Asif-anayat-final-new

بیگم امام الدین سے مشعال یٰسین تک

8جولائی کشمیر کے جواں سال برہان وانی کی شہادت کے پہلے سال پر شہید کی جدوجہد اور قربانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک پرعزم و پر ملال تقریب منعقد ہوئی جس میں سراج الحق، سابق چیف جسٹس محبوب احمد، خرم نواز گنڈا پوری، میاں محمود الرشید، جہاں آر او ٹو قیوم نظامی، شہزادی اورنگ زیب محترمہ مشعال حسین ملک اور دیگر نے خطاب کیا۔ تقریب میں شرکاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مشعال یٰسین ملک کی تقریر نے دلوں کو ایسا اشک بار کیا کہ آنکھیں بھی نم ہو گئیں ۔ گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے پروفیسر خواجہ ندیم ریاض سیٹھی نے بی بی مشعال کو جدوجہد آزادی کی علامت قرار دیا اور اپنے کالج میں بھی برہان وانی کے ساتھ ساتھ دیگر شہداء جدوجہد اور کشمیر کی آزادی کے لیے دعا کرائی۔ مقررین مولانا فضل الرحمن پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے تھے کہ کسی متحرک اور مؤثر شخص کو کشمیر کمیٹی کی قیادت سونپی جائے۔ مگر میرے خیال میں وہ کشمیر کمیٹی کو بولی والی کمیٹی سمجھتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جس قوم نے بھی آزادی مانگی اور جدوجہد کی ، آزادی اس کا مقدر ٹھہری ہے۔ جدوجہد دراصل کشمیریوں کے لیے نئی بات نہیں بلکہ ان کی سرشت میں شامل ہے۔ کشمیر 1586ء سے اکبر بادشاہ کے خلاف یقوب شاہ کی صورت میں آزادی کا طبل بجا چکا تھا مغل، سکھ اور پھر ڈوگرا نے غلامی کو تسلسل دیا مگر بیگم آف شیخ امام الدین ایڈوائزر نے ہنری لارنس کو 11 اکتوبر 1846ء کو خط لکھ کر بتا دیا تھا کہ ہم موجود ہیں اور آزادی چاہتے ہیں۔ اس نقیب جمہوریت خاتون کی تعریف علامہ محمد اقبالؒ نے بھی کی۔ آزادی کشمیر کی 70 سالہ کشمیری عوام کی جدوجہد جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے دس لاکھ فوج کی وردی میں ملبوس بھیڑیوں کے سامنے نبرد آزما کشمیری موت کا منہ چڑاتے ہوئے منزل جنت کے مسافر ہوئے بن چکے ہیں۔ اس تحریک میں خواندہ و ناخواندہ ، جوان و ضعیف، مردو زن، توانا و زخمی جری سب شامل ہیں۔ یہ تحریک ایک فطرت، جبلت، کلچر اور طرز معاشرت میں بدل چکی ہے۔ وانی شہید کی برسی پر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگایا گیا اور مزید قیمتی جانوں کو سفاکیت کا نشانہ بناتے ہوئے کشمیریوں کو شہید اور زخمی کیا گیا۔
جتنا بڑا انفراسٹرکچر ہوتا ہے جدال و قتال اور آفات میں اتنی ہی بڑی تباہی ہوا کرتی ہے۔ ہندوستان کو بڑا ناز ہے اپنے بڑے اور پھیلے ہوئے انفراسٹرکچر کا ۔۔۔وہ وقت دور نہیں جب ہندوستان ایک مکروہ، غلیظ اور ناپسندیدہ ریاست کی بجائے درجنوں اچھی آزاد ریاستوں میں بٹ جائے گا۔ محترمہ مشعال یٰسین ملک کی تقریر نے جہاں تقریب کو تعزیتی محفل میں بدل دیا وہاں سامعین کی کیفیت ایسی ہو گئی کہ ہر ایک سینے میں یٰسین ملک اور برہان وانی کا دل دھڑکنے لگا کیفیتوں کی اس تبدیلی کے اظہار میں مقررین نے ذاتی اور مجموعی شرمندگی اور ندامت کے احساس کا بھی ذکر کیا کہ قوم کی یہ بیٹی کیوں آئی ہے۔ اس کی آہ و بکا، اس کی للکار ، پکار ، جدوجہد، اس کا عزم اپنی قوم کے زعما سے کیا مانگتا ہے۔ بلاشبہ ہم شرمندہ ہیں ہم آزادئ جدوجہد کے شہداء مجاہدین شرکاء بھی مقروض ہیں مگر یہ قرض ضرور اترے گا۔
