظار ہے۔مگر پردے کی بات تو کچھ ہضم نہیں ہو رہی کیونکہ سوشل میڈیا پر آپ کی ان گنت تصاویر بشریٰ بیگم کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے۔؟سوال تو یہ بھی ہے کہ جب عمران خان صاحب اس پچاس سالہ خاتون کو شادی کا پرپوزل بھجوا رہے تھے تب انہیں اس بات کا خیال نہیں آیا کہ اس کی وجہ سے اس ’’کنزرویٹو‘‘ خاندان کو کتنا دکھ ہو گا۔ اس کے خاوند اور اس کے پانچ بچوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ وہ اس معاشرے میں کیسے زندگی گزاریں گے۔
ہمیں تو یہ آپ کے صوفی ازم کی برکت لگ رہی ہے کہ اس ایک بدبخت خبر کے بعد پورے پاکستان کو آپ کے تصوف کے سفر اور بشریٰ بیگم کے روحانی مقام کا اندازہ ہو گیا ہے۔خان صاحب یہ آپ کا روحانی مقام ہی تو ہے جس سے آپ نے یہ معلوم کرلیا کہ معصوم زینب قتل کیس میں ذمہ دار شریف فیملی ہے ، پنجاب پولیس پاکستان کی بدترین پولیس ہے کیونکہ خان صاحب آپ کے بقول صرف 2500 پولیس اہلکار جاتی عمرہ میں تعینات ہیں اورصرف اس دور حکومت میں شریف فیملی کی حفاظت پر سات ارب روپے خرچ ہوئے ہیں۔ پنجاب پولیس کی اس حالت کی ذمہ دار شریف فیملی ہے جو اس پولیس کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہے۔
مگر آپ کی روحانیت خیبر پختونخواہ میں آکر کیوں ناکام ہو جاتی ہے ، کیوں آپ کے روحانی سفر کی حدود صرف پنجاب پویس تک محدود ہیں کہ جب خیبر پختونخواہ کے بازاروں میں برہنہ لڑکی کو گھمایا جاتا ہے تو اس کی ذمہ دار خیبر پختونخواہ پولیس نہیں ہوتی ، پی ٹی آئی کا سیاسی رہنما اس سارے واقعہ کے پیچھے ملوث نکلتا ہے ، جب پولیس اس برہنہ لڑکی کو گلیوں میں پھرانے والے درندوں سے رشوتیں قبول کر کے پرچہ درج نہیں کرتی تو وہاں آپ کی روحانیت کیوں کام نہیں کرتی۔ جب اے پی ایس سانحہ ہو جاتا ہے تو اس کی ذمہ دار کیسے وہاں کی غیر سیاسی پولیس نہیں ہوتی اس کا جواب بھی ہمیں آج تک نہیں مل سکا۔
زینب قتل کیس کے بعد خیبر پختونخواہ سے ایک 4سالہ بچی ’’عاصمہ‘‘ کی خبر آجاتی جسے زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کیا جاتا ہے مگر اس میں خیبر پختونخواہ کی پولیس کا ذرا سا بھی قصور نہیں ہوتا۔ ہاں زینب قتل کیس میں شریف فیملی اور پنجاب پولیس ضرور قصور وار ہے ۔
خان صاحب آپ نے قصور واقعہ پر بھی سیاسی چھکے ، چوکے مارنے سے گریز نہیں کیا۔ جبکہ آپ کی سابقہ چہیتی یعنی پی ٹی آئی (گ) کی سربراہ عائشہ گلالئی نے اس سارے معاملے کا ملبہ آپ کی بے حیائی پر ڈال دیا کہ پاکستان میں جو بے حیائی کا کلچر آپ نے عام کیا اس کی وجہ سے قصور جیسا سانحہ ہوا۔ خان صاحب ہمیں آپ کے نئے روحانی مقام کی بہت خوشی ہے لیکن براہ کرم کوئی چلا کاٹیں تاکہ اس کا دائرہ کار پورے پاکستان تک پھیل سکے۔ آپ کی روحانیت پنجاب سے نکل کر خیبر پختونخوا میں بھی کام کر سکے اور پھر جب آوے عمران تو بنے سارے کا سارے نیا ’’روحانی‘‘ پاکستان۔