mr malik new

بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کا وقار بحال کیجئے

ہمارے تعلیمی ادارے اعتماد ،تقدس اور وقار کی عمارت پر کھڑے ہوتے ہیں یہ تینوں خوبیاں اگر تعلیمی اداروں میں نہ ہوں تو ان کی عمارت کا تصور زمین بوس ہوجاتا ہے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں ایک طالبہ کے ساتھ ہونے والے واقعہ نے اس کے تقدس ،وقار اور اعتماد پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔
صحافت کی معراج کو بہت کم لوگ پاتے ہیں
جنوبی پنجاب میں میاں غفار کی صحافت کا ادراک مجھے ایک طویل عرصہ سے ہے ان کا جنوبی پنجاب میں آبلہ پائی کا یہ سفر لمبی مسافت پر محیط ہے انہوں نے جنوبی پنجاب میں قدم قدم پر بکھری جبر، استحصال و محرومیوں کی داستانیں رقم کرنے والی قوتوں کو ایک محب وطن اور دھرتی کا بیٹا بن کر للکارا ان کے صحافتی کردار پر انگلی نہیں اُٹھائی جاسکتی مگر ان کا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے حوالے سے یہ کہنا ’’ملتان میں تقریر کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ’’جس طرح مردے اذان کی آواز پر لبیک نہیں کہتے اسی طرح یہاں کے لوگ بھی ظلم کے خلاف نہیں اُٹھتے ‘‘یہاں کے زمینی حقائق کی تشریح ہے میری جب ان سے پہلی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا تھا کہ قلم کی قسم خدائے بزرگ و برتر نے کھائی ہے اور اس کو بیچنے والا اپنے ضمیر کا سودا کرتا ہے ضیا شاہد کے یہ الفاظ بھی ایک کڑوا سچ ہیں کہ ملتان یونیورسٹی جیسا واقعہ کسی اور شہر میں ہوتا تو عوامی رد عمل سے حکومت کو وختہ پڑ جاتا ایک سال سے بلیک میل ہونے والی طالبہ نے بالآخر زبان کھولی اسے جی پی بڑھانے کے نام پر بلیک میل کیا جاتا رہا وائس چانسل کو ایک سال قبل دی جانے والی درخواست بھی ردی کی ٹوکری میں چلی گئی لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ تعلیمی ادارے میں جس مسئلے کو میاں غفار نے اجاگر کیا اور ضیا شاہد نے حکام بالا تک پہنچایا سوالات یہ اٹھتے ہیں کہ اس سے ذمہ دار ان کیوں بے خبر رہے ؟کیا یونیورسٹی انتظامیہ کے علم میں یہ بات نہیں تھی اجمل مہار جو زمانہ طالب علمی سے ہی سکینڈلز کی زد میں رہا اور دوران تعلیم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں اس کے کئی سکینڈلز سامنے آئے اور یہی نہیں جب وہ بطور ریسرچ سکالر بہاؤالدین یونیورسٹی میں کنٹین میں رہائش پذیر تھا تو کنٹین کی چھت پر بھی ایک عورت کے ساتھ فحش حرکات کرتے ہوئے پکڑا گیا کو جنوبی پنجاب کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں اہم عہدے پر لگا دیا گیا اس واقعہ سے ایک تعلیمی ادارے کا نہ صرف وقار داؤ پر لگ گیا ہے بلکہ استاد جسے معمار قوم کہا گیا ہے اس کا کردار مجروح ہوا ہے اور جنوبی پنجاب کی اس بڑی تعلیمی درسگاہ میں داخلہ لینے والی جنوبی پنجاب کی طالبات کے والدین کے اعتمادکو بری طرح ٹھیس لگی ۔