کشمیری ہر روز موت کی وادی میں اترتے ہیں۔ موت ان سے شرماتی ہے مگر دنیا کے سامراجی ممالک کو نظر نہیں آتا کیونکہ اکابرین امہ کی ترجیحات مختلف ہیں ان کے ممالک میں فتنہ پیدا کر کے ان کو ان کے اقتدار کی حفاظت میں لگا دیا جاتا ہے اور ستم یہ ہے کہ ان حکمرانوں کی حزب مخالف بھی کشمیر، اسرائیل، شام و دیگر سفاکیت زدہ ممالک کے عوام کے لیے کوئی بات اور اقدام نہیں کرتی بس وعدۂ فردا کی تکمیل پر بیٹھے ہیں افسوس کہ ہمارے اقتدار اعلیٰ بھی آزاد نہ رہے۔ جس کا سبب صرف ہوس اقتدار ہے۔ جدوجہد آزادی کے رہنماؤں میں چیئرمین جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ جناب یٰسین ملک مجھے نمایاں طو رپر پسند رہے ہیں ان کی بے مثال قربانیاں، جدوجہد ان کی باڈی لینگوئج ان کے الفاظ کا چناؤ ان کی آنکھوں سے ٹپکنے والا عزم ہندوستان کے لیے غصہ میرے لیے ہمیشہ ہی دیدنی رہا ہے۔ آج وہ بھیڑیوں کی قید میں ہیں
کیا جرم کیا ہے اندھیروں میں پڑا ہے
سنا ہے کوئی دیپ ہواؤں سے لڑا ہے
والی بات ہے مگر یہ دیپ اب عقاب بن چکے ہیں اور عقاب سنگینوں کے سائے میں زیادہ دیر نہیں رہا کرتے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ حریت رہنما یٰسین ملک کی شادی چکوال اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے معزز خاندان کی بیٹی مشعال ملک سے انجام پائی جو انگلینڈ سمیت دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کی تعلیم یافتہ ہیں وہ دلہن کیا بنی اور بیاہی کیا گئیں کہ ایک جہد مسلسل میں پورے عزم کے ساتھ جت گئیں۔ محمد یٰسین ملک جو حریت کے مسافر ہیں اتنی آزادی نہیں دیکھی جتنی قید کاٹ چکے ہیں۔ فوجیوں کے تشدد سے پسلیاں ٹوٹ گئیں ، گردے اور دیگر اعضا بیماریوں میں مبتلا ہو گئے، یہ سب جانتے ہوئے کہ ان کی منزل جدوجہد ہے۔ مشعال بی بی نے جیون ساتھی کا انتخاب کیا دراصل یہ ایک فکری انتخاب ہے۔ یہ جدوجہد کا انتخاب ہے اور زندگی میں اپنی قوم کے لیے قربانی کے راستے کا انتخاب ہے۔ مقررین محفل نے بھی اظہار خیال کیا مگر محترمہ مشعال بی بی کا خطاب تو گویا نعرۂ تکبیر تھا دراصل جب کردار بول رہا ہو تو گفتار تمہید بن کر رہ جایا کرتی ہے۔ بقول ڈاکٹر علی شریعتی دین میں دو ہی راستے ہیں ایک جہاد دوسرا وعظ کا۔ جہاد امام حسینؓکا راستہ ہے جو قربانی مانگتا ہے اور وعظ جناب زینبؓ کا راستہ ہے جو قربانی کے ساتھ اور قربانی کے بعد اختیار ہوتا ہے آج بی بی مشعال دونوں راستوں پر گامزن ہے۔
میں سوچ رہا تھا ایک اے ایس آئی دستک دے تو پھنے خانوں کے حواس زائل ہو جاتے ہیں سارے واسطے یاد آجاتے ہیں کہ مصیبت کیسے ٹلے گی ایک JIT برداشت نہیں ہو پاتی مگر جہاں دس لاکھ مسلح بھیڑیے جن کی پشت پر دنیا کی خونخوار طاقتیں ہوں جان کے دشمن بنے ہوں وہاں کیا حالت ہو گی۔ قوم کی بیٹی جس نے چند سال پہلے ہاتھوں کو مہندی لگائی اور صدیوں میں ٹوٹنے والے دکھوں میں مبتلا ہو گئی مگر پرعزم ہے، درد کی یاد نہیں ہوتی مگر یاد کا در بہت ہوا کرتا ہے۔ کبھی میں سوچتا ہوں کہ 14 اور 15اگست 1947ء برصغیر کی آزادی کا دن تھا یا کشمیر کی غلامی کا۔۔۔گورے کی غلامی سے بنیئے اور بھیڑیے کی غلامی کے دور کا آغاز ہوا جو اب انشاء اللہ آخری سانسیں لے رہا ہے۔ کشمیر کی آزادی ہندوستان کی دیگر اقوام کی آزادی پر منتج تو ہو گی مگر ہمیں بھی حکومتی ، عوامی، معاشرتی، سماجی، سیاسی سفارتی حتیٰ کہ عسکری و بین الاقوامی سطح پر حق غیرت ادا کرنا ہو گا ۔ مشعال نے یٰسین ملک پر ہونے والے تشدد، ہندوؤں کی جیل میں ان کی قید اور اپنے یہاں کی قید اور قربانی کا ذکر بھی نہ کیا۔ یہ بذات خود ایک زبردست قربانی ہے مگر تاریخ اور دنیا بیگم شیخ امام الدین سے مشعال یٰسین ملک کی جدوجہد یاد رکھے گی۔