Khalid Memood

بھنگڑا

انتخابی نتائج کے بعد ڈھول کی تھاپ ، آتش بازی اور بھنگڑے نے بابا جی کے خیالات کا تانتا توڑ دیا۔ وہ ہجوم کی جانب متوجہ ہوئے، چند قدم آگے بڑھے، اک شوخ نوجوان بابا جی کا ہاتھ تھام کر بولا پاؤ بھنگڑا۔ بابا جی نے سنی ان سنی کردی اور سبب پوچھا۔ ادھیڑ عمر شخص نے جواب دیا مسلم لیگ۔۔۔ بات ابھی ادھوری تھی بابا جی گویا ہوئے کونسی مسلم لیگ؟ اور پھر اک ٹھنڈی آہ بھر کے بولے میں تو صرف ایک مسلم لیگ کا دیوانہ ہوں۔ جس نے مجھے چھت دی۔ بابا جی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ ادھیڑ عمر فرد اب پوری طرح بابا جی کی جانب متوجہ تھا۔ آنسو جھری زدہ رخسار پر رواں تھے۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ بزرگ بڑا گہرا زخم کھائے ہوئے ہیں۔ اس بھنگڑے سے غم کا کیا تعلق؟ وہ خود کلامی کرنے لگا۔ اس نے بابا جی کو اک جانب جانے اور ہوٹل پر چائے پینے کی پیش کش کردی تا کہ ان کے غم کو ہلکا کیا جاسکے۔ مسلم لیگ کے نام سے یہ اندازہ تو ہوا کہ موصوف ہجرت کا دکھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ بابا جی نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا ہائے نی میری ماں۔ اس لفظ نے میزبان کو بھی رنجیدہ کر دیا۔ چائے کی گرم پیالی سے اٹھتے ہوئے دھویں نے ماحول کو بدل دیا۔ بابا جی گویا ہوئے کہ تقسیم ہند کے وقت وہ دس سال کے قریب تھے۔ سکول میں زیر تعلیم تھے۔ جب کبھی ہمارے علاقے میں مسلم لیگ کی قیادت آتی اور جلسہ کرتی تو میں بڑے ذوق شوق سے شرکت کرتا۔ سب ہم جولی اس کا پر چم اٹھائے نعرے بلند کرتے۔ بازاروں میں گشت کرتے اور بڑوں، بوڑھوں اور عورتوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیکھتے۔ پھر اچانک ہجرت کا طبل بجا جو سب کے لیے غیر متو قع تھا لیکن اس کے سوا چارہ بھی نہ تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ نعروں کی عملی تعبیر دیکھنے جا رہا ہوں۔ خیالات میں گم نیا پاکستان دیکھ رہا تھا لیکن غیر متوقع حالات نے خوشی کو ماتم میں بدل کے رکھ دیا۔ مجھے یاد ہے کہ میرے ساتھ خاندان کے چالیس افراد نے ہجرت کی جن میں سے آدھے زندگی بچا کر نوزائیدہ مملکت پہنچے۔ اس پہ جان قربان کرنے والوں میں میری ماں بھی شامل تھی۔ جب والٹن میں پڑاؤ پڑا تو مہا جرین کے دل میں ملال تھا مگر شکوہ نہ تھا۔ وہ مطمئن تھے کہ جس نے زندگی عطا کی وہ آ سائشیں بھی فراہم کرے گا ۔
بابو ! وقت سب سے بڑا مرہم ہے۔ جب زمین اور گھر مل گیا تو نئے سرے سے زندگی کا آغاز ہوا۔ مصروفیات میں ایسے گم ہوگئے کہ وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا لیکن ہر یوم آزادی ہمارے زخم تازہ کر دیتی۔ ہم بھی اللہ کی رضا سمجھ کر خاموش ہو جاتے لیکن ماں کی جدائی کا زخم آج بھی تازہ ہے۔ شب وروز گزرتے رہے اک روز اچانک میری بیوی کی طبیعت ناساز ہوگئی، قریبی ہسپتال کا رخ کیا ڈاکٹر نے بڑے شہر روانہ کردیا۔ میرا دل اس دن بیٹھ گیا جب ڈاکٹر نے کہا کہ مشین خراب ہے اس کے ٹیسٹ باہر سے کروا کر لائیں۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو چند ہزار تھے یوں بغیر ٹیسٹ کرواکے دوائی لکھواکر گھر لائے۔ چند روز بعد وہ اللہ کو پیاری ہوگئی۔ دل سے آہ نکلی کہ ہمارے بزرگوں کی قربانی پیشتر اس کے آنسو نکلتے بیٹے نے متوجہ کیا کہ اس ملازمت کے لیے مجھے انٹرویو دینے شہر جانا ہے میرے ساتھ چلیں۔ اک بیوی کے غم کا بوجھ اٹھا کے بوجھل دل کے ساتھ مذکورہ مقام پر پہنچا، نوجوانوں کا اک ہجوم تھا جو بے روزگاری کے سمندر میں غوطہ زن تھے۔ دفتر کا منظر حیران کن تھا۔ سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ کافی انتظار کے بعد ایک صاحب لسٹ تھامے آئے اور دیوار پر آویزاں کرتے روانہ ہوئے۔ حاضرین انہیں پکارتے رہے لیکن انہوں نے سنی ان سنی کردی۔ اس سے پیشتر کہ انٹرویو کا آغاز ہوتا دفتر کے آفیسر باہر آئے اور حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا جس ہستی نے انٹرویو لینے آنا تھا وہ سرکاری دورے پر بیرون ملک چلے گئے ہیں لہٰذا انٹرویو ملتوی کیا جاتا ہے۔ شیڈول اخبارات میں دوبارہ جاری ہوگا۔ حاضرین کو اندر سے خبر ملی کہ درجہ چہارم کی یہ پوسٹیں اراکین اسمبلی کی سفارش پے میرٹ کے نام پر تقسیم ہوں گی۔ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ بیٹا طنزیہ انداز میں بولا یہی وہ ملک ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانی دی تھی۔ بابا ٹینشن نہ لے یہاں سب چلتا ہے۔ میزبان نے چائے کا آٖخری گھونٹ لیتے ہوئے کہا بابا جی اس میں ملک کا تو کوئی قصور نہیں ذمہ داری تو اس کے چلانے والوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی کی حق تلفی نہ ہونے دیں، انصاف کا ترازو ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہے۔بابا جی نے پھر ٹھنڈی آہ بھری اور گو یا ہوئے میں نا انصافی پے غمگین نہیں میرا دکھ تو اس سے بھی گہرا ہے۔ نہیں معلوم کہ تم نے سقوط ڈھاکہ کی رات دیکھی ہے یا نہیں مگر میں نے کانوں سے لوگوں کو دھاڑیں مارتے سنا ہے۔ میری زندگی کی وہ کرب انگیز رات تھی۔ میں کیا پورا خاندان رات بھر سو نہیں سکا تھا۔ مجھے رہ رہ کر برچھی پے لٹکے بچے، عزت کی خاطر منت سماجت کرتی خواتین اور سر کٹی لاشیں یاد آرہی تھیں اور ماں تو کبھی بھولی ہی نہیں۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ خود کو جمہوری کہنے والا سیاسی رہنما ہٹ دھرمی اور ضد میں اتنا آگے نکل جائے گا کہ کرسی کو ملک پر تر جیح دے گا۔ تاریخ پڑھ کر سر پیٹنے کو دل چاہتا ہے کہ بانی جماعت کے بعض راہنماؤں کا خون اتنا سفید کیوں ہوا کہ انہوں نے ملک توڑنے والوں کے ہاتھ مضبوط کر ڈالے اور خود حصوں بخروں میں بٹ گئے۔ قصور ان کا بھی نہیں قائد کے آنکھیں موندتے ہی انہوں نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔ اگر وہ حیات اوران کے مخلص ساتھی زندہ ہوتے تو ریاست کا یہ چلن نہ ہوتا۔ جہاں صاحبان اقتدار نے ہر شخص کی قیمت لگادی، پیسہ اس سیاست میں جو کبھی عبادت خیال کی جاتی تھی اس طرح عود کر آیا ہے جس طرح ناچنے والی کے گھر آتا ہے۔ اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے جو خواب ہمارے ہزاروں لوگوں کو دکھائے گئے وہ سب سراب ہوئے۔ یہ کل ہی کی بات ہے میں اپنی پوتی کے داخلہ کے لیے سرکاری یونیورسٹی میں گیا، معلومات کے بعد میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی جب ایک اہلکار نے بتایا کہ ابتدا کے چھ ماہ کے لیے آپ کو چالیس ہزار فیس ادا کرنا ہوگی جو بعد میں بتدریج کم ہو جائے گی لیکن خاطر خواہ کمی نہ ہو گی۔ آپ یکمشت ادا نہیں کر سکتے تو پرائیویٹ ادارے کا رخ کریں اقساط میں جمع ہو سکتی ہے۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا جو قوم علم بیچ کر اثاثوں میں اضافہ کرے اس کی دانشمندی پر کون یقین کرے گا۔ پوتی نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا میں نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور کہا فکر مند نہ ہو اللہ ہماری قر بانیاں ضائع نہیں کرے گا دوسرا راستہ نکل آئے گا۔ بابا جی میزبان سے مخاطب ہو کر بولے تم تو دل میں اک زخم سمجھ رہے ہو یہاں تو رفو کا بڑا کام ہے۔ رات کی تاریکی میں دروازے پے دستک ہوئی پوتے نے دروازہ کھولا۔ بد تمیزی سے ایک باوردی شخص اس سے مخاطب تھا۔ صورت حال کی نزاکت کو بھانپ کر اس جانب بڑھاتو دیکھا ’’نکا ‘‘تھانیدار تھا۔ آمد کا سبب پوچھا تو تلخ لہجے میں بولا گاؤں کے اک آوارہ لڑکے کے قبضے سے پستول برآمد ہوا ہے آپکا پوتا بھی اس کے ہمراہ تھا لہٰذا ہمیں شہادت درکار ہے، اسے تھانے لے جانا ہے۔ میں نے وضاحت دی بات نہ بنی۔ رات بھر قیام کرنا پڑا۔ پر شکوہ ہوا تو منشی نے کہا ہماری قربانی دیکھیں رات بھر گشت کرتے ہیں، کسی سے چائے پی لیں تو لوگ آسمان سرپر اٹھالیتے ہیں۔ دل میں سوچا اگر اپنی قربانیاں سنانا شروع کردوں تو ضمیر نے کہا اجر اللہ سے مانگنا ہے اور دکھ تو اس کو سناتے ہیں جس کے پاس مرہم ہو، یہ تو خود انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ توقع تھی کہ صبح ضمانت ہو جائے گی معلوم ہوا کہ قا نون کے محافظ ہڑتال پے ہیں تب تک زندان کا دکھ اٹھانا پڑے گا۔
میزبان سے مخاطب ہو کر بابا جی بولے، یہ بھنگڑا ڈالنے والے بھی انہی مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں۔ اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہوگی یہ ان کی فتح کا جشن مناتے ہیں جو اس فرسودہ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ہر جائز و نا جائز حربہ استعمال کر کے صرف اقتدار کی کرسی چاہتے ہیں ان کی اولادیں کب اس طرح کرب و دکھ سے گزری ہیں جس سے میں اور آپ گزر رہے ہیں۔ خدا کرے یہ حقیقت جلد از جلد نسل نو پہ آشکار ہو جائے۔ اسی دعا کے ساتھ بابا جی رخصت ہوئے اور بہت سے سوالات چھوڑ گئے۔