Asghar Khan Askari copy

با تیں سیاست دانوں کی

صاحب کتاب ہو نا بہت بڑی سعادت ہے۔دنیا میں یہ اعزاز جن کو مل جائے وہ قسمت والے ہو تے ہیں۔ضیا شاہد شعبہ صحافت کا ایک بڑا اور معروف نام ہے۔ملک کے تمام بڑے اخبارات میں اعلی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے تمام سیاست دانوں کے ساتھ قریبی مراسم بھی رکھتے ہیں۔ضیا شاہد کی تصنیف ’’با تیں سیاست دانوں کی‘‘ کا مطالعہ کر چکا ہوں۔صحافت اور تاریخ کے طالب علموں کے لئے اس کتاب میں کافی مواد ہے۔’’ایوب خان سے آخری ملا قات میں‘‘وہ لکھتے ہیں کہ سابق صدر نے مجھے بتایا کہ ’’زلفی (ذولفقار علی بھٹو) مجھے ڈیڈی کہتا تھااور تاشقند کے راز وہ کیا بتا ئے گا ۔وہ مداری ہے جو تا شقند کی ڈگڈگی بجاتا ہے۔پہلے یہ تحقیق تو کر لو کہ 1965 ء کی جنگ اور بھارتی حملہ انوائٹ کر نے میں اس کا اور اس کے سیکرٹری خارجہ عزیز احمد کا کتنا بڑا ہا تھ تھا‘‘۔ایوب خان کی یہ بات
بالکل حقیقت ہے کہ بھٹو تا شقند کا راز اپنے سینے میں گڑھی خدابخش لے کر دفن کر چکا لیکن اس راز سے پر دہ نہیں اٹھا یا ۔کنو ر دلشاد کے بارے میں پہلی مر تبہ پڑھا کہ وہ ایوب خان کے سرکاری مسلم لیگ کے طلبا ونگ کے سربراہ تھے۔شیخ مجیب الرحمان سے انٹر ویو والے باب میں اہل سیاست اور اہل صحافت دونوں کے لئے غور و فکر کا کا فی مواد مو جو د ہے۔بھٹو صاحب کے آخری ایام والے یا داشتوں میں لکھے ہو ئے چند جملے ایسے ہیں کہ سینے کو شق کر کے دل پھٹ جا تا ہے۔ضیا صاحب لکھتے ہیں کہ جے اے رحیم ،خورشید حسن ،حنیف رامے،غلام مصطفی کھر ،رسول بخش تا لپوراور پیپلز پارٹی کے کتنے ہی سینئر لو گوں کے ساتھ بھٹو صاحب نے بہت برا سلوک کیا۔جے اے رحیم جیسے بزرگ آدمی کو جو پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل تھے ،صرف اس لئے ایف ایس ایف کے جو انوں سے پٹوایا کہ انھوں نے ایک میٹنگ کے لئے بلوانے پر اور بلا وجہ انتظار کروانے پر اعتراض کیا تھا۔اسی طرح پارٹی کے دوسرے سیکرٹری جنرل غلام حسین ،ڈاکٹر مبشر حسن اور سیالکوٹ کے ایم این اے ملک سیلمان کے بارے میں بھٹو کا جو طر ز عمل لکھا ہے ،ضروری ہے کہ ہر پاکستانی کو اس بارے میں آگا ہی ہو کہ شخصی جمہوریت کو دوام دینے کے لئے تعلیم یا فتہ بھٹو کس حد تک گر گئے تھے۔’’اصغر خان ۔۔ایک معصوم سیاست دان ‘‘میں ان کی سیاست کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے،لازم تھا کہ پاکستانی قوم ان کوبھی منتخب کر تے مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہو ا۔مجھے یہ پڑھ کر دکھ ہوا کہ نواب زادہ نصراللہ خان بھی آخری دنوں میں سیاست کے ظاہری چکا چوند کا شکار ہو ئے۔ضیا صاحب لکھتے ہیں کہ جب بے نظیر بھٹو نے ان کو کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنا دیا تو ایک دن میں ان کے دفتر گیا ۔ ان کا دفتر یکسر بدل چکا تھا ۔