Rana-Zahid-Iqball

جاوید ہاشمی کا طرزِ سیاست

مفاداتی سیاست پاکستان کے سیاستدانوں کا وتیرہ رہا ہے اور ہے۔ اگر ہم اپنے سیاستدانوں کے کیرئیر کا بغور مشاہدہ کریں تو ایسی مثالیں جا بجا ملتی ہیں جہاں انہوں نے اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے ملک و قوم کا بہت نقصان کر دیا۔ ان کی وفاداریاں نہ تو اپنے ملک سے تھیں نہ اپنے علاقے سے تھیں اور نہ اپنی پارٹی سے رہی ہیں ۔ جب جب اور جہاں جہاں ان کو مواقع نظر آئے انہوں نے حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لئے انہوں نے کسی اصول ضابطے اور اخلاق کی پرواہ بھی نہیں کی۔ سیاستدانوں کو اپوزیشن میں بیٹھنے کی عادت ہی نہ پڑی ۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں سے واپسی کے لئے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ جاوید ہاشمی صاحب پاکستان کے ان چند سیاستدانوں میں سے ہیں جن کو کسی حد تک با اصول سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر ان کے سیاسی کیرئیر پر نظر دوڑائیں تو انہوں نے بھی مفادات کے حصول کے لئے کبھی کسی اصول کی پرواہ نہیں کی۔ترقی کی منازل طے کرنے کے کبھی پیپلز پارٹی میں رہے ،کبھی مارشل لا کی چھتری کے نیچے، کبھی مسلم لیگ میں، کبھی
تحریک انصاف اور اب ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) میں۔ جناب جاوید ہاشمی اپنی آٹو بائیوگرافی “ہاں میں باغی ہوں” میں صفحہ 143میں رقمطراز ہیں کہ تین اور چار جولائی کی درمیانی شب اڑھائی بجے کے قریب مجھے گھر والوں نے اطلاع دی کہ ڈیرے پر پولیس کی گاڑیاں آئی ہوئی ہیں اور وہ آپ کو جنرل ضیاء الحق صاحب کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔مجھے اپنے اخبار نویس دوستوں سے معلوم ہو چکا تھا کہ ضیاء الحق صاحب دو تین ملاقاتوں میں میرا ذکر کر چکے ہیں۔ مجھے سرکاری گاڑی میں ملتان ائیر پورٹ پہنچایا گیا اور اسلام آباد ائیر پورٹ پر بھی سرکاری گاڑی مجھے لینے آئی۔ میں وہاں سے سیدھا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی خدمت میں حاضر ہو گیا، میں نے عام لباس پہنا ہوا تھا۔ ضیا ء الحق نے مجھے دیکھتے ہی جنرل عارف کو مخاطب کرتے ہئے کہا عارف تم نے ٹھیک کہا تھا یہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیر ہوں گے۔ اس وقت میں ساڑھے اٹھائیس سال کا تھا۔ ضیاء الحق نے مجھے وزیر بنانے کی پیشکش کی جو میں نے اپنے دوستوں اور والد صاحب سے مشاورت کے بعد قبول کر لی اور اس طرح مارشل لاء کی حکومت میں وزیر کے طور پر حلف اٹھا لیا۔محترم ہاشمی مزید لکھتے ہیں یہ میری زندگی کی واحد سیاسی غلطی تھی جس کا آج تک پچھتاوا ہے اور یہی وہ غلطی تھی جس نے جاوید ہاشمی کا ساری عمر کے لئے کیرئیر بنا دیابلکہ دیکھا جا ئے تو اس ذریعے سے وہ اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو گئے اور مختلف زمانوں میں اس کے مزے لوٹتے رہے بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی تنخواہ پر کام کرتے رہے۔ ایسا کیرئیر بنا کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہ رہی یہ تو خوبصورت غلطی ہوئی اور ایسی غلطی تو ہر وہ شخص دہرانا چاہے گا جو سیاست میں اپنا کیرئیر بنانا چاہتا ہو گا۔ ایک بات ہاشمی صاحب کی کتاب میں سے مجھے بہت پسند آئی ہے کہ وہ احسان فراموش نہیں ہیں۔ جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر144میں ایسے کیا ہے کہ مجھے ضیاء الحق صاحب ذاتی حیثیت میں کبھی ناپسند نہیں رہے، انہوں نے نہ صرف ہمیشہ میرا خیال رکھا بلکہ ہر قدم پر میری حوصلہ افزائی کی۔ یہی حوصلہ افزائی تھی جس نے عام سے انسان کو اتنا بڑا بریک تھرو دیکر بڑا لیڈر بنا دیا۔