sohail sangi copy

بڑی مسلم لیگ یا نواز لیگ؟

لاہور کے ضمنی انتخاب مریم نواز کی سخت جدوجہد کے نتیجے میں نواز لیگ نے جیت لیا۔ لیکن سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان خواہ خود ان کی پارٹی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا کو بتایا کہ جب تک اپنا گھر ٹھیک نہیں کریں گے، تب تک پارٹی اور حکومت کے معاملات درست نہیں ہونگے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے لندن میں سابق وزیراعظم سے ملاقات کے بعد یہی بات دہرا کر خواجہ آصف کے مؤقف کی تائید کی۔ اس کے بعد کابینہ کے ایک اور رکن احسن اقبال نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا۔نواز لیگ پارٹی کے اندر اختلافات لاہور کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران کھل کر سامنے آئے۔ چوہدری نثار علی خان نے کھل کر اختلافات کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض لیگی رہنما جو نواز لیگ کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصادم کی حالیہ پالیسی سے متفق نہیں، ان کی جانب سے بھی اختلاف رائے اگرچہ میڈیا میں بطور مؤقف کے سامنے نہیں آیا لیکن ذاتی محفلوں اور ملاقاتوں میں وہ اس کا اظہار کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز کی انتخابی مہم سے خود کو دور رکھا۔مریم نواز شریف خاندان کی اکیلی ممبر ہیں جو صورت حال کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ پارٹی کے بعض انتہائی وفادر اور میاں صاحب کے قریبی ساتھی ان کے ساتھ ہیں۔ سمجھا یہی جارہا ہے کہ فیصلہ سازی کا اختیار انہی کے پاس ہے۔ جس سے فیصلہ سازی جلد تو ہورہی ہے لیکن مشاورت کا عمل کم ہے۔پارٹی کی قیادت مریم نواز کے پاس آنے کی وجہ سے پارٹی کے بعض سنیئر رہنما خود کو بے چین سمجھ رہے ہیں۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ کے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے فیصلے کے خلاف نواز شریف خاندان کی نظر ثانی کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔ نیب نے نہ صرف میاں نواز شریف کے خلاف چھ ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کئے ہیں بلکہ عدالت میں یہ درخواست بھی دائر کی ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جائے۔ یوں نواز شریف خاندان کی کشتی جلتی نظر آتی ہے۔ اس مقدمہ کا فیصلہ شاید نواز خاندان کی سیاسی تاریخ پر آخری مہر ثبت کردے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی گرفتاری کے لئے چھاپہ ماراتاہم نیب کا کہنا ہے کہ ٹیم اسحاق ڈار سے نوٹس تعمیل کرانے گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد وزیر خزانہ نے جو کہ اس وقت بیرون ملک ہیں، فی الحال ضمانت قبل از گرفتاری منظور نہ ہونے تک وطن نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان تمام تر واقعات کے بعدسابق وزیراعظم بھی فی الحال وطن نہیں آرہے ہیں۔ویسے بھی ان کی بیگم کا ایک اور آپریشن ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ لندن میں ہی ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کے بھائی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی لندن گئے تھے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک جاتے ہوئے لندن میں میاں نواز شریف سے ملاقات کی۔ شہباز شریف اور وزراعظم شاہد خاقان عباسی نے میاں صاحب کو تمام تر صورت حال سے آگاہ کیا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم ان مقدمات سے شاید ہی بچ سکیں۔
ہواؤں کا رخ یہ بتاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ شریف خاندان اور نواز لیگ کے ساتھ وہی سلوک کرنے جارہی ہے جو کبھی پیپلزپارٹی کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا پارٹی اور شریف خاندان کی پارٹی قیادت اس کشیدہ صورت حال میں خود کو برقرار رکھ سکے گی؟ نواز لیگ بچ بھی سکتی ہے۔ ایک زمانے میں پیپلزپارٹی کو بھی اسی طرح کی صورت حال کا سامنا تھا۔ بھٹو خواتین میدان میں تھیں۔
بینظیر اور مریم نواز کا کئی حوالوں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ مگر پھر بھی صورت حال یکساں ہے۔پہلے قیادت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پھر پارٹی کمزور کرنے کی اور اس کے بعد پارٹی کو توڑنے کی کوششیں کی گئیں۔ بینظیر بھٹو بیگم بھٹو کی چھتری کے نیچے فیصلہ سازی کرتی تھیں۔مریم نواز کی طرح محترمہ کو بھی اپنے انکلز کا سامنا تھا۔ لیکن بینظیر بھٹو اور مریم نواز کی عمر اور تجربے میں فرق تھا۔ بینظیر پارٹی اور اس کی قیادت بھٹو خاندان کے پاس رکھنے میں کامیاب ہو گئیں۔ بینظیر کو ضیاء الحق جیسے بدترین آمر کا سامنا تھا۔ خطے میں صورت حال قطعی طور پر بینظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی کے حق میں نہیں تھی۔ ایک مدت تک سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی کے خلاف صف آرا رہیں۔ یہ سلسلہ ایم آرڈی بننے تک رہا۔ مریم نواز کو بعض اضافی سہولیات حاصل ہیں۔ نواز لیگ ابھی تک حکومت میں ہے۔وزیراعظم ابھی تک میاں صاحب کے سحر میں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے یہی ا شارے مل رہے ہیں کہ یہ صورت حال 2018ء کے انتخابات (اگر ہوئے تو) تک جاری رہے گی۔ پارلیمنٹ کے علاوہ عسکری حلقوں میں نواز لیگ کی حمایت موجود ہے۔ ایسی سیاسی صورت حال میں مبتلا ملک میں واحد حکمران طبقہ نہیں۔ ایک سے زائد طبقات ہیں۔ اور نواز شریف جس طبقات کی نمائندگی کرتے ہیں وہ کلی طور پر حکمران اتحاد سے خارج نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض نکات پر سیاسی جماعتیں نواز لیگ کے مؤقف کے قریب بھی ہیں۔
ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آرمی چیف نے پارلیمنٹ کی ڈیفنس کمیٹی کے اراکین سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات صورت حال کے حوالے سے اور جو کچھ آرمی چیف نے کہا اس حوالے سے بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ آرمی چیف کی بات چیت کو تین نکات میں سمویا جاسکتا ہے ۔اول یہ کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاناما کیس میں آرمی کا کوئی رول ہے۔ دوئم یہ کہ آرمی چیف نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ہمیشہ جمہوریت کے معترف اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے حامی رہے ہیں۔ سوئم یہ کہ وہ پارلیمنٹ یا اس کی کمیٹی کے سامنے سوالات کے جوابات دینے کے لئے کسی بھی وقت پیش ہونے کے لئے تیار ہیں۔ چوتھا یہ کہ اراکین پارلیمنٹ اور آرمی کے درمیان باہمی روابط ہونے چاہئیں۔ آرمی چیف کی جانب سے یہ باتیں ایک ایسے مرحلے پر کی گئی ہیں جب ملک میں یہ تاثر حاوی ہے کہ پاناما کیس یعنی میاں نواز شریف کو ہٹانے میں آرمی کا کوئی کردار ہے۔ سویلین بالادستی کم ہو رہی ہے اور عسکری بالادستی بڑھی ہے۔ نواز لیگ مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ ان کے خلاف ساش ہورہی ہے۔
خطے کی صورت حال بھی پہلے کے مقابلے میں تبدیل ہے۔ چین ، ایران اور انڈیا خطے کی طاقتوں کے طور پر موجود ہیں، یہ تینوں 80 کے عشرے میں اس طرح اہمیت کی حامل نہیں تھے، جس طرح اب ہیں۔ جبکہ امریکہ کا بھی وہ رویہ اور مؤقف نہیں جو بھٹوز کے ساتھ تھا۔ پیپلزپارٹی کا اضافی نکتہ یہ تھا کہ عوام اس کے ساتھ تھے۔ جو اپنے طور پر بھی سڑکوں پر آ تے رہے۔ یہ صورت حال نواز لیگ کے ساتھ نہیں۔نواز لیگ کے ساتھ ووٹرز ضرور ہیں، سڑکوں والے نہیں۔
پنجاب کی سیاست اور سیاسی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے ایک حلقے کا خیال ہے کہ ایک بات کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ دنیا کو اب ہماری اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت نہیں رہی۔ امریکہ کی حالیہ پالیسی اور نوے کے عشرے میں افغان جنگ کے خاتمے کے بعد جوہری بم کے دھماکے سے پہلے کی صورت حال دو بڑی مثالیں ہیں جب امریکہ نے پاکستان سے مکمل طور پر ہاتھ نکال لیا تھا۔ لہٰذا پنجاب کی ترجیحات بھی بدل گئی ہیں۔ پنجاب تجارت چاہتا ہے۔ پنجاب کی معیشت نے مواقع پیدا کردیئے ہیں کہ لوگ فوج کی ملازمت پر اپنے کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
نواز شریف یا اس کے خاندان کے بغیر نواز لیگ اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے؟ نواز شریف اور ان کے سا تھیوں کا مؤقف نفی میں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پینتیس سال تک کی مسلسل کوششوں کے بعد ایک پارٹی میچوئر ہوئی ہے، جو کسی اور کی بیساکھی کے بغیر کھڑی ہو سکتی ہے۔اس کی بڑی وجہ ایک ہی قیادت کا تسلسل اور پارٹی کے لئے مسلسل وسائل کی فراہمی اور اتنے بڑے سٹیک ہیں۔ یہ کوئی نظریاتی پارٹی نہیں۔پاکستان کے مخصوص حالات میں پارٹی کو برقرار رکھنے کے لئے یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ چوہدری نثار علی خان اور بعض دیگر رہنما اس آئیڈیا کو بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس آئیڈیا کے یہ بھی معنی لیے جا سکتے ہیں کہ اگر چوہدری نثار علی اور اس آئیڈیا کو پروان چڑھانے والے اس پارٹی میں نہیں ہیں، ایسے میں یہ پارٹی وجود رکھتی ہو یا نہیں ان کے کسی کام کی نہیں۔ ایسے میں چوہدری شجاعت کا فارمولا آزمایا جاسکتا ہے۔ وہ یہ کہ پھر سے 80 کے عشرے کے نقطے سے شروع کریں۔ یعنی ایک اور مسلم لیگ بنائیں جس میں اس نام کے ساتھ کام کرنے والی تمام پارٹیوں اور گروپوں کو ملا کر بڑی مسلم لیگ بنائیں۔ وہ اس کا نعم البدل ہو سکتی ہے۔ یہ کوشش کبھی جنرل مشرف نے بھی کی تھی۔ لیکن یہ نسخہ کامیاب نہیں ہوا۔ کیونکہ تب نواز لیگ متحد تھی اور مشرف نئی لیگ کو اپنی چھتری کے نیچے رکھنا چاہتا تھا۔ چوہدری شجاعت حسین نے اس فارمولا پر ابتدائی ہوم ورک بھی کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے نواز لیگ خود کو بچا پاتی ہے یا ایک بڑی مسلم لیگ سامنے آتی ہے۔