Dr-Murtaza-Mughal-new

بھارت: پاکستان مخالف بڑی جنگ کی ریہرسل کر رہا

بھارت سرکار کے غیر دوستانہ ، جارحانہ اور جنگجویانہ رویوں کی وجہ سے عالمی برادری میں بھارت اور پاکستان کا بنیادی تشحص متحارب ہمسایوں کا ہے۔ یہ تشخص9 6 برسوں سے برقرار ہے۔ جہاں تک دونوں ممالک کے عوام کا تعلق ہے تو ان کا بنیادی مسئلہ افلاس، ناداری، غربت اور بیروزگاری سے نجات حاصل کرناہے۔ ان کی اولین ترجیح اور بنیادی مطالبہ روٹی، کپڑے اور مکان کا حصول ہے لیکن بھارت پر رول اوور کرنیوالی انتہا پسند زعفرانی انقلاب کی داعی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے’’ عقاب‘‘ اپنے عوام کی اس اولین تر جیح اور بنیادی مطالبے کوپر کاہ اتنی اہمیت بھی نہیں دیتے اور انہیں مہا بھارت اور اکھنڈ بھارت کے پر فریب ایجنڈے کی تکمیل کیلئے بھارتی سرحد یں مالدیپ اور کراچی تک پھیلانے کے خواب دکھاتے رہتے ہیں۔ بھارت کے پیدا کردہ مخاصمت اور مزاحمت کے ماحول کی وجہ سے دونوں ممالک کے ارباب حکومت خطے کے ایک سو70 کروڑ سے زائد عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے لائق رشک اقدامات نہیں کر سکے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں یہ عوام ہی ہوتے ہیں جنہیں متحارب ہمسایہ ممالک کے مابین جاری کشیدگی کے زخم اورچرکے اپنے سینوں پر سہنا پڑتے ہیں۔ کشیدگی کے چرکے اور یہ زخم رفتہ رفتہ ناسور کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔ ایسے میں یہ ذمہ داری ان ممالک کے ارباب حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک کے عوام کے سینوں پر رِسنے والے زخموں کو ناسور بننے سے بچانے کیلئے اقدامات کریں۔ دنیا بھر میں ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے قریب آنے کیلئے مثالی اقدامات کر رہے ہیں۔ پرانی نفرتوں اور عداوتوں کے خنجروں کی تدفین کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو مزید مبتلائے آلام و آزار ہونے سے بچایا جا سکے۔ اگر پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت کے حکمران ذہانت، دانش مندی ، فراست ، دور اندیشی اور بصیرت سے کام لیں تو کشیدگی کو جنم دینے والے بنیادی مسائل کا حل ڈھونڈا جا سکتاہے۔ عالمی برادری بخوبی یہ جان چکی ہے کہ جنوب مشرقی ایشیاء میں اُس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات کی کوششیں بار آور ہو سکتی ہیں جب تک کشمیری عوام کو اقوام متحدہ اور سلامتی کی منظور شدہ قرار دادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت اور حقِ رائے شماری نہیں دیا جاتا۔ استصواب رائے کے بغیر کشمیری عوام کا مینڈیٹ واضح اور شفاف انداز میں ابھر کر دنیا کے سامنے نہیں آ سکتا۔ واضح رہے کہ تنازع کشمیر کوئی معمولی سرحدی تنازع نہیں بلکہ یہ کشمیری عوام کی آزادی کا اہم اور حساس ترین مسئلہ اور معاملہ ہے۔
ہر کس و ناکس جانتا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی خارجی و داخلی سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے عمل میں گزشتہ4برسوں میں انتہائی شدت آئی ہے۔ ایک تسلسل کے ساتھ بھارتی افواج پاکستان کے مختلف بین الاقوامی بارڈرز اور لائن آف کنٹرول پر اندھا دھند جارحانہ فائرنگ اور بمبنگ کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اندر خانہ بھارتی حکمران مستقبل قریب یا بعید میں پاکستان کیخلاف ایک بڑی جارحانہ جنگ کی ریہرسل کر رہے ہیں۔ بھارت پاکستان کی داخلی سرحدوں میں اپنی ایجنسیوں کے ذریعے مختلف ریشہ دوانیاں کر رہا ہے۔ اس امر کے واضح ثبوت اور شواہد مل چکے ہیں کہ بلوچستان، کراچی، اندرون سندھ، جنوبی پنجاب ، سوات اور فاٹا کے علاقوں میں بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹ مختلف بہروپوں میں پاکستان کی قومی سلامتی اور داخلی خود مختاری کیلئے ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی مداخلت کاروں کو امریکا، برطانیہ، اسرائیل ، روس، افغانستان اور دیگر پاکستان مخالف ممالک کی مالی و اسلحی معاونت حاصل ہے۔ کون نہیں جانتا کہ مودی سرکار دو طرفہ جامع مذاکرات سے قبل ہی ممبئی دھماکہ سیریل کی قسط نمبر2 پٹھانکوٹ ائر بیس پر سیلف پلانٹڈ حملہ کے عنوان سے شروع کرچکی تھی۔
مقا م حیرت ہے کہ دنیا بھر میں سرد جنگ کے خاتمے کے باوجود بھارت مہم جوئی کی سوچ رکھتا ہے۔ جب کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ پڑھے لکھے بھارتی عوام اپنی حکومت اور فوج کی اس سوچ کو نا پسندیدگی سے نگاہ سے دیکھتے اور اسے مسترد کرچکے ہیں۔ اس تناظر میں بھارتی حکمرانوں کو خود فریبی اور خوش فہمیوں کے چنگل سے نجات حاصل کرکے چاہیے کہ وہ ملٹری ’کولڈسٹارٹ ڈاکٹرائن‘ چھوڑ کر بھارتی عوام کی بہتری کیلئے پاکستان سے تعاون کریں۔ ہندوستانی مفکرین کے مطابق ’’ہندوستان کی موجودہ ملٹری ڈاکٹرائن بڑے پیمانے پر فوجی تعمیر وترقی پر بنیاد رکھتی ہے اور یہ چیز خطے کیلئے خطرہ بن سکتی ہے‘‘۔یہ اسی بھارتی’’کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن‘ ‘ کو آگے بڑھانے کے ایجنڈے کا ایک حصہ ہے کہ بھارتی فوج آئے روز پاکستان کی ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری شروع کردیتی ہے۔دراصل یہ ایک بڑی جنگ کی تمہیدہے۔ انہیں محض چھوٹی چھوٹی معمول کی جھڑ پیں جان کر ان سے چشم بندی کرنا قومی دفاعی تقاضوں کے منافی ہو گا۔بھارتی فوج کا خطے میں برتری کا نظریہ بے وقوفی ہے۔ بھارتی عسکری تجزیہ نگار اپنے ملک کے جنگی جنونی حکمرانوں اور فوج میں موجود ہندتوا کے فلسفے کے لٹھ مار اور ترشول بردار مذہبی جنونی افسران کو ایک سے زائد بار انتباہ کرچکے ہیں کہ اگر پاکستان کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کا ارتکاب کیا گیا تو اسے منہ کی کھانا پڑے گی،گر بھارت نے ’کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن‘ پر عمل کیا تو پاکستان کا ردعمل فوری اور ضرورت کے عین مطابق ہوگا، بھارتی حکمرانوں کو خطے میں امن اورسلامتی کو برقرار رکھنے کیلئے ہر قسم کی مہم جوئی سے گریز کرنا ہوگا۔
یہ ایک ناقابل تردیں حقیقت ہے کہ جولائی 2016ء میں برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت بھارت کی آٹھ لاکھ غاصب افواج کے قابو میں نہیں آ رہی۔ عالم یہ ہے کہ ہر چھ کشمیریوں پر بھارتی ریاستی مشینری افواج، پولیس اور دیگر پیرا ملٹری فورسز کا ایک ایک اہلکار متعین ہے۔ عالمی برادری حالیہ دنوں میں کشمیر میں اس ریاستی مشینری کے ہاتھوں بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر بھارتی کو مطعون کر رہی ہے۔ آزاد عالمی میڈیا بھی مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند نوجوانوں پر روا رکھے جانے والے مظالم کی مذمت کر رہا ہے۔ برہان مظفر وانی شہید کے بعد سبزار شہید کی نماز جنازہ میں لاکھوں کشمیری عوام نے شرکت کر کے یہ ثابت کر دیا کہ سبزار غیر ملکی دہشت گرد یا در انداز نہیں تھا بلکہ مقبوضہ سرزمین ہی کا ایک حریت پسند سپوت تھا۔ بھارت کشمیر کی اس صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے کبھی لائن آف کنٹرول اور کبھی ورکنگ باؤنڈری پر چاند ماری میں شدت پیدا کر کے اور الٹا اس کا الزام پاکستان پر لگا کر عالمی رائے عامہ کو بدراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں اسے بدترین ناکامی کا سامنا ہے۔