Sajid Hussain Malik

تحریکِ عدل یا عدلیہ سے محاذ آرائی ۔۔۔؟

مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف گذشتہ چند ماہ سے اپنی رابطہ عوام مہم کے تحت بڑے بڑے عوامی اجتماعات ، اپنی پارٹی کے مشاورتی اجلاسوں اور وکلاء کنونشنز سے اپنے خطابات اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران تواتر سے اعلیٰ عدلیہ بالخصوص اعلیٰ عدلیہ کے بعض فیصلوں اور فیصلے صادر کرنے والے عزت مآب ججز کے بارے میں تنقیدی خیالات کا اظہار ہی نہیں کرتے چلے آ رہے بلکہ اُنکی پارٹی کے دوسرے درجے کے رہنما جن میں بعض وفاقی وزراء ، وزرائے مملکت اور ارکانِ پارلیمنٹ شامل ہیں وہ بھی اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور اُن کے فیصلوں پر تنقید کے اندازِ فکرو عمل پر کاربند چلے آ رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور اُن کے فیصلوں پر تُند و تیز تنقید کرنے والے مسلم لیگی رہنماؤں کو جہاں سپریم کورٹ کی طرف سے توہینِ عدالت کے نوٹسسز جاری کیے جا چکے ہیں وہاں مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابقہ سینیٹر نہال ہاشمی کو سپریم کورٹ کی طرف سے توہین عدالت کا مجرم گردانتے ہوئے سینیٹ کی نشست سے نااہلی اور ایک ماہ قید کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ جناب نہال ہاشمی سینیٹ کی نشست سے محرومی کے بعد اب اڈیالہ جیل کے ہسپتال میں ’’بیمار قیدی‘‘ کے طور پر شب و روز گزار رہے ہیں تو وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی وزیرِ نجکاری دانیال عزیز چوہدری کو سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کے مقدمات کا سامنا ہے۔ اگلے ایک دو ہفتوں میں انہیں توہینِ عدالت کے نوٹسسز کے جوابات دینے ہیں۔ جناب طلال اور دانیال چوہدری صاحبان سپریم کورٹ میں کیا جواب داخل کرتے ہیں اور سپریم کورٹ اُن کے جوابات کو قبول یا رد کرتے ہوئے اُن کے خلاف کیا کاروائی کرتی ہے اس کا اگلے چند ہفتوں یا اس سے بھی کم دنوں میں اندازہ ہو جائے گا۔ لیکن کیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور اُن کے فیصلوں پر تُند و تیز تنقید کا جو رویہ مسلم لیگی رہنماؤں نے اختیار کر رکھا ہے اور جسے وہ تحریکِ عدل کا نام دیتے ہیں اسے کس حد تک مناسب قرار دیا جاسکتا ہے اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
یوں تو سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے فاضل ججز کے ریمارکس اور مخالف وکلا کے دلائل سامنے آنا شروع ہوئے تو مسلم لیگ کے بعض رہنماؤں جن میں طلال اور دانیال چوہدری صاحبان اور وفاقی وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات محترمہ مریم
اورنگزیب پیش پیش تھیں روزانہ کی بنیادوں پر سپریم کورٹ کی کاروائی پر بلند بانگ تبصرے کرنے لگے اس کے ساتھ درخواست گزاروں شیخ رشید احمد، عمران خان اور جناب سراج الحق یا اُن کے نمائندگان کی طرف سے بھی سپریم کورٹ کی کاروائی کے بارے میں گوہر افشانی کا سلسلہ شروع ہو گیا تاہم 28 جولائی 2017 کوپانامہ کیس کا حتمی فیصلہ آنے کے بعد مسلم لیگی قیادت کی طرف سے فیصلہ صادر کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بینچ کو زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا اور کہا جانے لگا کہ سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف قومی خزانے میں لوٹ مار ، بدعنوانی یا ایک پیسے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی لیکن اس کے باوجود انہیں اپنے بیٹے کی کمپنی کا اقامہ رکھنے جس کی انہوں نے کبھی تنخواہ نہیں لی کی بنا پر نااہل قرار دے دیا گیا جو سراسر زیادتی ہے۔ میاں محمد نواز شریف اپنی تقاریر ، اپنے خطابات اور اپنے بیانات میں کھل کر سپریم کورٹ کے اپنے خلاف فیصلے کو ہدفِ تنقید بنانے لگے ۔ اُن کی تقلید میں اُن کی پارٹی کے رہنما جن میں جناب طلال و دانیال چوہدری صاحبان پیش پیش تھے وہ بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو زیادہ شَد و مَد سے تنقید کا نشانہ بنانے میں پیچھے نہ رہے ۔ یہ سلسلہ گاہے گاہے یوں ہی چلتا رہا یہاں تک کہ سپریم کورٹ کی طرف سے عمران خان اور اُن کی جماعت تحریکِ انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین کے خلاف آف شور کمپنیوں کے مالک ہونے اورغیر ملکی اثاثے رکھنے کے مقدمات کا فیصلہ سامنے آگیا جس میں عمران خان کو آف شور کا کمپنی کا مالک ہونے اور منی ٹریل کے واضح شواہد پیش نہ کرنے کے باوجود الزامات سے بری اور جہانگیر ترین کو اپنے انتخابی گوشواروں میں غیر ملکی اثاثوں کو ظاہر نہ کرنے کی بنا پر غیر صادق اورغیر امین قرار دے کر قومی اسمبلی کی رُکنیت سے نااہلی کی سزا سنائی گئی تو مسلم لیگی حلقوں کی طرف سے سپریم کورٹ کے ججز اور اُن کے فیصلوں کو زیادہ شَد و مَد کے ساتھ تنقید کا نشانہ ہی نہیں بنایا جانے لگابلکہ اس تنقید کو مسلم لیگی حلقوں اور سوشل میڈیا کی طرف سے تحریکِ عدل کا نام دے کر اسے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا جانے لگا۔
مسلم لیگ ن کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید اور اس کو بنیاد بنا کر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو نشانہ بنانا کہاں تک جائز ہے اور کیا اِسے تحریکِ عدل کا نام دیا جاسکتا ہے یا اسے اعلیٰ عدلیہ سے محاذ آرائی گردانا جانا چاہیے اس بارے میں مسلم لیگ ن میں بھی یکسوئی اور ہم خیالی نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے اہم رہنما چوہدری نثار علی خان سمیت مسلم لیگ ن کے کئی رہنما اس مؤقف کے حامی چلے آ رہے ہیں کہ اداروں سے محاذ آرائی اور ٹکراؤ مسلم لیگ ن کے مفاد میں نہیں ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے تاہم یہ مؤقف مسلم لیگ ن کی پالیسی نہیں بن سکا ہے اُلٹا اداروں بالخصوص عدلیہ کے خلاف بیان بازی اور تنقید میں وقت گزرنے کے ساتھ شدت آچکی ہے بلکہ اِسے تحریکِ عدل کا نام دے کر جاری رکھنے کی پالیسی کو اختیار کیا جاچکا ہے۔ چوہدری نثار علی خان کو مخالف مؤقف رکھنے کی بنیاد پر سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلم لیگ کی پوری اعلیٰ قیادت اداروں بالخصوص عدلیہ سے محاذ آرائی اور ٹکراؤ کے حق میں ہے۔ مسلم لیگ کے کئی اہم رہنما جن میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی پیش پیش ہیں تواتر سے کہہ چکے ہیں کہ وہ عدلیہ سے محاذ آرائی کے حق میں نہیں ہیں ۔ سپریم کورٹ کی طرف سے وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو توہینِ عدالت کا نوٹس ملا تو جنابِ وزیرِ اعظم کا بیان آیا کہ عدلیہ کی تضحیک ناقابلِ قبول، طلال کو معافی مانگی چاہیے۔ اسی طرح چند دن قبل وفاقی وزیرِ نجکاری دانیال چوہدری کو سپریم کورٹ کی طرف سے توہین عدالت کے الزام میں پیشی کا نوٹس ملا تو جنابِ وزیرِ اعظم نے ایک بار پھر کہا کہ فوج اور عدلیہ کے خلاف بیان بازی نہیں ہونی چاہیے۔ طلال ، دانیال معافی مانگیں ۔ ایک نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جنابِ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ فوج اور عدلیہ کے حوالے بیانات دینا ہماری پالیسی نہیں ہے، نہ قانون میں کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی آئین میں کوئی گنجائش ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں واضح طور پر کہا تھا کہ عدلیہ اور فوج کے حوالے سے بیان بازی نہ کریں اور اس سے گریز کریں۔
جنابِ وزیرِ اعظم کی ہدایات پر کہاں تک عمل ہوا ہے یا ہو رہا ہے اس بارے میں حکومتی اکابرین ہی بہتر طور پر بتا سکتے ہیں۔ جہاں تک تحریکِ عدل کا تعلق ہے اس کا مطلب اگر انصاف کی تیز تر ، صحیح اور بروقت فراہمی ہے ، اس کا مطلب اگر امیر غریب سب کے لیے انصاف کا حصول یقینی ہے ، اس کا مطلب اگر سستا انصاف ہے ، اس کا مطلب اگر عدل کی فرمانروائی ہے ، اس کا مطلب اگر آئین و قانون کی بالا دستی ہے، اس کا مطلب اگر کسی بھی بالا دست طبقے کی دھونس اور دہاندلی سے بچاؤ ہے ، اس کا مطلب اگر انصاف بولتا ہوا نظر آ رہا ہو اور سب کے ساتھ یکساں طور پر ہو رہا ہو تو پھر یہ تحریک عدل ضرور چلنی چاہیے کہ اسی میں ملک و قوم کی عزت اورامن امان کا حصول پوشیدہ ہے اور معاشرے میں سکون اور اطمینان کا بول بالا ہو سکتا ہے۔