ghulam-nabi-madni-new

بلوچستان کی علیحدگی،حقائق اور خدشات

بلوچستان دنیا کے ان خطوں میں سے ایک ہے جہاں اللہ نے بے شمار معدنیات رکھی ہیں۔جغرافیائی تقسیم کے اعتبار سے بلوچستان پاکستان، ایران اور افغانستان میں پھیلا ہواہے۔پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 44فیصد بلوچستان پر مشتمل ہے،جہاں ایک کروڑ 23 لاکھ سے زیادہ لوگ آباد ہیں۔جب کہ ایران میں بلوچستان181,785 km پرپھیلا ہواہے جہاں 3 ملین کے لگ بھگ لوگ رہتے ہیں۔جدید دنیا میں بلوچستان جہاں معدنیا ت کی جنت کا نام ہے وہیں بلوچستان کو تنازعات اور پسماندگی سے اٹی جہنم کہنا بھی درست ہے۔اسے جہنم بنانے میں جہاں اپنوں کا دخل ہے وہیں غیروں کی مداخلت بھی شامل ہے۔سی پیک اور گودار پورٹ کے بعد غیروں کے پیٹ میں مروڑیں اورزیادہ اٹھنے لگ گئی ہیں۔غیروں کا مقصد بس اتنا ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر قبضہ نہ بھی کیا جائے تو کم ازکم بلوچ اور دیگر عوام کو ان سے مستفید نہ ہونے دیا جائے۔چنانچہ اسی مقصد کی خاطر غیروں نے مفاد پرستوں کو خرید کر ان کو شرانگیزی اوربغاوت پر اکسایا ہواہے۔حیرت اس بات پر ہے کہ اس بغاوت کے ذریعے عالمی ایجنڈا بلوچستان کی علیحدگی ہے۔جس کا اندازہ جنیوا میں “آزاد بلوچستان”کی حالیہ اشتہاری مہم سے اچھی طرح لگایا جاسکتاہے۔فرانس ہو یا امریکا ،برطانیہ ہو یا ناروے ، جرمنی ہو یا سوئٹزرلینڈ،انڈیا ہو یا ایران یا پھر افغانستان ،بلوچ علیحدگی پسند باغیوں کو سپورٹ کرنے میں سرفہرست یہی ممالک ہیں۔چنانچہ آپ بلوچ علیحدگی پسند باغیوں کی لسٹ نکال کر دیکھ لیں سب کے ٹھکانے انہی ممالک میں ہوں گے یا کم ازکم ان ممالک سے انہیں مالی، سفارتی سپورٹ ضرور ملتی ہوگی۔
سوال یہ ہے کہ یہ علیحدگی پسند باغی بلوچ کون ہیں؟کیا واقعی سارے بلوچ آزاد بلوچستان چاہتے ہیں؟بلوچستان کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بلوچوں میں مذہب اور اسلامی روایات کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں۔یہی وجہ تھی کہ جب پاکستان کو نظریہ لاالٰہ الا اللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا اور بلوچ رہنماؤں کو پاکستان میں شمولیت کی دعوت دی گئی تو اُس وقت بلوچ عمائدین،علماء کرام اور عوام نے صرف اس بنیاد پرپاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا کہ چوں کہ پاکستان ایک خاص نظریے کی بنیاد پرحاصل کیا گیاہے۔بلوچوں کے مذہب سے لگاؤ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے،کہ خان آف قلات کی طرف سے باقاعدہ علماء کرام،ائمہ عظام،خطباء کرام اور دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کرام کے لیے باقاعدہ وظیفہ دیا جاتاتھا۔دین سے لگاؤ کا اثر تھا کہ اکثر بلوچ برطانوی سامراج کی سامراجیت سے محفوظ رہے۔اگرچہ برطانوی سامراج خان آف قلات کو اپنے دباؤ میں رکھتے تھے ،لیکن بلوچ جرگے میں علماء کو ایک خاص مقام حاصل تھا جس کا رعب خان آف قلات پر ہمیشہ رہتا۔بہرحال پاکستان کے ساتھ الحاق کی بنیادی وجہ پاکستان اور بلوچستان میں صرف اور صرف نظریہ لاالہ الااللہ کا اشتراک تھا۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس وقت بھی چند لوگوں کو کرسی،اقتدار کا لالچ تھا جس کی وجہ سے انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی مخالفت کی ،جس کا نقصان انہیں بھگتنا پڑا،لیکن 99فیصد بلوچ عوام پاکستان کے حق میں تھے۔