گر ہم اپنے ملک کی سیاست کا بغور مشاہدہ کریں تو ہمارے سیاستدانوں کا یہی وتیرہ رہا ہے کہ انہوں نے کلک کرنے کے لئے ایسے سہاروں کو ذریعہ بنایا اور وقتی فائدوں کے لئے ہر منفی عمل کو اپنایا۔ اس سلسلہ میں اچھے برے کی کوئی تمیز نہیں کی بلکہ ملکی دولت کو جیبیں بھرنے میں ضائع کرتے رہے ،ملک میں پیسہ کرپشن کی نظر ہوتا رہا، اسی وجہ سے ملک میں کوئی بہتر نظام حکمرانی رائج نہ ہو سکا۔ ملک میں فوج کے اقتدار پر قابض ہونے کی بات اکثر کی جاتی ہے لیکن اس کی وجوہ پر توجو دینے کی ضرورت کوئی محسوس نہیں کرتا یہ بات تو طے ہے کہ سیاست دان اگر ملک کے سیاسی معاملات مناسب انداز میں چلاتے تو فوج کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ سیاست میں جب فوجی مداخلت ہوئی نواز شریف اور جاوید ہاشمی جیسے کئی سیاستدان پھولوں کے ہار لئے نہ صرف راستے میں کھڑے نظر آئے بلکہ اس کارواں کا حصہ بھی بنتے رہے اور کہتے رہے ملک وقوم کی خاطر فیصلہ کیا۔ جاوید ہاشمی آج کل ایک بار پھر چینلز پر بیٹھ کر مسلم لیگ (ن) میں دوبارہ شمولیت کے فیصلے کو بھی قوم کی خاطر قرار دے رہے ہیں جب کہ چینل ان کی انقلابی باتوں کے جواب میں ان کے ارشاداتِ عالیہ پر مبنی فوٹیج دکھائی جا رہے ہوتے ہیں، میں نے ایک بار بھی ان کے چہرے پر شرمندگی یا ملال کے تاثرات محسوس نہیں کئے۔
جس قسم کے سیاستدان اور حکمران ہمارے ملک کو میسر آئے ان میں نہ صرف قائدانہ صلاحیتوں کی کمی تھی بلکہ ان میں سیاسی امور چلانے کی اہلیت بھی نہ ہونے کہ برابر تھی۔ ہمارے قائدین کو امور مملکت چلانے کا جتنی بار بھی موقع ملا وہ دور اندیشی اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے اوراپنے ذاتی گروہی اور سیاسی مفادات میں لگے رہے یہی وجہ ہے کہ ملک مہنگائی، غربت، بے روزگاری، دہشت گردی، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور اس طرح کے دوسرے بے شمار مسائل کا شکار ہوتا چلا گیا۔ سیاستدانوں کے اس منافقانہ طرز عمل سے ملک کو جو نقصان ہوا اس کا کون ذمہ دار ہے ہم گذشتہ 70سالوں پر نظر دوڑائیں تو ہمیں صاف نظر آجائے گا کہ ہم کس مقام پر کھڑے ہیں ۔ جاوید ہاشمی جیسے سیاستدانوں جہاں سے کوئی فائدہ نظرآیا اسی پارٹی میں شامل ہو گئے، سیاست میں ناراضگی ناراضگی کا کھیل کھیلتے رہے۔ ہاشمی صاحب نے اپنی کتاب میں معافی تو مانگ لی لیکن ہاشمی صاحب نے نوجوانوں کو ایک راستہ بھی بتا دیا کہ ایک ایک غلطی کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ راستہ حاصل کرنے کے ایک آدھ بے اصولی سے فرق نہیں پڑتا۔ میاں نواز شریف اور جاوید ہاشمی جیسے سیاستدان آج انقلابی بن کر آمریت کے خلاف
نعرے لگا رہے ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے اگر جنرل ضیاء الحق مارشل لاء نہ لگاتے تو میاں صاحب اور ہاشمی صاحب جیسے لوگ کبھی اس مرتبے تک نہ پہنچ پاتے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں کسی شعبے میں اتنا امیر نہیں ہوا جا سکتا جتنا کہ سیاست میں اقتدار اور اثر و رسوخ کے حصول کے بعد ہو جاتا ہے اور پھر یہی لوگ پاکستانی معاشرے کے سب سے معزز و ممتاز شہری کہلاتے ہیں ماضی میں بھی جمہوریت کے نام پر ناگفتہ بہ گناہ کئے جاتے رہے ہیں۔ جب کہ جمہوریت کی آبیاری کی ذمہ داری سب سے زیادہ سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر سیاستدان اور حکمران خود آئین، قانون اور اخلاقیات کی پابندی کرتے تو ملک میں تمام ادارے بھی اس کی پابندی کرتے۔ ملک میں جب بھی مارشل لاء لگا اور جمہوریت ڈی ریل ہوئی اس کے ذمہ دار بھی سیاستدان اور جمہوری قوتیں ہی ہیں۔ سیاستدان جمہوریت کا نام لے کر اقتدار میں آتے رہے اور خود ہی جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں جمہوریت پنپ نہ سکی اور وہ وقفے وقفے سے مارشل لاء کی زنجیروں میں جکڑی جاتی رہی۔