عرصہ پہلے ایک دانشور دوست جناب شوکت اشفاق نے قلم اُٹھا یا تھا کہ ’’بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کا قیام آج سے تقریبا46سال قبل ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں عمل میں آیا اْس وقت اْس کا چارٹردی ملتان یونیورسٹی کے نام سے ہوا تھا جس کا مقصد اس قدیم ترین شہر کو تعلیمی میدان میں ایک مقام دلاناتھا معروف لیجنڈماہر تعلیم ڈاکٹر خیرات ابنِ رسا جیسے نامور سکار ابتدا میں رئیس جامعہ رہے 80کی دہائی کے وسط میں موجودہ جو یقیناًایک سیاسی مسئلہ تھا اس یونیورسٹی کا نام تبدیل کر کے بر صغیر کے نامور بزرگ اور اپنے دور میں اس علاقے کیلئے تعلیمی سر گرمیاں عام کرنے والے روحانی پیشوا حضرت بہاؤالدین زکریا ؒ کے نام پر رکھ دیا گیاٍ اس دوران سیاسی حکومتوں کی وجہ سے اس علاقے کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں نہ صرف انتظامی مداخلت بڑھتی گئی بلکہ تعلیمی معاملات میں بھی پہلے مقامی پھر لاہوری سیاست دانوں نے براہ راست مداخلت کو اپنا وطیرہ بنا لیا خصوصا انتظامی سٹاف پر اْنہوں نے پہلے گرفت مکمل کی اور اس کے بعد آہستہ آہستہ تعلیم سے وابستہ سٹاف کی تعیناتی میں بھی بھر پور مداخلت شروع کر دی اور یہ مداخلت اس حد تک بڑھی کہ ٹیچنگ سٹاف کو انتظامی عہدوں پر براہ راست تعینات کیا جانے لگا خصوصاً ترقیاتی کاموں ،ٹرانسپورٹ اور سٹیٹ منیجمنٹ کیلئے بھی اساتذہ تعینات ہونے لگے یونیورسٹی میں تعلیمی سر گرمیوں کے بجائے اساتذہ کی اپنی اندرونی سیاست نہ صرف زور پکڑنے لگی بلکہ یونیورسٹی کے اندر کئی گروپ بن گئے جن میں سے کچھ نے مختلف طلباتنظیموں کا سہارا حاصل کر لیا کچھ نے یونیورسٹی سٹاف یونینز کے مختلف دھڑوں کو اپنے ساتھ ملا لیا یوں یہ یونیورسٹی تعلیمی میدان میں اچھی ریٹنگ حاصل کرنے کے بجائے منفی سر گرمیوں میں اپنا مقام بنانے لگی ظاہر ہے کہ اس کا تمام تر کریڈٹ اْن سیاست دانوں کو جاتا ہے جنہوں نے اس عظیم درسگاہ کو اپنی ذاتی جاگیر بنائے رکھا جن میں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ،مخدوم شاہ محمود قریشی ،حاجی سکندر حیات بوسن سمیت وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف خود بھی شامل ہیں جس کا خمیازہ یہ نکلا کہ یہ یونیورسٹی اکیڈمک اور ریسرچ ورک سے زیادہ ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بن گئی اور مافیا کا قیام عمل میں آگیا جنہوں نے اپنے اپنے طریقہ کار کے مطابق ہر آنیوالے وائس چانسلر کو نہ صرف ٹریپ کیا بلکہ اس سے اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق کام بھی لئے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ وائس چانسلر کے عہدے تک پہنچنے والا کوئی عام ماہر تعلیم نہیں بلکہ ایک پراسس سے گزر کر اس اعلیٰ ترین اور قابل تحریم عہدے تک پہنچتا ہے اور جس کے بارے میں یہ مثبت تاثر ہوتا ہے کہ وہ کم از کم سیاسی پریشر کسی طور بھی اپنے اوپر طاری نہیں کریں گے لیکن بد قسمتی کہ ایک دبنگ اور جاندار وائس چانسلر جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں یہاں تعینات ہوا جس کا نام جو بین الاقوامی ریسرچ سکالر ڈاکٹر نصیر احمد خان تھے جنہوں نے سیاسی مداخلت کو ختم کرکے ایک ایسی تعلیمی فضا قائم کی جو محسوس ہوتی تھی لیکن زندگی نے اْن کو مہلت نہ دی اور وہ ہوائی جہاز کے حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے ‘‘۔
یہ ذمہ داری موجودہ وائس چانسلر کی ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کے واحد تعلیمی ادارے کا وقار بحال کرنے میں کہاں تک اپنے اختیارات سے کام لیتے ہیں اور اپنی صفوں میں موجود متعلم کے نام پر کالی بھیڑوں کا احتساب کیسے کر پاتے ہیں ؟جبکہ میاں غفار جیسا دبنگ صحافی بھی ان کے ساتھ کھڑا ہے ۔