بدقسمتی سے بعد میں علماء کرام کا اثرورسوخ بلوچ عمائدین اور قائدین میں کم ہوتا گیا،جس کی وجہ سے پاکستانی گورنمنٹ اور بلوچ عمائدین میں اختلافات سراٹھاتے رہے۔بلوچستان میں شورش کی دوسری بڑی وجہ چند سرداروں کو نوازا جانا بھی بنا۔جنہوں نے اقتدار کی خاطر خود تو خوب مزے لوٹے ،مگر عوام کو بنیادی سہولیاتِ زندگی اور تعلیم وتعلم تک سے محروم رکھا۔جس کا خمیازہ بایں صورت یہ نکلا کہ عوام کا اعتماد بلوچ رہنماؤں سے اٹھنے کے ساتھ پاکستانی حکومت سے بھی اٹھ گیا۔آج بھی بلوچ عوام پاکستانی حکومت سے صرف اس وجہ سے ناراض ہیں کہ انہیں وہ حقوق حاصل نہیں جو پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا کے عوام کو حاصل ہیں۔ اس کی اصل وجہ وسائل کی صحیح تقسیم کا نہ ہونا اور مقتدر بلوچ حکمران طبقے کا عوام کے نام پر حاصل کیے گئے وسائل کو ان تک نہ پہنچانا شامل ہے۔بلوچستان میں شورش کی تیسری بڑی وجہ بلوچ رہنماؤں اور عمائدین میں اقتدار اور سیاسی لڑائی کا درآنا بھی ہے۔چنانچہ بلوچ سرداروں نے اقتدار کی خاطر اپنے عوام کو دوسرے بلوچ قبیلوں کے بارے متنازع راستے پر ڈالا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس بلوچ سردار کو کرسی مل گئی تو وہ خوش ہوگیا ،وہ پاکستان کے حق میں سرفہرست آگیا۔لیکن جو بلوچ سردار کرسی تک نہ پہنچ پایا توا س نے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھا لیا۔برہمداغ بگٹی،ہربیار مری،میر سلیمان داؤدجان بلوچ وغیرہ کی حقیقت بس اتنی سی ہے۔رہا سوال کہ اس وقت کتنے بلوچ بلوچستان کی آزادی کے حق میں ہیں،2013 ء کے گیلپ سروے میں 37 فیصد بلوچوں کو آزاد بلوچستان کے حق میں بتایا گیا،لیکن اگر انصاف کے ساتھ ہر بلوچ سے آزاد بلوچستان کے بارے پوچھا جائے تو وہ یقیناًپوچھنے والے سے لڑپڑے گا۔کیوں کہ پاکستان سے محبت بلوچوں کی گھٹی میں پڑی ہے۔وہ ستر سال میں باوجود اس کے کہ وہ بنیادی سہولیاتِ زندگی سے محروم رہے،لیکن پاکستان کے خلاف کبھی باہر نہیں نکلے۔جو نکلے ان کا مقصد سوائے اقتدار اور کرسی اور بیرونی آقاؤں کی خوشامد کے اور کچھ نہیں ہے۔اس لیے حقیقت یہ ہے کہ آج بھی بلوچ عوام پاکستان کے حامی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے ان شاء اللہ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان اُن علیحدگی پسندباغیوں اور اُن کو سپورٹ کرنے والوں سے کیسے نمٹے؟ایک حل تو وہی ہے جو جنیوا میں حالیہ”آزاد بلوچستان” کی ناکام اشتہاری مہم پر چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے بتایا کہ پاکستان سوئس حکومت سے پرزور مطالبہ کرے کہ وہ باغیوں کو سپورٹ کرنا بند کرے۔لیکن سوئس حکومت ،یاامریکی یا برطانوی حکومت سے مطالبہ کرنے سے پہلے ہمیں اپنے گھر کے ارد گرد بسنے والے پڑوسیوں کی خبرلینا ہوگی ،جو ان باغیوں کو سپورٹ کرکے امریکا،برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ تک پہنچاتے ہیں۔جی ہاں!باغیوں کو اقوام متحدہ تک رسائی دینے میں انڈیا، ایران، افغانستان برابر کے شریک ہیں،جو برہمداغ بگٹی،ہربیار مری جیسے لوگوں کو پہلے تیار کرتے ہیں اور پھر انہیں یورپین ملکوں تک پہنچاتے ہیں۔