nasif awan new

بہارآئے گی کب، گل کھلیں گے کب؟

ہمارے حکمرانوں نے اپنے عوام کو ’’حفاظت خود اختیاری کے نظریے‘‘ سے متعارف کرا دیا ہے۔ کہ وہ ان کے جان و مال اور مستقبل کو تحفظ نہیں دے سکے۔ نوجون بے روز گار ہو رہے ہیں، بچے بوڑھے عورت مرد سبھی کو اندیشوں اور خطرات نے آن گھیرا ہے۔ کچھ محفوظ نہیں، بس لوٹ کھسوٹ، افراتفری، بے چینی اور بے قراری نظر آتی ہے۔ جدگر دیکھو ستیم مزید یہ کہ لوگوں کو تسلیاں نہیں طفل تسلیاں دی جا رہی ہیں۔ اور کچھ تو اہل اقتدار تمسخر بھی اڑا رہے ہیں۔ لہٰذا بے بس عوام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جو کرنا ہے انہیں خود ہی کرنا ہے۔ ان کے حاکم انہیں کچھ نہیں دے سکتے وہ تو صرف اور صرف اپنے لیے کر سکتے ہیں جو وہ چاہ رہے ہوتے ہیں۔
اس کے باوجود وہ اختیارات کے مالک ہیں اور اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ مگر مجال ہے کسی کے کان پر جوں رینگے؟ پورے ملک میں قتل و غارت سے لے کر عصمت دری کے واقعات رونما ہو رہے ہیں چھینا جھپٹی دھڑلے سے ہو رہی ہے اور سویلین ادارے ہا تھ پر ہاتھ دھرے اپنے سامنے ہونے وال اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ اب چند بڑی چھوٹی سیاسی جماعتیں سڑکوں پر آ کر واویلا کر رہی ہیں کہ حکمرانوں نے ملک کی معیشت بر باد کر دی ۔ سماجیات کا بیڑا غرق کر دیا۔ لوگ ایک دوسرے سے متنفر ہونے لگے۔ مافیاز اپنی من مانیا کرنے میں آزاد پھرنے لگے۔ رشوت اور سفارش نے انتظامی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ افسر شاہی، عوام سے رخ موڑ کر حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے کام کرنے لگی۔ اس طرح کی اور بہت سی الزام تراشیاں اور طعنے ہیں جو وہ مسلسل دیے جا رہی ہیں۔
اب انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس حکومت کو چلنے نہ دیا جائے۔ میاں نواز شریف کے شیخ مجیب الرحمن سے متعلق بیان پر تو وہ اور بھی خفا ہیں کہ انہوں نے خطر ناک حد کو پار کر لیا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر ان کا متحرک نہ ہونا اور حکومت کو مزید مہلت دینا ’’شریک
جرم‘‘ تصور جو گالہٰذا وہ گھر نہیں بیٹھیں گی دما دم مست قلندر کریں گی۔ بعض حلقے ذمہ داران سے سوال کر رہے ہیں کہ جب مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟مگر وہ انتخابی عمل ( جمہوریت) کو آگے بڑھانے کا تہیہ کر چکے ہیں اور کسی قسم کی مداخلت کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں۔ اسی لیے عام آدمی نظریہ حفاظت خود اختیاری کے تحت سوچنے لگا ہے کہ جب اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ہی جینا ہے تو پھر اسے میدان عمل میں آنا ہو گا۔ مگر کیا ایسی سوچ سے، اسی فکر سے ریاستی اداروں پر سوال نہیں اٹھے گا کہ وہ کس لیے ہیں؟
بہر حال عوامی انداز فکر و غور کچھ بھی ہو حقیقت یہی ہے کہ اداروں کو آئین و قانون کے دائرے میں ہی رہنا ہے۔ وہ کسی صورت ان سے صرف نظر نہیں کر سکتے۔ مگر وہ جب آئین و قانون شکنی کو ہوتا دیکھیں گے تو وہ ضرور حرکت میں آئیں گے بلکہ آچکے ہیں۔ لہٰذا دھیرے دھیرے قانون اپنا راستہ بنا رہا ہے۔ مگر عوام ظلم و زیادتی سہتے سہتے تنگ آ چکے ہیں انہیں چھے دہائیاں ہو چکی ہیں غموں کی دنیا میں رہتے ہوئے۔ جس سے ان کی برداشت ختم ہونے لگی ہے۔ عرض ہے تو اتنی کہ اس صورت حال کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ کچھ کام جنگی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے تا کہ انتشار کی کیفیت سے بچا جا سکے اور جو مایوسی عام آدمی میں جنم لے رہی ہے بلکہ لے چکی ہے اسے ختم کیاجا سکے۔ مگر حیرت بھی ہے اور افسوس بھی کہ کوئی بھی ان خطوط پر نہیں سوچ رہا جبکہ عوام جیتے جی مر رہے ہیں۔ ان کے بچے اغوا ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ زیادتی بھی ہو رہی ہے۔ اور ریاستی ادارہ پولیس بے خبر ہے، کسی نامعلوم دباؤ کے زیر اثر ہے؟ مگر عوام کے نزدیک وہ اپنا فرض پورا کرنے سے قاصر ہے۔ لہٰذا اسے ہی برا بھلا کہا جا رہا ہے، وہی ان کی نفرت کا نشانہ بن رہا ہے۔ اس میں کچھ غلط بھی نہیں، جب وہ بطور ایک ادارے کے اپنا وجود رکھتا ہے تو اسے اپنی ذمہ داری کا احساس کیوں نہیں۔ حکمران آتے جاتے رہتے ہیں مگر وہ تو موجود رہتا ہے اور عوام کی حفاظت اسی کے سپرد رہی ہے۔
