Nabi-Ahmad-Faraz

جاپان کی ترقی کا راز اور ’’یاران وطن‘‘

دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے ایٹم بم گراکر جاپان کو تباہ و برباد کر دیا ۔ انسان ، حیوان، چرند ، پرند ، شجر اور پتھر سب بخارات میں تحلیل ہو کر فضا میں بکھر گئے،ہر سمت تباہی اوربربادی کے وہ ہولناک مناظر تھے ،کہ جن کا ذکر آج بھی کلیجے کو چھلنی کر دیتا ہے ۔ دنیا کا خیال تھا کہ ایٹمی حملوں میں تباہ و برباد جاپان صدیوں بعد بھی اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو سکے گا ۔ زندہ بچ جانے والے انسان ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ کر کھا جائیں گے ، خانہ جنگی جاپان کا مقدر ٹھہرے گی۔ مگرآفرین ،جاپان کے شہریوں نے تباہی کو اپنا مقدر نہیں ٹھہرایا، معذوری کو اپنی مجبوری نہیں بنایا،امریکی شرائط کو ترقی کی راہ میں پاؤں کی زنجیر نہیں بنایا اور اپنی تباہی کو جواز بنا کر دنیاکے آگے دامن نہیں پھیلایا۔ کل کا تباہ حال جاپان آج دنیا کی تیسری بڑی معیشت کے مقام پر فائز ہے۔جاپانیوں نے انتھک محنت ،بلند حوصلہ اور ایمانداری کو اپنا وتیرہ بنایا اور امریکہ ایسی سپر طاقت کو بتادیا کہ ان کے ایٹم بم بھی جاپان کو مات نہیں دے سکے ۔
جاپان نے اپنی قوم کوقدموں پر کھڑا کرنے کے لئے تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کیا اور ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کرنے کے لئے نوجوانوں کوجدید فنی علوم اور مہارت کے زیور سے آراستہ کیا ۔جاپان میں فروغ تعلیم اور قوم کی تربیت کے لئے سب سے نمایاں کردار ٹوکیو کی شاہی یونیورسٹی نے اداکیا ۔قوم کے معماروں نے زیر تعلیم نوجوانوں کی ایسی تربیت کی کہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوان عملی زندگی میں کبھی کسی حکمران کے دباؤ میں نہیں آئے اور نہ ہی اصولوں سے انحراف کرتے ہیں ،ملک و قوم سے وفاداری انہیں اپنی جان سے پیاری ہوتی ہے،جاپان کے لوگ آج بھی اپنے ملک کی تیار کردہ مصنوعات استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔جنگ عظیم کے بعد جاپان انگریزی زبان سے مرعوب ہوا نہ ہی اس نے اپنی زبان کی توقیر کو کسی دوسری زبان کے سامنے بے توقیر ہونے دیا ، غیر ملکی زبانوں پر عبور حاصل ہونے کے باوجود جاپان کے شہری آج بھی اپنی زبان میں بات چیت اور خط و کتابت کرتے ہیں۔جاپان کے لوگ مسلمان نہیں مگر انہوں نے اسلامی طرز معاشرت کو اپنایا ہے ۔انسانیت کی قدر، جھوٹ سے نفرت ، قانون کا احترام ، خاص و عام کے لئے مساوی حقوق، اخلاقی اقدار کی پاسداری اور ایمانداری جاپانی معاشرے کی پہچان ہے۔ سکولوں میں کم سن بچوں کو سب سے پہلے اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی ہے اور ابتدائی تین سالوں میں بچوں پر پڑھائی و لکھائی کا بوجھ ڈالنے کے بجائے ان کی کردار سازی کی جاتی ہے۔
بد قسمتی سے پاکستان کے ارباب اقتدار و اختیار کا جھکاؤامریکہ ایسی “یارمارریاست “کی طرف ہے ، جس نے اپنی ترقی ،خوشحالی ،بقاء اور طاقت کے لئے ہمیشہ دوست ممالک کو قربانی کا بکرابنایا ہے ۔صدحیف کہ پاکستان کے عوام بھی اپنے حکمرانوں کی طرح مغربی تقلید میں اندھے ہو چکے ہیں، مغربی تہذیب نے ان سے خود داری اور انا چھین کر انہیں بے جان جسم کی ماننداغیار کا محتاج بنا دیا ہے ، شاہین کے بچے کرگس کے گھونسلے میں پرورش پائیں گے تو مردہ خوری ان کی جبلت میں شامل ہو گی ۔آج پاکستان اپنی قومی زبان سے محروم ہو چکا ہے۔ ذریعہ تعلیم انگریزی زبان ہونے کی وجہ سے ہر سال لاکھوں بچے زیور تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے مغرب کا انتخاب ہر پاکستانی کا خواب ہے ۔خارجی تعلقات میں بھی پاکستان نے ہمیشہ امریکہ اور یورپ پر انحصار کیا ہے ۔