یقین نہ آئے تو ان لوگوں کے ذرائع آمدن تلاش کرلیں ،سب پتا چل جائے گا کہ ان لوگوں کا دانہ پانی کہاں سے آرہاہے۔اس لیے سب سے اہم اور مضبوط حل یہی ہے کہ پڑوسی ممالک سے ملنے والی بلوچستان کی سرحدوں پر کڑی نظر رکھی جائے،یہاں سے آنے جانے والوں کی خوب مانیٹرنگ کی جائے۔دوسرا حل یہ ہے کہ ریاست اپنا تعلق بلوچ عوام سے ڈائریکٹ بنائے۔بلوچ سرداروں کو اقتدار میں لاکر ریاستی وسائل بہت کم بلوچ عوام تک پہنچ پاتے ہیں۔تیسرا حل یہ ہے کہ بلوچستان کی سیاست میں مفادات کو دیکھتے ہوئے بلوچ قبائل اور بلوچ سرداروں کے درمیان تفریق نہ کی جائے، کہ اس سے نقصان یہ ہوتاہے کہ جو بلوچ قبیلہ یا سردار اقتدار تک نہ پہنچ پائے تو وہ پھر ریاست سے ناراض ہوجاتاہے۔چوتھا حل جو سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ بلوچ عوام کو سہولیاتِ زندگی،بالخصوص تعلیم وتعلم کے زیور سے آراستہ کیا جائے۔اگرچہ ریاست اس پر اب توجہ دے رہی ہے لیکن وہ کافی نہیں ہے،کیوں کہ اس وقت بھی بلوچستان کے سینکڑوں ایسے دیہات اور قصبے ہیں جہاں پانی اور بجلی کی سہولت میسر ہے ،نہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کوئی بہترین سکول موجودہے۔پانچواں حل یہ ہے کہ بلوچ عوام کو روزگار مہیا کرنے کے لیے ریاستی سطح پر بھرپور کوشش کی جائے،بالخصوص سی پیک میں زیادہ تر بلوچ عوام کوکام میں لایا جائے۔ چھٹا حل یہ ہے کہ حتی الامکان کوشش کی جائے کہ جبر وطاقت سے دوررہاجائے،کیوں کہ طاقت سے کسی کو وقتی طور پردبایاجاسکتاہے ،مگر منایا نہیں جاسکتاہے۔اگر کہیں کوئی ریاست کے خلاف کھڑا ہواہے تو اس سے بات چیت کی جائے،اس کی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے،اس کی معاونت کی جائے۔ری کونسلنگ کی جائے۔ساتواں حل یہ ہے کہ بلوچستان میں دیگر صوبوں سے عوام کو لاکر بسایاجائے،بڑے بڑے پروجیکٹ لگائے جائیں،جہاں بلوچ،سندھی،پنجابی اور پختون مل کر کام کریں۔ تاکہ یہ تاثر زائل ہوجائے کہ بلوچستان میں صرف بلوچ رہتے ہیں،بلکہ دنیا کے سامنے یہ تاثر جائے کہ بلوچستان میں صرف پاکستانی رہتے ہیں۔جیساکہ ایران اپنے بلوچستان میں پورے ایران سے 20لاکھ سے زیادہ فارسیوں کو لاکر بسا رہا ہے۔ آٹھواں حل یہ ہے کہ قومیت اورلسانیت کے نام پر صوبوں کے نام جو رکھے گئے ہیں،انہیں تبدیل کرنے کی مہم چلائی جائے،کیوں کہ اس سے عصبیت اور قومیت کا ناسورپھیلتاہے،جو ہم پچھلے سترسالوں سے دیکھتے آرہے ہیں۔اس کے علاوہ سیاسی پارٹیوں کو بھی قومیت کے نام پر نام رکھنے سے روکا جائے،بلکہ ایسے نام رکھے جائیں جو باہمی اتحاد ویک جہتی کا سبب بنیں ۔تاکہ پاکستان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنایاجاسکے۔
اگر ریاستی سطح پر ان آٹھ نکات پر ایمانداری سے غور وفکر کرلیا جائے تو ان شاء اللہ ’’آزاد بلوچستان‘‘کے نام پر چلنے والی ساری تحریکیں خودبخود دم توڑ جائیں گی اور نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان میں دائمی امن بھی آجائے گا۔اس طرح سی پیک اور گودار پورٹ بھی ہمیشہ کے لیے خطرات سے محفوظ ہوجائی گی۔اگر فی الفور ایسا نہ کیا گیا توخدشہ ہے کہ آزادبلوچستان کے نام پر سی پیک اور گودار کو ناکام بنانے والے اپنی سازشوں میں کہیں کامیاب نہ ہوجائیں۔اللہ ایسے وقت سے پاکستان کو دوررکھے!