خیر اب عدلیہ اپنے فرض کو پہچانتے ہوئے آئین و قانون کے اندر رہتے ہوئے عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوع جہد کے راستے پر ہو گا مزن ہو چکی ہے۔ تمام صوبوں میں جس طرح کا بھی بگاڑ پایا جاتا ہے اس کے خاتمے کے لیے اس نے اپنا کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اس پر بھی اہل اقتدار منہ پھلا رہے ہیں کیونکہ وہ تو عوام کو اسی طرح دیکھنا چاہتے ہیں کہ انہیں جہالت ، بیماری بھوک ننگ اور بے بسی چمٹی رہیں۔ اور وہ ان کو ان سے نجات کے لیے پکارتے رہیں۔ یوں ان کا سیاسی دھندہ بھی چلتا رہے اور بیو پار بھی۔
مجھے لگتا ہے کہ اب ان حکمرانوں کی اور اہل اختیار کی ساری چالیں، ساری حکمت عملیاں اور سارے منصوبے آشکار ہو چکے ہیں۔ کھل کر سامنے آ گئے ہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں اور کیا نہیں۔ لہٰذا سیاسی پارا اوپر ہی جائے گا۔ اگرچہ اس سے کوئی انقلاب نہیں آئے گا۔ کیونکہ انقلاب لانا کسی کو بھی مقصو د نہیں کیونکہ حالت موجود ہی میں سب کی بہتری ہے۔ ہاں اتنا لازمی ہو گا کہ کچھ تڑپا دینے اور رلا دینے والے مسائل سے عوام کی گلو
خلاصی کرا دی جائے۔ یہ بھی بڑی بات ہو گی وگرنہ موجودہ حکمران عوام پر ہر روز مشکلات و مسائل کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ جو انہیں ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔
عوام کو ریلیف دینے میں اگر سر گرم عمل سیاسی جماعتیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت مضبوط ہو گی۔ انتخابی عمل بھی شفاف ہونے کا امکان ہے جو آ گے چل کر واقعتا ایک جمہوری معاشرے کی تشکیل میں ممد و معاون ثابت ہو گا۔ لگ یہی رہا ہے کہ دیکھنے والوں نے دیکھ لیا ہے کہ اس کے بغیر دوسرا کوئی راستہ نہیں کیونکہ عوام جب اپنے ذہنوں میں برا جمان خوف کو خود سے الگ کر دیتے ہیں تو ہو دہکتا انگارا بن جایا کرتے ہیں جس کی تپش ہر کوئی محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا امید واثق ہے کہ اب ’’راج شاہی‘‘ کو درست کہنے والے قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے مگر ان کی حرص و ہوس دیکھیے کہ وہ آئندہ بھی اقتدار کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے کئی طرح کی پالیسیاں بنانا شروع کر دی ہیں۔ ان کے بہی خواہ گلی گلی جا کر چھوٹے موٹے کاموں کا عوام کو بتا رہے ہیں۔پچھلے چند مہینوں سے اب تک جو سیوریج یاکوئی سڑک بنا رہے ہیں ان کو ایک بہت بڑا معرکہ قرار دے کر ان سے داد و تحسین وصول کر رہے ہیں۔ جبکہ وہ (عوام) جانتے ہیں کہ انتخابات کے قریب آتے ہی یہ کیا گیا ہے تا کہ وہ تازہ تازہ حاصل ہونے والی خوشی سے مغلوب ہو کر ووٹ انہیں دے دیں۔ اور دوبارہ پھر اپنے اوپر مسلط کر لیں تا کہ انہیں دروغ گوئی ، مہنگائی ، بے روز گاری ، نا انصافی اور زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑے۔ اب کی بار ایسا نہیں ہو گا۔ وہ جو دلوں میں چھپا تھا، ظاہر ہو چکا ہے۔ وہ خلوص اور محبت جو عوام کے لیے ہوتی ہے انہیں تھوڑی سی بھی دکھائی نہیں دی لہٰذا وہ اور اداس و غمگین صبحوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اب انہیں، ان کو لانا ہے جو پت جھڑ کے اس موسم کو کھلتے پھولوں میں بدل دیں۔