مغرب کی نقالی کرنے کے بجائے پاکستان کو جاپان کی تقلید کرتے ہوئے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہو گا۔ حقیقت میں جاپان اور پاکستان کے درمیان خارجی تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں ۔ نوسال بعد جاپان کے وزیر خارجہ تاروکونو نے جنوری2018ء میں پاکستان کا دورہ کر کے اس سردمہری کوختم کرنے کے لئے ایک قابل قدر قدم اٹھایا ہے جس کے رد عمل میں پاکستان کو موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جاپان کے ساتھ خوشگوار اور پر اعتماد تعلقات پروان چڑھانے کے لئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔انتظامیہ اورمعاشرے کو مثالی بنانے کے لئے زیر تربیت افسران کو تربیتی دوروں کے لئے جاپان بھیجا جائے اور جاپانی ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کے لئے پاکستانی طالب علموں کو جاپان کی یونیورسٹیوں میں داخلہ کا انتظام و انصرام کیا جائے۔ جاپان کی کئی ایک یونیورسٹیوں میں طالب علموں کو اردو زبان کی تعلیم کا انتظام موجود ہے ، اردو کی اعلیٰ تعلیم کے لئے جاپانی طالب علموں کو پاکستان کی طرف رخ اختیار کرنے پر راغب کیا جائے ۔جاپان میں تعینات پاکستان کے سفیر کو اس سلسلہ میں ہدف دیا جائے اور ہدف میں کامیابی کے حصول کی خاطر حکومت جاپان میں اپنے سفیر کو ہرممکن وسائل اور سہولیات فراہم کرے ۔ جاپان میں مقیم پاکستانی ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لئے غیر سرکاری طور پر اپنا کردار احسن طریقہ سے پہلے ہی ادا کر رہے ہیں۔ حکومت جاپان میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ اپنے روابط بڑھائے ۔ سمندر پار پاکستانی دیارغیر میں پاکستان کے حقیقی سفیر ہیں جو وطن عزیز کو کثیر زرمبادلہ کما کر دیتے ہیں اور مشکل وقت میں اپنے ہم وطن پاکستانیوں کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔میرے بڑے پیارے دوست ملک محمد یونس سترہ سال سے جاپان میں مقیم ہیں اورگاڑیوں کی خریدو فروخت کا وسیع کاروبار کر رہے ہیں،ہر سال جنوری میں پاکستان آکراپنی والدہ نواب بیگم اور اپنی زوجہ مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے دعائیہ تقریب کا اہتمام کرتے ہیں ۔ امسال بھی انہوں نے سیالکوٹ کے نواح میں اپنے آبائی گاؤں بھاگووال میں ایک خوبصورت دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا جس میں تین سو مستحق خاندانوں میں جہیز کا سامان بھی تقسیم کیا گیا۔
تقریب میں مسلم لیگ(ن) اوورسیز کے جنرل سیکرٹری اور جاپان کے معروف بزنس مین شیخ قیصر محمود بھی شریک تھے جن کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات کے بارے میں مفصل گفتگو کر کے مجھے بے حد اطمینان ہوا۔ بلاشبہ دیار غیر میں مقیم شیخ قیصرمحمود ایسے پاکستانی وطن عزیز کا قابل فخر اثاثہ ہیں ۔ جاپان میں مقیم معروف دانشور اورکالم نگار عرفان صدیقی بھی تقریب میں مدعو تھے مگر وہ موسم کی خرابی کے سبب کراچی سے سیالکوٹ تشریف نہ لا سکے۔ آج انہوں نے اپنی نئی کتاب “یاران وطن”اور مدینہ پاک کی بابرکت عجوہ کھجوروں کا تحفہ ارسال فرمایا ہے۔”یاران وطن” پاکستان کی محبت میں لکھے گئے عرفان صدیقی کے کالموں پر مشتمل خوبصورت کتاب ہے۔سیاست ، صحافت، امور خارجہ اورکامرس کے طالب علم “یاران وطن” کے مطالعہ سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔ جاپان اورپاکستان کے درمیان خارجی تعلقات پروان چڑھانے ، جاپان میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل ایوان پاکستان تک پہنچانے اور دونوں ممالک کی ثقافت کو ایک دوسرے سے روشناس کروانے کے لئے عرفان صدیقی کی گراں قدر خدمات ہیں۔