rashid manzoor copy new

ترقی کی راہ پر گامزن،پنجاب یونیورسٹی

ایشیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی اپنی بربادی اور زخم خوردگی کے بعد اس حالت کے قریب پہنچنے کو ہے کہ جسے ہم اس ٹرین سے تشبیہہ دے سکتے ہیں جس کے پرزے کسی درندہ صفت چور نے نوچ نوچ کر غائب کر دئیے ہوں لیکن اسے دوبارہ مرمت کر کے پٹری پر چڑھایا جائے۔تقریباً نو سالہ سیاہ دور ختم ہونے کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں ایک بار پھر اجالے نظروں کو خیرا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اساتذہ میں اعتماد کی فضا پروان چڑھ رہی ہے جبکہ طلباء وطالبات کی یکسوئی پھر سے حصول علم کی جانب شروع ہو چکی۔ملازمین جنہیں مخصوص ذاتی مقاصد کیلئے یونیورسٹی کے دیگر تمام طبقات کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا اب اپنے اصل کام میں جتے نظر آتے
ہیں۔یونیورسٹی میں نت نئی انوویشنز اور ریفارمز کے چرچے اب اس کی چار دیواری سے باہر نکلنے لگے ہیں۔شعبہ جات کی تجدید اور کمرشلزم کے عنصر کی حوصلہ شکنی اب یونیورسٹی میں فروغ پا رہی ہے۔وہ مرد درویش جسے نہ تو کبھی عہدے کا لالچ تھا اور نہ ہی کبھی اس نے اس کا اظہار کیا عارضی تعیناتی کے باوجود خلوص نیت سے اپنے کام میں ایسے سر جھکا کے لگا ہوا ہے کہ جیسے کوئی فلاحی ادارے کا کارکن رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر بغیر کسی لالچ و طمع دن رات کام کرتا ہے۔میری مراد پنجاب یونیورسٹی میں عدالتی احکامات کی پیش نظر بطور قائم مقام تعینات ہونے والے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصرسے ہے جو نہ تو اس یونیورسٹی سے کبھی تعلیم حاصل کر سکے اور نہ ہی کبھی اس میں بطور ٹیچر خدمات سر انجام دے سکے لیکن ان کی اس یونیورسٹی کے ساتھ پرخلوص وابستگی اور دن رات اس مقصد کیلئے لگے رہنا کہ کسی نہ کسی طرح سے یونیورسٹی کا مثبت تشخص اجاگر کیا جا سکے اس بات کا غماز ہے کہ بد دیانتی ان کی سرشت میں نہیں۔اگر وہ بد دیانت ہوتے تو چھ ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا انہیں یونیورسٹی میں تعینات ہوئے تو وہ خاموشی سے بیٹھتے ،پرانی پالیسیاں چلتی رہتیں اور ان کی جیب گرم سے گرم تر ہوتی جاتی لیکن انہوں نے اپنی فرض شناسی کو مقدم جانا ۔تعلیم یافتہ ہونا کیا ہوتا ہے ،ملک کی خدمت کس صورت کی جاتی ہے اور حقیقی معنوں میں اپنی ذمہ داری کا حق ادا کرنا کیا ہوتا ہے یہ تمام خاصیتیں ڈاکٹر ظفر معین میں نظر آتی ہیں۔عدالت نے پنجاب حکومت کو حکم دیا کہ مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے لیکن پنجاب یونیورسٹی کے معاملے میں حکومت لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔نہ جانے حکومت کس شش و پنج میں مبتلا ہے۔کیسا انتخاب چاہتی ہے حکومت ،اس معاملے میں فی الحال خاموشی چھائی ہوئی ہے لیکن اس سے بہتر کسی شخص کا ملنا اور یونیورسٹی کے معاملات کو حکمت اور دانائی سے چلانا جیسے مقاصد شاید کسی اور شخص کو تعینات کرنے سے حاصل نہ ہو سکیں۔اہل دانش بارہا حکومت کو مشورہ دے چکے کہ اگر یونیورسٹی کی ٹرین پٹری پہ چڑھ دوڑی ہے تو ڈاکٹر ظفر کے علاوہ کسی اور کو اس پہ بٹھا کر ایک بار پھر ماضی کی طرح کسی حادثے کا شکار مت کروا لینا۔حکومت کو چاہئے کہ بجائے اس کے کہ ادھر ادھر دیکھے فوری طور پر ڈاکٹر ظفر معین کی مستقلی کے آرڈر جاری کر دے تا کہ وہ مزید یکسوئی سے اپنے فرائض منصبی سرانجام دے سکیں۔ہاں اگر کسی کو اعتراض ہو یا میری بات سے کوئی متفق نہ ہو تو مشاہدہ شرط ہے۔یقین مانیں آج سے ایک سال پہلے پنجاب یونیورسٹی کی حالت کسی اجڑے دیار سے کم نہ تھی جہاں ہر کوئی نالاں نظر آتا تھا اور اس افسردگی کی وجہ کسی کو بتانے سے بھی گھبراتا تھا ۔ہر سو ایک خوف کی فضاء تھی ،خواتین کا ستحصال اپنے عروج پر تھا اور شرفا ء کی بے توقیری
عام تھی کہ یونیورسٹی کم اور کسی دنگل کے میدان کا شائبہ زیادہ ہوتا تھا۔آج یونیورسٹی میں جائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعی تعلیمی ادارہ ہے جہاں ڈسپلن نظر آنا شروع ہوگیا ہے،لوگوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا شروع ہو گیا ہے۔یونیورسٹی کی کمیونٹی کو اس بات کا بھی ادراک ہو چلا ہے کہ جس ڈگر پہ یونیورسٹی کو پچھلے نو سالہ دور میں چلا دیا گیا تھا اس سے منزل ملنا ممکن نہیں لہٰذا ہر کوئی اپنا اصل راستہ ناپ رہا ہے۔لوگوں کو ان کے اصل کام کا احساس دلانا اور انہیں اس پہ لگادینا ہی لیڈرشپ کی خصوصیات ہوتی ہیں جوکہ پنجاب یونیورسٹی کے سربراہ میں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔خلوص کی کوئی قیمت نہیں ہوتی لیکن اس کی بے قدری اداروں کو بہت پیچھے دھکیل دیتی ہے۔اس پُرخار دور میں پُرخلوص قیادت کا ملنا ایک معجزہ ہے اور یقیناً پنجاب یونیورسٹی میں ڈاکٹر ظفر معین کا آنا کسی معجزے سے کم نہیں۔