riffat mazhar

توہینِ عدالت یا توہینِ عوام

صرف دو دِن بعد ہم اپنا 70 واں یومِ آزادی قومی و ملّی جذبے سے مناتے ہوئے لہک لہک کے گا رہے ہوں گے ’’اے قائدِاعظمؓ ! تیرا احسان ہے ،احسان‘‘۔ جب بھی اِس ملّی نغمے کی آواز کانوں میں پڑتی ہے تو میں سوچ میں پڑ جاتی ہوں کہ ہم کس پاکستان کا جشنِ آزادی منا رہے ہیں؟۔ اُس پاکستان کا جو علّامہ اقبالؓ کا خواب اور قائدِاعظمؓ کی کاوشوں کا ثمر تھا یا اُس پاکستان کا جس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمٰن تھے اور جس کی بنیاد ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں رکھی گئی؟۔ اُس پاکستان کا جس کی بنیاد لاالٰہ الااللہ تھی یا اُس پاکستان کا جس میں سیکولراصحاب کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے؟۔ اُس پاکستان کا جو 35 سالوں تک آمریتوں کی زَد میں رہا یا اُس پاکستان کا جس کے 18 وزرائے اعظم میں سے کوئی ایک بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکا؟۔اُس پاکستان کا جسے ہم نے اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر حاصل کیا تھا یا اُس پاکستان کا جس میں سیاست سے ثقافت تک ہر جگہ کثافت ہی کثافت ہے؟۔ اُس پاکستان کا ،جس کا نام ’’اسلامی جمہوریہ رکھا گیایا اُس پاکستان کا جو آج بھی زورآوروں کے پنجۂ استبداد میں ہے اور جمہور مجبور ومقہور؟۔
قوموں کی تاریخ میں کٹھن مقام بھی آتے ہیں لیکن زندہ قومیں اپنے عزمِ صمیم کے بَل پرپھر اُبھرکر سامنے آ جاتی ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان کا جو حشر ہوا ،وہ سب کے سامنے ہے لیکن آج وہ اقوامِ عالم میں اپنا وجود ثابت کر رہی ہیں البتہ ہم نے کبھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔ ملک وقوم کی بَدنصیبی کا یہ عالم ہے کہ دو تہائی اکثریت کا مالک وزیرِاعظم آج اپنے آپ کو’’ مظلوم‘‘ کہہ رہا ہے۔ پہلے تو مارشل لاؤں کا نفاذ ہوا کرتا تھا اور قوم یہ سوچتے ہوئے صبر کرلیتی تھی کہ زورآوروں نے اپنی طاقت کے بَل پر آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی لیکن اِس ’’جوڈیشل مارشل لاء‘‘ نے تو پوری قوم کو بَدحواس کر دیا ہے۔ بات اگر کرپشن کی ہوتی اور پایۂ ثبوت تک بھی پہنچ جاتی تو گھٹیا ترین ہوتا وہ شخص جو میاں نوازشریف کے حق میں دو بول بھی بولتایا لکھتا لیکن یہاں تو معاملہ ابتداء ہی
سے پُراسرار بنا دیا گیا۔ بات واٹس ایپ کال سے شروع ہوئی جس میں تین رکنی بنچ کے ججز صاحبان نے کچھ مخصوص لوگوں کے نام جے آئی ٹی میں بھیجنے کے لیے کہا۔ یہ وہی لوگ تھے جن کا شمارشریف فیملی کے شدید ترین مخالفین میں ہوتا تھا ۔اِس پر شور بھی بہت اُٹھا لیکن معزز جج صاحبان کے کانوں پر جُوں تک نہ رینگی حالانکہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ اگر فریقین میں سے کوئی ’’تفتیشی‘‘ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دے تو اُسے بدل دیا جاتا ہے لیکن یہاں یہ اصول مدِّ نظر نہیں رکھا گیا ۔شریف فیملی جے آئی ٹی کے تعصب کا شور مچاتی رہی لیکن تین رکنی بنچ کے جج صاحبان نے اِس شور کو پَرکا ہ برابر بھی حیثیت نہ دی۔ سوشل میڈیا پر حسین نواز کی تصویر کا شور اٹھا لیکن بنچ نے اِس معاملے پر بھی کوئی ایکشن نہ لیا۔ سب کچھ واضح نظر آرہا تھااور یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ سب ایک ’’ڈرامہ‘‘ ہو۔ مولانا طاہرالقادری نے تو کہہ بھی دیا کہ یہ سب ’’ ملی بھگت‘‘ ہے اور فیصلہ نوازشریف کے خلاف نہیں آئے گا لیکن جب فیصلہ سامنے آیا تو یقیناََ وہ عدل کی تاریخ میں ’’سنہری حروف‘‘ میں لکھے جانے کے قابل تھا۔ فیصلے میں جے آئی ٹی کی تعریف وتحسین کرتے ہوئے وزیرِاعظم کو نااہل قرار دیا اوروزیرِاعظم سمیت شریف فیملی کا ریفرنس نیب کوبھیج دیا گیا۔ فیصلے میں وزیرِاعظم کے بارے میں لکھا گیا کہ اُن کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ ہے ،نہ اُنہوں نے اپنے عہدے کا ناجائز فاعدہ اٹھایا لیکن چونکہ اُنہوں نے دبئی میں اپنے بیٹے حسن نواز کی قائم کردہ فیکٹری سے بطور چیئرمین تنخواہ وصول نہیں کی، حالانکہ وہ اِسے وصول کر سکتے تھے۔ اِس لیے اُنہیں اِس کا ذکر الیکشن کمیشن میں اپنے کاغذاتِ نامزدگی داخل کراتے وقت کرنا چاہیے تھا جو اُنہوں نے نہیں کیا،جس کی بنا پروہ صادق وامین نہیں رہے۔ اِس لیے اُنہیں نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ایٹمی پاکستان کے دوتہائی اکثریت کے مالک وزیرِاعظم کی نااہلی کا یہ جواز سمجھ سے بالاتَر ہے۔ اِس فیصلے پر زہر میں بُجھا طنز بھارت کے وزیر ارون جیتلی نے کیا۔ اُس نے کہا ’’پاناما پیپرز پرتفتیش ہم بھی کریں گے لیکن ایسے نہیں کہ سزا پہلے دے دی جائے اور تفتیش بعد میں‘‘۔
