dr akhtar

تبدیلی سر پر کھڑی ہے

ایک صاحب کافی عرصے بعد اپنے گاﺅں پہنچے ،راستے ہی میں ان کا خاندانی نوکر مل گیا۔نوکر سے گھر کے حالات پوچھنے لگے۔۔نوکر بولا : ” باقی سب خیریت ہے، بس آپ کا کتا مر گیا ہے۔ “
وہ صاحب بولے : ” میرا کتا مر گیا،کیسے ؟ جناب! آپ کے مرے ہوئے گھوڑے کا گوشت کھا کر کیسے زندہ رہ سکتا تھا؟ تو میرا گھوڑا بھی مر گیا ہے؟ مگر کس طرح؟ بھوک سے مر گیا ہے جناب ۔لیکن میں تجھے اس کے راشن کے لےے پیسے دے کر گیا تھا،وہ کہاں گئے؟ وہ تو آپ کی والدہ کے کفن دفن پر لگ گئے۔۔ او مائی گاڈ ! تو کیا میری والدہ کا بھی انتقال ہو گیاہے؟ جی ہاں! وہ بھلا دو ماہ کے پوتے کا غم کیسے برداشت کرتیں۔اوہ میرے اللہ !کیا میرا بچہ بھی اب اس دنیا میں نہیں رہا؟ جی ! آپ ہی بتائیں، ماں کے بغیر بچہ کیسا زندہ رہتا۔تو گویا تم یہ بتا رہے ہو کہ میری بیگم بھی چل بسی ہے؟جناب گھر کی چھت گری تھی وہ کیسے بچ سکتی تھی۔اوہ بد بخت! کچھ بچا بھی ہے؟؟ نوکر معصومیت سے بولا : ”جی ہاں میں بچا ہوں اور بچا کھچا آپ کے سامنے ہوں“۔
ہمار ے ہاں بھی باقی سب خیریت جیسی خبروں نے قارئین کو بے چین کر رکھا ہے۔خبر چھپی ہے کہ چڑیا گھر کی ہتھنی سوزی ہلاک ہو گئی ہے۔ یہ ایک افسوسناک خبر ہے۔چڑیا گھر کے جانور بھی شدید گرمی سے بہت پریشان ہےں۔انسان تو اپنی مشکلات پر روتا پیٹتا اور احتجاج بھی کر تا ہے۔کلرک گلے میں روٹیاں ڈال کر مہنگائی کے خلاف سینہ کوبی کر رہے ہیں۔مگر بے زبان جانور کیا کریں۔گرمی نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی مصیبت ڈال رکھا ہے اور لوڈ شیڈنگ میں کمی صرف حکومتی بیانوں تک محدود ہے۔اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ میں چڑیا گھر کے مکیں کیا کریں۔جانوروں کے پنجروں میں ائر کُولر لگانے پر بھی پابندی لگ چکی ہے۔خبر ہے کہ انتظامیہ نے تمام پنجروں کے کُولر اتار لےے ہیںاور یہ سب کچھ ڈینگی بچاﺅ مہم کا حصہ بتایاجا رہا ہے۔چڑیا گھر کی ایک اور خبر نے بھی ہمیں پریشا ن کیا ہے کہ وہاں جانوروں کی آپس کی گھمسان کی لڑائی میں ایک مادہ ہرن کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے، یہ خبریں بہت تشویش ناک ہیں۔ہاتھی کے بارے میں تو کہتے ہیں کہ مر کر بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔چلو ہتھنی سوزی مر کر سوا لاکھ کی ہوئی مگر چڑیا گھر کے بندر ،ریچھ ، چیتے اورپرندے گرمی سے مرنے لگے تو کیا ہوگا۔اس سے توچڑیا گھر کی آمدنی کو شدید ٹھیس لگ سکتی ہے۔ہر روز یہ خبر بھی چھپتی ہے کہ آج فلاں ناکے پر اتنے ٹن دودھ گرا کے ضائع کر دیا گیا ہے کہ وہ صحت کے لئے مضر تھا۔جس پر ہمارے دودھ والے صدیق گجر نے عجیب و غریب تبصرہ کیا ہے ،کہتا ہے کہ ناکوں پر اگر ہمارے دودھ کی کوالٹی چیک کر کے اسے سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے توایسا ہی سلوک دیگر ملاوٹ کرنے والوں کے ساتھ کیوں نہیں ہوتا۔کون نہیں جانتا کہ خربوزے اور تربوز کو ٹیکے لگا کر میٹھا اور سرخ کیا جاتا ہے۔دواﺅں اور غذاﺅں میں ملاوٹ عام ہے مگر ملاوٹ کرنے والوں کو اس طرح سر عام ذلیل نہیں کیا جاتا ۔صاحب جی میں خود للیانی ضلع قصورسے بسو ںپر دھکے کھاتا لاہور آتا ہوں، قینچی سٹاپ پر اتر کر دودھ کے برتن موٹر سائیکل پر لاد کر گھر گھر دودھ فراہم کرنے کی ذمہ داری باقاعدگی سے نبھاتا ہوں مگر میرا دودھ بھی کئی بار ناکے پر ضائع کردیا گیا۔اصل بات یہ ہے جی کہ دودھ چیک کرنے والے بھی فرشتے نہیں ہوتے۔ انہیںجو بھتہ دیتا ہے اسے دودھ کے ساتھ جانے دیا جاتا ہے۔جس کا کوئی والی وارث نہ ہو تو اسے حوالات کا منہ دیکھنا پڑتا ہے یا موقع پر جرمانہ کر دیا جاتا ہے۔ہم نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو آج کل ایسا ہی ہوتا ہے۔ہماری تائید سن کر وہ خوش خوش نکل گیا۔بات تو درست ہے۔پانی کی بوتلوں تک میں مضر ِصحت پانی فروخت ہو رہا ہے۔گوشت خالص نہیں ملتا اور خدا نخوانستہ آپ کواپنے مریض کے لےے خون کی ضرورت پڑ جائے تو آپ کو معیاری خون بھی کم ہی میسر آتا ہے۔ہر چیز میں ” دو نمبری “رائج ہو چکی ہے ۔ ادھرصرف پٹرول مہنگا ہو اہے۔ باقی سب خیریت ہے البتہ بجٹ سے پہلے پہلے منرل واٹر ،کیچپ، بسکٹ اور لیکٹرانک مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافے نے مہنگائی کے دانت مزید تیز کر دےے ہیں۔یعنی ایک تو معیاری اشیاءمیسر نہیں اور اگر میسر ہیں تو زیادہ تر جعلی اوردو نمبر ہیں۔جائیں تو جائیں کہاں۔۔۔اگلے روز رفیق کتیا ں والا بھی پریشان نظر آرہا تھا۔بولا باﺅ جی مجھ جیسے گھاگ آدمی کے ساتھ بھی ”دھرو “ ہو گیا ہے۔میری عمر گزری ہے مختلف نسلوں کے کتوں کا کاروبار کرتے مگر اس بار میری آنکھیں دھوکہ کھا گئیں ،ہوا یہ کہ ناصر باغ کے قریب ایک شخص چھوٹے کتورے ہاتھوں میں لےے کھڑا تھا، یونہی میں نے بھاﺅ تاﺅ کیا تو بات بن گئی۔کھڑے کانوں والے یہ نسلی کتورے میں نے اچھی طرح چیک کیے ،کانوں سے اٹھا کر بھی دیکھا اُن کی آواز نہ نکلی۔میں نے ادائیگی کی اور کتوروں کو گھر لے آیا۔مگر شام کو بجلی جانے کے بعد جب ائر کولر بند ہوا تو میں نے انہیں پانی کے ٹب میں رکھ کر نہلانے کی کوشش کی تو میری آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔۔دونوں کتوروں کے کان جو کچھ دیر قبل کھڑے تھے، ڈھلک گئے۔توبہ میری توبہ، یہ زمانہ بھی دیکھنا تھا۔کتوروں کے کانوں کو ایلفی لگا کر کھڑا کیا گیا تھا۔میں نے کانوں سے پکڑ کر کتورے پانی سے باہر نکالے تو وہ چاﺅ ں چاﺅں کرنے لگے، اس حرام خور نے کتورے نشہ پلا کر مجھے بیچے تھے۔بس کیا بتاﺅ ں جی ! عمر بھر کے تجربے کو داغ لگ گیا ہے ،میں اصلی نقلی میں فرق نہ کر سکا ۔در اصل قربانی کے موقع پر بکروں کے ٹوٹے سینگوں کو ایلفی سے جوڑنے کا تو سن رکھا تھا مگر کتے کے کانوں کو ایلفی لگانا اِسی دور کی ایجاد ہے۔میں نے رفیق کتےاں والے کو تسلی دی اور کہا آج کل یہی ہو رہا ہے۔دعاکرو سی پیک مکمل ہو جائے تو ہم بھی چین کی طرح ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہو جائیں گے۔دنیا میں ہماری مصنوعات دو نمبر کی بجائے، چائنہ کے مال کی طرح معیاری اور مقبول ہو جائیں گی۔اورخوشی کی خبر یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے خلاف، گو نواز گو اور گلی گلی میں شور کا نعرہ لگانے والے دو صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی چین کے دورے پر ، وزیر اعظم کے ساتھ گئے ہیں۔لہٰذا گھبرانے کی ضرورت نہیں،تبدیلی سر پر کھڑی ہے۔بقول ممتاز اطہر:
حبس مہمان ہے گھڑی پل کا
چند سانسیں ابھی بچا رکھنا