wakeel-anjum

جائز اور درست گلہ

پاکستان میں آج کل جس کو بھی دیکھو ارسطو اور سقراط بنا ہوا ہے ۔ کچھ اینکرز کو دعویٰ ہے کہ پاکستان کاسارانظام اُن کے تجربوں اور سیاسی پیشین گوئیوں پر چل رہا ہے۔ آزادئ صحافت کی آڑ میں سب اصول اور ضابطے ہوا ہو رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے ان مداری نما تجزیہ نگاروں کو بے نقاب کیا جائے جن کا دماغ اوسط درجے سے آگے نہیں سوچ رہا وہ کسی ایجنڈے پر ہیں یہی وجہ ہے کہ اب ان اینکروں کے اثاثوں اور آمدن کا حساب کتاب کرنے کا مطالبہ ہونے لگا ہے یہ مطالبہ درست اور جائز بھی ہے۔ اہم بات تو یہ ہے سیاسی جماعتیں ہی نہیں حکومت بھی اس سارے معاملے کی ذمہ دار ہے، جنہوں نے اہم مقدمات کی سماعت کے دوران افسوسناک روایت کا آغاز کیا۔اس پر شکایت کرنے والوں میں عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس محترم ثاقب نثار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بھی عمران خان کے مقدمے کی سماعت کے دوران یہ کہہ ہی دیا کہ ہمارا حوصلہ دیکھو کہ سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر جو کچھ ہوتا ہے ہم اس پر صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ محترم چیف جسٹس نے عوام کے دل کی بات کی ہے۔ محترم چیف جسٹس صاحب سے ہاتھ جوڑ کر عرض کی جائے تو اس کی ذمہ داری کچھ حد تک اعلیٰ عدلیہ کے اُن ججوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ جب سپریم کورٹ کا بنچ نواز شریف کے خلاف پانامہ مقدمے کی سماعت کر رہا تھا تو میڈیا یا عدلیہ سے بھی بڑھ کر نوا زریف جو اس وقت وزیراعظم تھے، اس کا ٹرائل کر رہا تھا بلکہ ہر روز کاغذ ٹی وی سکرینوں پر لہرائے جاتے۔۔۔ مگر عدالت کے کسی جج نے کسی اینکر کو بلا کر یہ نہ پوچھا کہ بھائی جب ہم مقدمہ سن رہے ہیں تو آپ اس پرکسی تبصرہ آرائی کا حق نہیں رکھتے۔ یہ وہی غلطی تھی جو ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ روا رکھی گئی۔ 1979ء کے ابتدائی مہینوں میں جب ذوالفقار علی بھٹو سزائے موت کے خلاف اپیل سے گزر رہے تھے، اس وقت ضیاء الحق کی حکومت نے بھٹو کے خلاف چار جلدوں پر مشتمل قرطاس ابیض شائع کر کے سپریم کورٹ کے بنچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، ہر روز قرطاس ابیض کی کہانیاں اخبارات میں شائع ہوتیں اور سرکاری ٹیلی ویژن پر اس کی تشہیر ہوتی۔ اس سے قبل تو ٹی وی پر ہر روز ایک شخص آتا اور ظلم کی داستان سناتا۔ یہ سب کچھ بھٹو کے مقدمہ پر اثر انداز ہونے کا معاملہ تھا۔ اس سے قبل جب سپریم کورٹ میں نصرت بھٹو کا مقدمہ زیر سماعت تھا تو ججوں نے بار بار حلف اٹھایا۔ شریف الدین پیرزادہ نے یہ بات بینظیر بھٹو کے مقدمے کے دوران 1997ء میں بتائی کہ جسٹس انوار الحق نے اپنا عہدہ بچانے کے لیے ضیاء الحق کے حق میں نظریہ ضرورت لکھا۔ ہمیں تو اعلیٰ عدلیہ سے کوئی شکایت نہیں کیونکہ اس نے تو ’’نظریہ ضرورت‘‘ کا فیصلہ بار بار دیا حتیٰ کہ مشرف نے ظفر علی شاہ کیس میں جو مانگا نہیں گیا تھا چیف جسٹس ارشاد نے وہ بھی دے دیا۔
