Rizwan-Ulla-Pashawri

بنت حوّا ہوں میں یہ مراجرم ہے!

تاریخ کے اوراق پلٹانے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں دیکھ کر،سُن کرعرب کی دور جاہلیت کی یاد تازہ ہوتی ہے،عرب کی سرزمین پر اسلام سے پہلے جہالت کا دور دورہ تھا،انہی جہالتوں میں سرفہرست جہالت یہ تھی کہ وہ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کیا کرتے تھے،انہیں شرم آتی تھی کہ میرے ہاں بیٹی کیسے پید اہوگئی اور کل یہ کسی اور کے نکاح میں آئے گی۔ان دنوں جب قصور کا یہ واقعہ ہوا تو دل نے چاہا کہ قارئین کرام کے سامنے قصور میں ایسے واقعات کی پوری ایک تاریخ رکھ دوں تاکہ قارئین کرام کے علم میں ہو کہ یہ قصور والے بہت پہلے سے ایسے واقعات کو دیکھتے اور سہتے رہتے ہیں،مگر حکومت جوں کے توں نہیں ہو رہی۔
پنجاب میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو چکا ہے ایک سال میں یکم جنوری سے 30اپریل تک صرف 4ماہ میں815ریپ اور53گینگ ریپ کے مقدمات رجسٹر ہوئے ہیں ،2007ء میں 1996 مقدمات درج ہوئے،2008ء میں 2300 ،2009ء میں2519، 2010ء میں ملک بھر میں2838، 2011ء میں پنجاب میں ایسے 1800 واقعات رپورٹ ہوئے ،جبکہ ان کے علاوہ زیادہ تعداد ایسے واقعات کی ہے کہ جو درج نہیں ہوئے، 2015ء کا زمانہ تھا کہ اس وقت تقریباً 200ویڈیوسکینڈل قصور میں رونما ہوئے تھے،2016ء میں بھی جنسی زیادتی اور تشدد کے بہت سے واقعات رونما ہوئے۔ 2016ء کے کل واقعات141تھے،ان میں 99واقعات جنسی تشدد،ریپ اور پھر قتل کے تھے، 2017ء میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے کل 764واقعات رجسٹر ہوئے(جن میں 68صرف قصور کے تھے) چائلڈ لیبر اور اسی طرح کے اور کیسزملا کر کل تعداد1764کو پہنچتی ہے،ان سب واقعات میں پنجاب62فیصد پر، سندھ 28فیصد پر،بلوچستان58فیصد پر،کے پی کے 42فیصد پر اور کشمیر کا وہ حصہ جو ہمارے ساتھ ہے 9فیصد پر رہا۔
2018ء کے اوائل میں زینب کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل اور لاش کا کوڑے کے ڈھیر پر پھینکنے کا یہ واقعہ بھی قصور ہی میں پیش آیا،زینب کے ساتھ زیادتی کے اس واقعہ کوصرف پاکستانی میڈیانے کوریج نہیں دی بلکہ باہر ممالک کے میڈیا نے بھی اسے خوب چلایا،یہاں تک کہ نیویارک ٹائمز نے بھی اس دلخرا ش واقعے کی مذمت کی،کہا جاتا ہے کہ زینب سے ایک ماہ قبل 2017ء کے اواخر میں ’’کائنات‘‘نامی بچی کے ساتھ بھی زیادتی کا اسی طرح واقعہ پیش آیا مگر وہ ان درندوں کے ہاتھوں سے الحمد للہ بچ نکلی اور وہ اب بھی قصور ہی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
ان تمام واقعات میں ابھی تک حکومت نے کسی بھی مجرم کو گرفتار نہیں کیا،اگر حکومت وقت کسی ایک مجرم کو گرفتار کر لیتی اور اسے کسی مشہور چوک میں پھانسی کے تختے پر کھڑا کر دیتی تو شاید یہ واقعات آج دیکھنے کو نہ ملتے،مگر کیا کریں کہ حکومت تو خود کچھ بھی نہیں کرتی چہ جائیکہ مجرموں کو گرفتار کر لے اور ہاں جب عوام الناس کے دلوں میں جذبہ ایمانی لرز اٹھتا ہے تو پھریہی محافظین عوام الناس پر اپنے بندوقوں کو آزماتے ہیں،انہیں پتا نہیں کہ ہم تو اس دیس اور اس کے باشندوں کے محافظین ہیں،نہیں نہیں بلکہ وہ تو عوام الناس ہی کو اپنے خادم سمجھتے ہیں،کہ جن عوام نے قصور تھانے کے سامنے مظاہرہ کیا تو پولیس اہلکار وں نے اسی وقت دوبندوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیااور یوں وہ بھی زینب کے ہم سفر بن گئے۔
دن بدن ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں،ان واقعات کی روک تھام کیسے ممکن ہوگی،کیونکہ اسلام توہمیں امن کا درس دیتا ہے،جب تک ہم کسی دوسری بچی کو اپنی بچی نہیں سمجھیں گے، تب تک یہ حالات جیسے کے تیسے رہیں گے،حکومت وقت اور اسی طرح والدین کو چاہئے کہ اپنی اولاد کی خوب تربیت کریں۔ان تمام واقعات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اہل اقتدار خواب خرگوش میں ہیں،کیاابھی تک انہیں بیداری کی توفیق نہیں ملی؟یہ اہل اقتدار کب جاگ اٹھیں گے؟کیا یہ اپنے اہل وعیال میں بچے نہیں رکھتے؟ان کے دل کب لرز اٹھیں گے؟یہ سارے سوالات اسی معصوم زینب کی ماں کی زبان پر ہوں گے۔اگر یہ درندے ذرابھی سوچیں کہ کوئی بھی عورت کسی کی ماں،کسی کی بہن،کسی کی لاڈلی اور کسی کی زندگی بنانے والی بیوی ہوتی ہے اور ان سب سے زیادہ یہ سوچیں کہ یہ تو ہماری بہن ہے،کیونکہ یہ بنی تو بنت حوا ہے۔کسی شاعر نے کیاخوب کہا ہے۔
بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
میں تماشا نہیں اپنا اظہار ہوں
سوچ سکتی ہوں سو لائق دار ہوں
میرا ہر حرف ہر اک صدا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے۔