Sajid Hussain Malik

بھارتی اورامریکی عزائم ۔۔۔!

بات پاکستان کے بارے میں بھارتی اور امریکی عزائم اور ریشہ دوانیوں کی ہو رہی تھی۔ بھارتی عزائم کا مختصر سا جائزہ پچھلے کالم میں پیش کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم کیا ہیں یہ کوئی ڈھکے چھپے نہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یکم جنوری کو پاکستان کے بارے میں ٹویٹ اور اُس کے بعد بعض اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے پاکستان کے بارے میں بیانات اور امریکی حکومت کے بعض اقدامات سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکیوں کی پاکستان کے بارے میں کیا سوچ ہے۔ اس ضمن میں امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) میک ماسٹر ، امریکی وزیر دفاع جنرل (ر) جیمز میٹس اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو کے تازہ ترین بیانات کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) میک ماسٹر نے وائس آف امریکہ کو دئیے گئے اپنے تازہ ترین انٹرویو میں پاکستان کو ایسا ملک قرار دیا ہے جو اپنے سفارتی اہداف کے حصول کے لیے دہشت گردی کو بطورِ ایک ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو نے خلافِ معمول امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے ۔ یہ دہشت گرد امریکہ کے لیے خطرہ ہیں امریکہ کو یہ قبول نہیں۔ ہم نے پاکستان کو چانس دیا ہے کہ اگر یہ مسئلہ (دہشت گردوں کو پناہ مہیا کرنا) حل کرتا ہے تو ہم پاکستان کے ساتھ تعلق (بطورِ پارٹنر) جاری رکھیں گے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم امریکہ کی حفاظت کریں گے۔ امریکی وزیر دفاع جنرل (ر) جیمز میٹس نے پاکستان کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ ان دونوں اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے خیالات سے کسی حد تک مختلف ہیں۔ جنرل (ر) جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جنگ کے لیے ملٹری سپلائز لے جانے کی امریکی ضروریات کے بارے میں پاکستان سے تعاون حاصل کرنے کے لیے امریکہ مصروفِ کار ہے۔
امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) میک ماسٹر ، امریکی سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو اور امریکی وزیر دفاع جنرل (ر) جیمز میٹس کے ان تازہ خیالات کو دیکھا جائے تو ان سے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں یکم جنوری کے ٹویٹ میں پاکستان کے اُوپر عائد کیے الزامات اور پاکستان کے بارے میں کی جانے والی ہرزہ سرائی کی تائید اور توثیق ملتی ہے وہاں امریکہ کی نائن الیون کے بعد پچھلے پندرہ سولہ برسوں کے دوران پاکستان کے بارے میں اختیار کی ہوئی ’’گاجر اور چھڑی ‘‘ (Carrot & Stick ) کی پالیسی کا اعادہ بھی سامنے آتا ہے۔ امریکی صدر نے اپنے یکم جنوری کے ٹویٹ میں پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے امریکہ سے بہت کم تعاون کیا۔ جن دہشت گردوں کو امریکہ افغانستان میں تلاش کرتا رہا پاکستان نے انہیں اپنے ہاں پناہ گاہیں دیں۔ ہم نے پاکستان کو 33 ارب ڈالر کی امداد دی اور پاکستان نے امریکہ کو جھوٹ اور دھوکہ دیاوغیرہ۔ امریکی صدر کے قومی صدر کے مشیر جنرل (ر) میک ماسٹر کے بیان کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ میک ماسٹر نے اپنے باس (امریکی صدر) سے دو ہاتھ بڑھ کر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایاہے ۔ جنرل میک ماسٹر کا یہ کہنا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جو دہشت گردی کو اپنے سفارتی اہداف کے حصول کے لیے بطورِ ہتھیار استعمال کرتا ہے ایسا الزام ہے جو بھارت کتنے عرصے سے پاکستان پر عائد کرتا چلا آ رہا ہے۔ سینئر صحافی ، تجزیہ نگار اور اینکر پرسن جناب نصرت جاوید کے بقول یہ ایسا بیانیہ ہے جو بھارت 1992ء سے ہمارے بارے میں اختیار کیے ہوئے ہے اور دُنیا کو بطور کہانی بیچ رہا ہے۔ امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر کے پاکستان کو دہشت گردی کو بطورِہتھیار استعمال کرنے والا ملک قرار دیتے ہیں تو اس سے بڑھ کر امریکہ کے پاکستان کے بارے میں معاندانہ خیالات اور امریکی عہدیداروں کی پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی اور کیا ہو سکتی ہے۔ لیکن بات اسی پر ختم نہیں ہوتی امریکہ جس کا نائن الیون کے بعد یہ طریقہ واردات رہا ہے کہ وہ پاکستان کے بارے میں ’’گاجر اور چھڑی‘‘ کی پالیسی کا بیک وقت استعمال کرتا ہے۔ اب بھی اُس نے ایسے ہی کیا ہے۔ جنرل (ر) میک ماسٹر کا ایک طرف اتنا سخت بیان آیا ہے تو دوسری طرف امریکی سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو نے اپنے بیان میں پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے یہ گنجائش رکھی ہے کہ پاکستان اگر دہشت گردوں کو پناہ مہیا کرنے کا مسئلہ امریکہ کی خواہش کے مطابق حل کرتا ہے تو امریکہ پاکستان کے ساتھ بطورِ پارٹنر تعلق جاری رکھ سکتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع جنرل (ر) جیمز میٹس نے اس سے بڑھ کر پاکستان کے لیے گنجائش رکھی ہے کہ افغانستان میں جنگ کے لیے ملٹری سپلائز کی امریکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان سے بات چیت جاری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ پاکستان سے مکمل طور پر اپنے تعلقات کو ختم نہیں کرنا چاہتا ہے ۔ ایک طرف اگر وہ پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے اور پاکستان پر غیر ضروری الزامات عائد کر رہا ہے تو دوسری طرف وہ پاکستان سے تعاون بھی مانگ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ افغانستان میں اُس کا جنگی آپریشن اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا اور وہ اپنے اہداف اُس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک اُسے پاکستان کا تعاون حاصل نہ ہو۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان میں نیٹو افواج کے ہمراہ اپنا جنگی آپریشن شروع کیا تو ہم نے اُسے لاجسٹک سپورٹ، فضائی حدوداور اپنے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی سہولیات مہیا کیں۔ امریکہ جیکب آباد، شمسی اور پسنی کے ہمارے ہوائی اڈے استعمال کرتا رہا بعد میں ہم نے امریکہ سے اپنے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی سہولت واپس لے لی لیکن امریکہ ہماری فضا کا مغربی کوریڈور اب تک استعمال کرتا رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ
اس وقت امریکہ سے اگرچہ ہمارے تعلقات بگاڑ کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں لیکن ابھی تک ہم نے امریکہ سے اپنی مغربی فضا ئی کوریڈور کو استعمال کرنے کی سہولت واپس نہیں لی ہے اب صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے ۔ امریکہ نے پاکستان کو اپنی واچ لسٹ میں شامل کر رکھا ہے۔ امریکی اعلیٰ عہدیداروں کے انتہائی سخت بیانات پاکستان کے بارے میں آ چکے ہیں۔ پاکستان نے بھی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی طرح کے اقدامات اختیار کیے ہیں ۔ پاکستان کی سویلین اورفوجی قیادت امریکہ کے مقابلے میں ایک پیج پر ہے اس ضمن میں قومی سلامتی کمیٹی کے کئی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جن میں امریکی اقدامات کے جواب میں متفقہ مؤقف اختیار کرنے کا جہاں فیصلہ ہوا ہے وہاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کھل کر یہ کہا ہے کہ پاکستانی افواج ہر طرح کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف بھی کئی فورمز پر کھل کر پاکستان کے مؤقف کو پیش کر چکے ہیں کہ پاکستان امریکہ کے کسی دباؤ میں بھی نہیں آئے گا۔ اس کے ساتھ پاکستان کی قومی سیاسی قیادت بھی حکومت کی طرف سے اختیار کیے مؤقف کی پوری حمایت کر چکی ہے اور اس بارے میں کوئی ابہام نہیں کہ پوری پاکستانی قوم امریکی الزام تراشیوں اور پاکستان کے خلاف امریکی صدر کی طرف سے کی جانے والی الزام تراشی اور ایک طرح کی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے پوری طرح متحد اور یکسو ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آ چکی ہے کہ امریکہ میں بھی بعض حلقے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے حکومتی ساتھیوں کے پاکستان کے بارے میں سخت بیانات اور الزامات کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔ممتاز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پچھلے دنوں اپنے اداریے میں پاکستان کے خلا ف ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ پاکستان پر ناجائز دباؤ ڈالنے کی بجائے پاکستان سے اپنے معاملات کو گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے۔