Shakeel-Amjad-Sadiq

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کروہو

میاں صاحب نااہل ہو گئے ۔ان کی نا اہلی میں پانچ ججوں کا بنچ شامل تھا۔ اس بنچ نے ایک لمبی تحقیق کے بعد اور بڑی دور اندیشی کے بعد یہ فیصلہ دیاتھا۔ ان ججوں کی میا ں صاحب سے کو ئی مخاصمت نہ تھی۔ یہ جج میاں صاحب سے مالی فائدہ یا محکمانہ ترقی نہ چاہتے تھے۔ مختصر یہ کہ یہ جج صاحبان کسی دوسری سیاسی پارٹی کو بھی فائدہ نہ دینا چاہتے تھے۔ عدلیہ کی تاریخ میں یہ پہلافیصلہ انتہائی نگہداشت اور میرٹ کی روشنی میں ہوا۔ فیصلہ سنتے ہی میاں صاحب نے حکومت کے ختم ہونے کی پاداش میں احتجاج کی کال دے دی۔ حالانکہ حکومت ختم نہیں ہوئی میاں صاحب کو ان کے عہدے کیلئے نااہل قرار دے دیا گیا۔ اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ نوازشریف کس کے خلاف جلوس نکال رہا ہے؟ اگر نوازشریف مرکزی حکومت کے خلاف جلوس نکال رہا ہے تو مرکز میں ساری کی ساری حکومت مسلم لیگ ن کی ہے۔ اگر نوازشریف کا احتجاج پنجاب حکومت کے خلاف ہے تو پنجاب کی وزات عظمی ان کے بھائی شہباز شریف(خادم اعلی پنجاب) کے پاس ہے ۔ اگر اس کا احتجاج واقعی عدلیہ کے خلاف ہے تو بقول میاں صا حب کہ وہ عدلیہ کا بہت احترام کرتا ہے۔ آپ کی یاد ہو گا یہ وہی نوازشریف ہے جس نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو بحال کرانے کے لئے ملک گیر ہڑتالیں کی تھیں۔ آج میاں صاحب بذات خود عدلیہ کے خلاف محاذ پر تلے ہوئے ہیں۔ بقول حسرت موہانی
جنوں کا خرد پڑگیا ،خرد کا نام جنوں
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
اگر یہ جلوس فوج کے خلاف ہے تو فوج ان کے ماتحت ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کو خود منتخب کیا ہے۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ فوج نے ان کی حکومت کے خلا ف سازش کی ہے تو میاں صاحب اپنے موجودہ وزیر اعظم اور صدر سے کہ کر انہیں غداری کے مقدمے میں کورٹ مارشل کروادیں۔ جب کہ میاں صاحب کو پرویزمشرف نے جب جلا وطن کیا تھا تو میاں پر بھی اس قسم کا الزام تھا۔ اگر نوازشریف یہ سمجھتے ہیں کہ ایجنسیوں یعنی ایم ۔آئی، آئی۔ایس ۔آئی ان کے خلاف تھی تو یہ کام بھی اپنی حکومت سے کر وا سکتے ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ ان کے خلاف تھی تو یہ بات ان پہلے کیوں نہ معلوم ہوئی؟ اگر میاں صاحب یہ بات سمجھتے ہیں یا ان کو معلوم تھا کہ وہ ان تمام اداروں کے سامنے بے بس ہیں توانہوں نے احتجاجا استعفا کیوں نہ دیا؟ اچھایہ سب ٹھیک ہے کہ میاں آپ صرف یہ بتا دیں کہ آپ کا احتجاج عدلیہ کے خلاف ہے ؟ فوج کے خلاف ہے ؟ آئی۔ایس ۔آئی کے خلاف ہے؟ مرکزی حکومت کے خلاف ہے؟ حکومت پنجاب کے خلاف ہے؟ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہے؟ آپ درج بالا کسی ایک ادارہ کی طرف اشارہ کر دیں تو ہم اس احتجاج میں آ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ہم آپ صادق اور امین ماننے کے لئے تیار ہیں۔ ہم آپ کو کرپٹ کہنے والوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ ہم آپ کے حکم کے منتظر بیٹھے ہیں۔ ہم نعرہ لگانے کو تیار ہیں۔اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے۔۔۔۔ آپ کا فرمان ہے کہ آپ نے دہشت گردی کو ختم کر دیا ہے۔۔۔ لاہو ر اور کوئٹہ میں ہو نے بم دھماکے دہشت گردی کا شاخسانہ نہیں ہیں۔۔۔۔؟گر دہشت گردی ختم ہے تو آپ بلٹ پروف کنٹینر کیوں استعمال کر رہے ہیں۔ آپ فرما رہے ہیں ہم ملک میں روشنی لا ئے ہیں۔ اگر یہ بات حتی الواسع درست ہے تو آ کے جلسہ میں جرنیٹر کیوں استعمال ہوتا ہے ؟ آ پ کا یہ بیان کہ آپ کو بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کی وجہ سے فارغ کیا گیا ہے تو پیارے میا ں صاحب آپ کو وزیر اعظم ہو نوکر ی کرنے کی کیا ضرورت پڑی تھی؟ میاں صاحب آپ کے احتجاج کے دوران ایک ماں کی گود اجڑی ،ایک معصوم کو کچل دیا گیا۔۔۔۔ جنا ب عالی درد اس کو ہوتا ہے جس کا کلیجہ پھٹتاہے۔ تکلیف اس کو ہوتی ہے جس کو کانٹاچبتا ہے۔ دیکھنے والے اور غیر سوائے کف افسوس ملنے کے اور کچھ نہیں کر سکتے۔آپ کے وزیروں، مشیروں ، خواجہ آصف جیسے سنگ دل اور آپ کے داماد اعظم کپٹن صفدر نے اس بچے کو جمہوریت کا پہلا شہید قرار دے دیا۔۔۔۔کیا ان لوگوں کو جمہوریت کی تعریف آتی ہے۔کیا یہ لوگ شہادت کا فلسفہ جانتے ہیں۔۔؟ کیا یہ شہادت کی غرض و غایت سے واقف ہیں۔۔۔؟غریبوں کے بچے ہی کیوں شہید ہوتے ہیں۔۔۔؟ غریب ہی کیوں احتجاج میں شامل
ہوتے ہیں۔۔۔؟ کیا جمہوریت اور فلسفہ جمہوریت غریب عوام پر ہی لاگو ہوتا ہے ۔۔۔؟ کیا آ پ کے بچے ، اور آ پ کی کیبنٹ کی اولاد جمہوریت سے مثتسنی ہے۔۔۔؟جناب نے خود کہا تھاکہ احتجاج ،جلسے،جلوس اور لانگ مارچ ملک کی ترقی کو متاثر کر تے ہیں۔ کیا اب ملکی ترقی متاثر نہیں ہو رہی ہے؟ کیا اب قومی خزانے کا بے دریغ استعمال نہیں ہور ہا ہے۔۔؟اگر آپ واقعی ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہیں تو باقی ماندہ حکومت کی خبر لیں۔۔۔۔ ملک کے اداروں کا قبلہ درست کریں۔۔۔ عوامی مسائل کو سمجھیں۔۔۔دم توڑتے انسانوں کی خبرلیں۔۔۔۔ بیس کروڑ عوام میں سے کوئی ایک شخص ایسا نہیں ہے جو اسلامی قوانین ، اخلاقی ضابطوں، سماجی رویوں، قومی قوانین پر عمل پیر ا ہو رہا ہو۔۔۔۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو بقول شاعر
دامن پہ کوئی چھینٹ، نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو