Khalid Memood

تعمیر اور تخریب

ایشیا ئی خطہ کے مقیم باشندوں کو اس اعتبار سے خوش قسمت کہا جاسکتا ہے کہ ان کی قیادتیں اب خواب غفلت سے بیدار ہوکر میدان عمل میں ہیں۔مستقبل بعید میں یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ تیسری دنیا کے غریب ممالک کوغربت کاجو طعنہ سننے کو مل رہا تھا اس سے کسی حد تک انہیں نجات ضرور ملے گی۔ماضی میں سرد جنگ کی صورت میں دو ہاتھوں کے مابین لڑائی میں آخر نقصان تو گھاس ہی کو اٹھانا پڑا اور دفاعی پوزیشن کو مضبوط کرنے کیلئے گھاس کھا کر ایٹم بم بنانے کا نعرہ بھی اس علاقہ سے متعارف ہوا ایسا کہنا اور کرنا اس لئے مجبوری ٹھہری کہ تاج برطانیہ کا دیا ہوا دکھ ’’ مسئلہ کشمیر ‘‘ تاحال نہ صرف زندہ ہے بلکہ برہمن آج بھی اس پر اکڑکر اٹوٹ انگ کی گردان کررہا ہے۔ اسی ہندوستان کو فی زمانہ خطہ کے امن میں بڑی رکاوٹ خیال کیا جا رہا ہے اگرچہ سرد جنگ کے گہرے بادل کے سائے کچھ کم ہورہے ہیں لیکن اثرات اب بھی اس خطہ میں موجود ہیں نجانے کب تلک رنجشوں اور سازشوں سے آسمان صاف ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے۔
البتہ چین کے شہر بیجنگ میں 29 ممالک کے سربراہان یا ان کے نمائندگان نے ’’ون بیلٹ، ون روڈ‘‘ کا نیا وژن دے کر آسمان کو چھونے کی جسارت ضرور کی ہے۔ یہ مجوزہ منصوبہ اگر پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے تو اس سے نہ صرف اس خطہ کے بلکہ دیگر ممالک کے عوام بھی اس مثبت سرگرمی سے ضرور مستفید ہوسکیں گے۔دوروزہ اجلاس میں روس ،ترکی ، پاکستان، جرمنی ، سری لنکا و دیگر ممالک کے سربراہان کی شمولیت اک’’ نئی صبح‘‘ کی نوید سنارہی ہے۔حسب توقع ہندوستان اس ’’ اکٹھ‘‘ پر اپنا ’’ بغض‘‘ چھپانے میں ناکام رہا اور اس کا میڈیا چین اور پاکستان کے خلاف زہر اگلتا رہا۔ اس بے بسی کے پیچھے اس حمایت کا وزن ہے جو شرکاء ممالک نے کشمیر کے حوالہ سے پاکستان کے پلڑے میں ڈالا ہے۔قیاس کیا جا تا ہے کہ مجوزہ منصوبہ سے دنیا کی 65 فیصد آبادی منسلک ہوگی۔ایشیا میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اوردنیا کا 1/3 جی ڈی پی کا حصو ل عالمی سطح پر اس روٹ کے ذریعہ ممکن ہوسکے گا۔ یہ ماضی کا Maritimeسلک روٹ ہے جس کی اس عہد میں تجدید کرکے عالمی برادری کیلئے تجارت کا نیا راستہ کھولا جارہا ہے جس سے ایشیا، یورپ ،افریقہ کے ممالک فائدہ اٹھا سکیں گے۔آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر مخاطب ہوئے اور شرکاء سے کہا کہ یہ منصوبہ کلچر، معیشت ، سماج، کو اکٹھا کرنے کا باعث ہوگا، اس سے معاشی ترقی فروغ پائے گی اور لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا۔اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی اجلاس میں شرکت چین کی بہترین سفارت کاری کامنہ بولتا ثبوت ہے۔
اگرچہ عالمی سطح پر چین کی ’’سیاسی پالیسی‘‘ کے بارے میں تحفظات پائے جاتے ہیں لیکن عالمی راہنماؤں کا اس پر بھی ’’ اجماع ‘‘ ہے کہ دنیا کے تعمیری کاموں میں چین کلیدی کردار اداکررہا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ جس کو عالمی برداری کی قیادت کرنے کا ز عم رہا ہے اس کے کردار کو بڑی طاقتوں اور چھوٹی ریاستوں نے ہمیشہ شک ہی کی نظر سے دیکھا ہے۔ اس کے دامن میں تعمیر سے زیادہ تخریب ہی پائی گئی ہے۔جس کا آغاز سرد جنگ سے ہوا تھا اور تازہ سیریل میں 9/11 کی نام نہاد جنگ ہے۔ اب تو حامد کرزئی بھی دہائی دے رہے ہیں کہ داعش حقیقت میں امریکہ کی پیداوار ہے۔ بقول ان کے ننگرہار میں بم گرانا امریکہ اور داعش کی مشترکہ کارروائی تھی۔کمال حیرت یہ ہے کہ افغان صدر برسراقتدار تھے تو امریکہ اور ہندوستان کی زبان بول رہے تھے۔ اب انہیں داعش کے پیچھے بھی امریکہ کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر مسند اقتدار پر وہ حق اور سچ کی بات کرتے اور غیر ملکی افواج کو افغانستان کی ضرورت قرار نہ دیتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔
امت مسلمہ کی قیادت کا یہی بڑا المیہ ہے کہ مفادات کی عینک لگا کر انہیں سب ہرا ہی ہرا دکھائی دیتا ہے۔ اس طرز کی قیادتیں مشرق وسطیٰ کی تباہی کی ذمہ دار قرار دی جاسکتی ہیں۔ عراق ، لیبیا میں بدامنی، یمن ، شام میں شورش ان کی پالیسیوں کا ہی ردعمل ہے۔مغربی آقا اور میڈیا مشرق وسطیٰ کو ہل من مزید کی کیفیت سے دوچار کررہے ہیں۔شنید ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ رواں ماہ اسلامی ممالک کے دورہ کا آغاز سعودی عرب سے کرنے جارہے ہیں ۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ امریکہ اور سعودی حکومت کے مابین اسلحہ کی ترسیل اور دفاعی معاہدے طے پائیں گے۔ مغربی دانشور اس کو ایران مخالف پالیسی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ا ور ’’عرب نیٹو اتحاد‘‘ کی نئی اصطلاح متعارف کروائی جارہی ہے امت مسلمہ کی تقسیم کا خواہاں طبقہ اس ’’ ڈیل ‘‘کو شیعہ سنی گروہ بندی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے حتیٰ کہ مغربی پرنٹ میڈیا ’’سنی سعودی ‘‘کی اصطلاح استعمال کررہا ہے جس سے انکا خبث باطن ظاہر ہورہا ہے۔ ایران بھی سعودی عرب کو دھمکی لگا چکا ہے۔ماضی میں بھی عراق ایران جنگ اور عراق کویت جارحیت سے امت مسلمہ بھاری بھر نقصان اٹھا چکی ہے۔ اُس عہد میں بھی عراق کی پشت پے امریکہ ہی تھا جس نے تنازعات کو ہوا دی تھی۔ آج سعودی فرمانروا کے کندھے پررکھ کر جو بندوق وہ چلارہا ہے اس کے نشانے پر مسلم ممالک ہیں۔ امت مسلمہ ’’ حرمین ‘‘کی بدولت انہیں اپنا قائد تصور کرتی ہے۔ یمن، شام ، ایران کی نازک صورت حال اور سعودی رویہ اسرائیل کیلئے خوش کن ہے جس نے ہمیشہ ’’ لڑا ؤ اورحکومت کرو‘‘ کی پالیسی روا رکھی ہے اگرچہ اسلامی فوج کے قیام کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور پاکستان کا اس میں مرکزی کردار ہے، اس پر بھی بعض حلقے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔لیکن سعودی قیات کو امت کے قائد ہونے کا کچھ تو پاس رکھنا چاہیے۔
نئے عالمی منظر نامہ میں تعمیر اور تخریب کس کا مقدر ٹھہرتی ہے، کون دنیا کو ترقی ، خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتا اور کون جنگ کے میدان میں اتاررہا ہے اس کا فیصلہ کرنا زیادہ مشکل نہیں لیکن اصل المیہ تو امت مسلمہ کا ہے جسے کبھی جنگ کا ایندھن بنایاتو کبھی خوشحالی اور ترقی کا حسین خواب دکھایا جاتا ہے۔جس کا درخشاں ماضی اب صرف نصابی کتابوں تک محدود ہے۔ یہ بیچاری کسی دوسرے کے کندھے کا سہارا لینے پر مجبور ہے جس کی تمام تر ذمہ داری نااہل قیادت پر ہے جس نے حاکم کی بجائے محکوم رہنے کو ترجیح دی۔