ایوب ناکام، یحییٰ غاصب، ضیاء الحق تاریخ کے عبرتناک انجام سے دوچار اور مشرف آج کل عدالتوں سے بھاگا ہوا ہے۔ ہمیں ایوب خان یاد آتے ہیں۔ اکتوبر 1973ء میں سابق صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے استنبول کے اخبار ’’ترکمان‘‘ کے نمائندے سے بات چیت کے دوران اعتراف کیا تھا کہ ’’فوجی اچھے سپاہی ہو سکتے ہیں اچھے سیاستدان کبھی نہیں بن سکتے‘‘۔ ایوب خان نے اس خیال کا اظہار بھی کیا کہ سیاست میں اقتدار دائمی یا ابدی نہیں ہوتا۔ کسی کو ضدی یا ہٹ دھرم نہیں ہونا چاہیے۔ ذاتی خواہشات پر ملک و قوم کی بہتری اور بھلائی کو ترجیح دینی چاہیے اور جب اسے لوگ نہ چاہیں تو قوت کے بل پر اقتدار سے چمٹا نہیں رہنا چاہیے۔ ایوب خان نے یہ سارے حقائق اقتدار چھوڑنے کے بعد ظاہر کیے۔ انہوں نے بھی اقتدار اس وقت تک نہیں چھوڑا تھا جب تک انہیں مجبور نہ کر دیا گیا۔ ان کی مقبولیت تو عین اس وقت ختم ہو گئی جب انہوں نے فاطمہ جناح کو سرکاری مشینری اور دو جابر گورنروں کے ذریعے انتخابات میں شکست دی۔ ایوب خان جیت تو گئے تھے مگر فاطمہ جناح کے ہاتھوں انہیں غیر مقبولیت کا جو داغ لگا وہ اسے کبھی نہ دھو سکے۔۔۔ ’’معاہدہ تاشقند‘‘ میں شکست کھائی تو عوام کو دبانے کا ہر حربہ استعمال کیا۔ اس زمانے میں بھی کچھ صحافی اور اخبارات اُن کو یہی خرابیاں یاد دلاتے رہے تھے۔ جو انہیں اقتدار چھوڑنے کے پانچ سال بعد یاد آئی تھیں۔ عوام نے انہیں اور ان کے پورے نظام کو مسترد کر دیا تھا۔ پھر بھی اپنی مقبولیت دکھانے کے لیے انہوں نے ہر میدان میں دھونس، دھاندلی اور جھرلو کو اپناماٹو بنا لیا تھا۔ ایوب خان صاحب کو علم نہیں تھا بعد میں باتیں کرنے کا کیا فائدہ۔ خود ان کا دور حکومت مطلق العنانی اور شخصی آمریت کا دور تھا۔ اس زمانے میں خلق خدا کی بات کون سنتا تھا۔ کسی نے گندھارا انڈسٹری کا ذکر چھیڑا تو اسے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ مکافات عمل بھی تو موجود ہوتا ہے۔ ایوب خان بیمار ہوئے تو ایوان صدر نو گو ایریا بن گیا۔ اگر صدر اختیارات استعمال کرکے اہل نہ رہے تو آئین موجود مگر یہ پاکستان سے طاقتور کا ڈنڈا بھی آئین بن جاتا ہے۔ ایوب کا دس سالہ جشن بھی کنٹرول حکمرانی میں گزرا۔ یحییٰ خان کے ساتھی جرنیلوں کی آرزوئیں پوری ہونے کا لمحہ آ گیا۔ جہاں جبر اپنا لوہا منوا رہا ہو تو پھر سپیکر فضل القادر کو کون پوچھتا۔ گول میز کانفرنس میں ایوب خان نے اپنے پورے گیارہ سالہ دور پر خود خط تنسیخ پھیر کر کہہ دیا کہ پاکستان میں جمہوری نظام ہی بہتر ین ہے بلکہ آئندہ انتخابات سے بھی ہاتھ کھینچ لیا حتیٰ کہ جس شخص کو اگرتلہ سازش کیس میں غدار بنا کر پابند سلاسل رکھا تھا، غداری کا معاملہ تو سرے سے ہی ختم ہو گیا ’’چھ نکات‘‘ اس نے پھر نہ چھوڑے۔ سچ تو یہ ہے پاکستان میں فوجی حکومتیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں نہ ہو سکتی ہیں۔ یحییٰ خان کا زمانہ کوئی مختلف نہیں تھا وہ ایوب خان کا ہی تسلسل تھا۔ یحییٰ تو اقتدار کا بھوکا حکمران تھا، جب مشرقی پاکستان میں کھلم کھلا پاکستان توڑنے کی باتیں ہو رہی تھیں، سیاست دان شور مچا رہے تھے مگر یحییٰ خان نہ صرف سکون کی نیند سو رہے تھے بلکہ درجنوں رانیاں اُن کی راتیں رنگین کرنے کے لیے موجود ہوتیں۔ یہ سب تاریخی حقائق تو کھل کر حمود الرحمن رپورٹ میں درج ہیں۔ سیاست دانوں کو استعمال کرنے کا آج جو مسئلہ کمال اور فاروق نے اٹھایا ہے وہ بہت پرانا کھیل ہے۔ 1972ء میں بھٹو شملہ معاہدہ کے بعد واپس آئے اور یہ معاملہ قومی اسمبلی میں پیش ہوا بہت سے پارلیمنٹیرین نے حق میں بڑی جذباتی تقریریں کیں۔ اس میں منفرد اور انکشاف سے بھری ہوئی تقریر مسلم لیگ قیوم گروپ کے رکن قومی اسمبلی ایوب خان کے داما گل اورنگ زیب نے بھی کی۔ انہوں نے اپنے قائد خان قیوم کے بارے میں انکشاف کیا کہ 3 مارچ 1971ء کو انتقال اقتدار کے لیے قومی اسمبلی کا جو اجلاس بلایا گیا تھا، یحییٰ خان کے ایک معتمد جرنیل میجر جنرل عمر نے خان قیوم کو کہا تھا کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیں۔ یہی وہ تاریخی اجلاس تھا اگر اس کا بائیکاٹ نہ کیا جاتا تو پاکستان بچ سکتا تھا۔ بھٹو بھی یحییٰ خان کی بولی بول رہے تھے اور کہہ رہے تھے جو اجلاس میں شرکت کے لیے ڈھاکہ گیا تو اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ حقیقت میں اس زمانے کی اسٹیبلشمنٹ چاہتی تھی کہ مغربی پاکستان میں بہت سی جماعتیں کامیاب ہو جائیں اس مقصد کے لیے مبینہ طور پر سیاست دانوں میں کروڑوں روپے تقسیم کیے گئے خاص طور پر قیوم خان کی مسلم لیگ کو پنجاب میں نمبر ایک بنانے کا منصوبہ تھا جو کامیاب نہ ہو سکا۔ اہم بات یہ ہے کہ ایوب خان سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں، اس سے انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا نہ جانے ایوب خان کے بعد آنے والے یحییٰ خان، ضیاء الحق اور مشرف نے وہ غلطیاں کیوں دھرائیں ۔ دو جرنیل تو آرام سے شکست کھانے کے بعد دنیا سے رخصت ہو گئے۔ مشرف کے ہاتھ سے بنی ہوئی جماعت مسلم لیگ (ق) اُن کے جانے کے بعد ماضی کا قصہ بن چکی ہے مگر آئین پاکستان سے غداری کی تہمت سجانے کے بعد اور مقدمات کا سامنے کرنے کی بجائے عدالتوں کو یہ بتا کر ملک سے باہر گئے کہ اُن کا علاج ملک میں نہیں ہو سکتا مگر لگتا ہے خفیہ ہاتھ نواز شریف کو نکالنے کے بعد مشرف کو نہیں بھولے۔ اگر وہ کمانڈو جرنیل ہیں تو قانون کے سامنے پیش ہو کر اپنے جرائم کا دفاع کریں۔ جن جماعتوں سے اتحاد انہوں نے کیا ہے تقریباً آل پاکستان مسلم لیگ سمیت کاغذی جماعتیں ہیں جن کو عوام میں تھوڑا بہت بھرم ہے وہ مشرف کے اتحاد سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔ عقل مند لوگ وقت پر درست فیصلے کرتے ہیں گاف کھیلیں اور پوتوں اور نواسیوں کو وقت دیں کیونکہ آمر اور ڈکٹیٹر کا جب وقت ختم ہو جاتا ہے، اس کو قدرت کا کھیل سمجھ کر قبول کر لینا چاہیے۔ یہی بات ایوب خان نے سمجھائی تھی۔ جاوید ہاشمی نے جو تازہ بیان دیا ہے کہ نواز شریف تو پہلے سے مقبول لیڈر ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے دنیا میں ان کی سیاست کو قبولیت کا دور گزر چکا ہے اب صرف جمہوریت کی بات ہو گی۔