دفتر سے پلنگ اٹھ چکا تھا اور نئے پیش قیمت صوفہ سیٹس کے باعث ظاہر ی حالت تبدیل ہو چکی تھی۔ہر چیز نئی تھی اور نواب زادہ صاحب دو نوجوانوں کو بتا رہے تھے کہ بے نظیر بھٹو صحیح معنوں میں جمہوریت پسند ہیں،جبکہ نو از شریف کی آمریت پسندی کے ساتھ پاکستان نہیں چل سکتا ۔لیکن اس سے بھی زیادہ اندوہناک یہ جملہ ہے کہ جب میں باہر نکلا تو ایک بو ڑھا کچھ لو گوں کو جمع کر کے فریاد کر رہا تھا کہ بر سوں سے نواب زادہ صاحب کر ایہ دیتے ہیں اور نہ میرا مکان خالی کر تے ہیں۔جب بابائے جمہوریت کا طر ز عمل ایک کمیٹی کی سربراہی سے یکسر بدل سکتا ہے تو آج کے سیاست دانوں سے شکوہ ٰ وشکایت کیسے کریں۔جب کشمیر کمیٹی کا سربراہ مالک مکان کو کرایہ نہ دینا اپنا استحقاق سمجھتا ہو تو پھرارکان اسمبلی کا تو فرض بنتا ہے کہ وہ نا جائز قبضے کریں۔ سید مودودی کے بارے میں کہ وہ اردو کے بہترین نثر نگار تھے ،اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔دوسرا یہ کہ اگر ان کی تدفین منصور ہ میں ہو جاتی تو بہتر تھا ،اس سے ہر کوئی اتفاق کر تا ہے۔ان کی اولاد کی آپس کی لڑائیاں ایک دوسرے اور والدہ کے خلاف مقدمہ بازی ،اگر مودودی کو یہ سب کچھ دیکھنا پڑتا تو اس کا دل پھٹ جاتا ۔مو لا نا مودودی کا تو نہیں معلوم اس لئے کہ وہ ایک صابر اور عظیم انسان تھے،لیکن جب میں ان کہا نیوں کو پڑھتا ہو ں تو میرا دل ضرور پھٹ جا تا ہے۔میرے لئے جنرل ضیا ء الحق کی شخصیت اورذوالفقار علی بھٹو ہی کی طرح پر اسرار رہی ہے،لیکن اس کتاب میں ضیا ء الحق اور ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کو سمجھنے کے لئے کافی سارے اشارے مو جو د ہیں۔یحییٰ خان کے بارے میں اس سے پہلے بھی پڑھ چکا تھا لیکن اس کتاب میں لکھے ہوئے جملوں سے یہ نتیجہ اخذکر نا بالکل ہی مشکل نہیں کہ ایسے افراد کو کسی بھی شعبے میں اہم عہدوں تک رسائی نہیں دینی چا ہئے۔قاضی حسین احمد کے بارے میں لکھے ہو ئے پیراگراف میں ان جملوں کی وضاحت ضیا شاہد پر فرض ہے کہ’’ مسلم لیگ (ن) اور
جماعت اسلامی آپس میں کیوں نہ مل سکے‘‘۔مصنف نے چونکہ ساری عمر صحافت کی دشت خاک چھا نی ہے اس لئے بار ثبوت خود فراہم کر نے کی بجائے لیاقت بلو چ ،مشاہد حسین ،سرتاج عزیز ،میاں اظہر اور خورشید قصوری کے سر ڈال دیا ہے،لیکن میری رائے ہے کہ ضیا شا ہد کو خود بھی اس کی وضا حت کر نی چا ہئے تاکہ یہ راز بھی تا شقند والے راز ثابت نہ ہوں۔ با تیں سیاستد انوں کی قلم فا ؤ نڈیشن نے شائع کی ہے،جس کے روح رواں علامہ عبدالستار عاصم اور فاروق چوہان ہیں۔کتاب ملنے کا پتہ ہے ۔قلم فاؤ نڈیشن انٹر نیشنل ،یثرب کا لونی ،بینک روڈ والٹن روڈ لا ہور کینٹ یا اس فون نمبر03000515101 پر رابطہ کر کے بھی آپ کتاب منگوا سکتے ہیں۔ یہ کتاب اس لئے پڑھنے کی لائق ہے کہ اس میں سنی سنائی باتیں یا روایات نہیں ہیں بلکہ سچائی پر مبنی منصف کی اپنی یا داشتیں ہیں۔