عدلیہ کے اِس فیصلے کے بعد میاں نوازشریف مستعفی ہو گئے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ عدلیہ کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے اُنہوں نے استعفےٰ تو دے دیا لیکن اُنہیں اِس فیصلے سے اختلاف ہے۔ اِس فیصلے کے بعد ملک میں عجیب افراتفری کا عالم ہے اور اِسی افراتفری سے فائدہ اٹھانے کے لیے مولانا قادری بھی پاکستان آچکے ہیں۔ اُنہوں نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ بُدھ 16 اگست کو وہ مال روڈ پر دھرنا دیں گے۔ اِس سے پہلے وہ ناصر باغ میں کہہ چکے ہیں کہ اُن کا یہ دھرنا ،آخری دھرنا ہوگا لیکن پہلے دو دھرنوں میں وہ یہی اعلان کر چکے ہیں۔ اِس لیے لوگ اب اُن کے اِس بیان پر کم کم ہی اعتبار کرتے ہیں۔ واقفانِ حال تو یہ کہتے ہیں کہ مولانا’’دیت‘‘ کی اگلی قسط وصول کرنے آئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ آخری قسط ہو اور دھرنا بھی آخری۔ مولانا کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کا دھرنے میں مستقل بیٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ اُنہوں نے کہا ہے ’’16 اگست کو شہدائے ماڈل ٹاؤن کی بیٹیاں ،بہنیں ،بیوگان اور زخمیوں کے اہلِ خانہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے انصاف کی اجتمائی درخواست کے ساتھ مال روڈ پر بیٹھیں گے اور میں اُن کے پاس اظہارِیکجہتی کے لیے جاؤں گا‘‘ ۔گویا مولانا وہاں
’’اظہارِیکجہتی‘‘ کے لیے جائیں گے ضرور اور کچھ دیروہاں ’’جلوہ افروز‘‘ بھی ہوں گے لیکن پھر گھر لوٹ آیا کریں گے۔ بالکل ویسے ہی جیسے اُن کے ’’سیاسی کزن‘‘ عمران خاں 2014ء میں126 روزہ دھرنے کے دنوں میں کنٹینرسے اُتر کر چپکے سے گھر کھسک لیا کرتے تھے۔
کپتان صاحب بھی 13 اگست کو راولپنڈی میں جلسہ کرنے جا رہے ہیں شاید ایسا وہ میاں نوازشریف کی ریلی کی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر کر رہے ہوں۔ یہ تو خیر عقل کے اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے کہ میاں نوازشریف کا اسلام آباد سے لاہور تک کا یہ تاریخی سفر پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گالیکن جن کی آنکھوں پر بغض ،کینہ، عداوت اور تعصب کی پٹی بندھی ہے ،اُنہیں سڑکیں خالی نظر آرہی ہیں۔ 9اگست کو شروع ہونے والا یہ سفر 12 اگست کو اپنے اختتام کو پہنچا۔اسلام آباد سے لاہور تک 280 کلومیٹر کی جی ٹی روڈ پر کون سی جگہ ایسی تھی جہاں عوام کا جَمِ غفیر نہیں تھا۔ اِس سفر کے دَوران میاں صاحب سے والہانہ محبت کے ایسے مناظر نظر آئے جنہیں دیکھ کر کم ازکم دو باتوں کا تو یقین ہو گیا ۔پہلی یہ کہ میاں صاحب لوگوں کے دِلوں میں بستے ہیں اور دوسری یہ کہ عوام نے عدالتی فیصلہ مسترد کر دیاہے ۔راولپنڈی ،مندرہ ،سہاوہ ،جہلم ،گجرات اور گوجرانوالہ میں میاں صاحب نے خطاب کیا اور حاضرین کو بتایا کہ اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ۔ اُنہوں نے کہا ’’کروڑوں لوگوں نے مجھے منتخب کیا اور پانچ نے رُسوا کر کے نکال دیا۔ میں یہ مذاق برداشت نہیں کر سکتا‘‘۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ رسوائی میاں صاحب کو اندر سے کاٹ رہی ہو۔ اِسی لیے وہ بار بار اِس کا اظہار بھی کر رہے ہیں اور ہر غیرت مند شخص کو اظہار کرنا بھی چاہیے کیونکہ
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تَگ و دَو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سَرِ دارا
آج میاں صاحب کی غیرت نے ہی اُنہیں احتجاج پر مجبور کر دیا ہے اور ہمیں وزیرِاعظم نوازشریف سے کہیں زیادہ بے باک، خطرناک اور اپنی مقبولیت کی انتہاؤں کو چھوتا ہوا میاں نوازشریف نظر آرہا ہے۔