raza-mughal

بات تو سچ ہے مگر۔۔۔؟

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ 70برس کے دوران ہم من حیث القوم اپنی اپنی حیثیتوں سے انصاف نہیں کر سکے۔ ہم نے اپنے بچوں کو وہ پاکستان نہیں دیا جو ان کا حق ہے، وطن کی مٹی آج بھی ہم سے سوال کررہی ہے، 70 برس میں ہماری ناکامیاں زیادہ اور کامیابیاں کم ہیں۔ پاکستان اگر آج پیچھے ہے تو اس کا ذمہ دار کوئی ایک نہیں بلکہ ہم سب ہیں، سیاستدان، جرنیل، جج، بیورو کریسی، اشرافیہ اور ہم سب نے پاکستان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ سیاسی حکومتیں ہوں یا فوجی کوئی بھی قوم کی توقعات پر پورا نہیں اترا، وطن عزیز کی مٹی ہم سے اپنا قرض چکانے کا سوال کر رہی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ معاشی و سماجی عدم مساوات نے دوریاں پیدا کی ہیں، امیر اور غریب کے بچوں کو یکساں حقوق اور مساوی مواقع ملنے تک پاکستان آگے نہیں بڑھے گا، ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے آپ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان ایک طرف تو ایٹمی قوت ہے لیکن دوسری طرف تعلیم ،صحت اور دیگر سماجی شعبوں میں مقرر کئے جانے والے اہداف حاصل نہیں کئے گئے، جس کی ایک بڑی وجہ اقربا پروری ، کرپشن، غیر پیشہ ورانہ طرز عمل اور عزم کی کمی ہے، ماضی کی غلطیوں پر رونے دھونے کا اور آنسو بہانے کا کوئی فائدہ نہیں ہمیں ان غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھناہے۔
شہباز شریف ہمیشہ ہوش میں رہتے ہیں اسی لئے وہ کڑوا سچ بولتے رہتے ہیں۔ واقعی ہم نے من حیث القوم اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں،جھوٹ ،کرپشن،لوٹ مار ہیرا پھیری کو فروغ دیا، حمام میں ہم سب ننگے ہیں دودھ کا دھلا کوئی نہیں ،اندر اور باہر گندگی میں اٹے ہیں،ہر کسی کے ’’بلیں شورہ ‘‘لگا ہوا ہے،کرپشن کے خلاف ببانگ دہل سچ کہنا آج کے نفسا نفسی کے عالم میں مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے آج نواز شریف کا طوطی بولتا ہے ہر کوئی ان کے قریب ہونے کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ وہ اقتدار میں ہیں جب کرسی چھنے گی تب پتا چلے گا کہ کون اپنا اور کون پرایا ہے۔ اس کا تجربہ 99ء میں مشرف کے شب خون مارنے پر دیکھا جا چکا ہے جب میاں شریف برادران کیلئے خون دینے کی باتیں کرنے والے تتر بتر ہو گئے، گھروں،گاڑیوں سے نیم پلیٹیں اتر گئیں۔ جلاوطنی کے وقت احتجاج کرنے والا کوئی نہ تھا اور تو اور جب بطور وزیر اعظم نواز شریف ماڈل ٹاؤن میں کھلی کچہری لگاتے تھے تو وہاں نعرے بجتے تھے میا ں تیرے جاں نثار بے شمار، بے شمار اور ملک کی قسمت مارے بیس کروڑ عوام نے دیکھا کہ جاں نثار برے وقت میں زیر زمین چلے گئے، کئی فصلی بٹیرے کسی اور شاخ پر جا بیٹھے تھے۔
زخموں سے چور سینوں میں آج بھی اپنوں کی برچھیاں لگی نظر آئیں گی،آنکھیں آج بھی سقوط ڈھاکہ کو نہیں بولیں جب اقتدار کی ہوس نے اپنے ہی جسم کے دو ٹکڑے کرڈالے اور ہم ہاتھ ملتے رہے،اس کا کوئی اور قصور وار نہیں تھا ہمارے سیاستدان ،جرنیل بلکہ ججز بھی تھے جنہوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے رکھیں ،صورت حال اب کچھ مختلف نہیں، حکمرانوں کی خوشامد میں مرے جا رہے ہیں، عدلیہ کی توہین کر سکتے ہیں،آرمی کو برا کہہ سکتے ہیں، قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بارے میں کچھ بھی بکواس فرما لیں کوئی بات نہیں، لیکن زردایوں، شریفوں، چوہدریوں، مریموں، بختاورں کی شان میں کوئی گستاخی کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا،حسین نواز اور حسن نواز کی عدالت میں پیشی پر ہاہاکارمچی ہے جیسے وہ کسی ولی اللہ کے خانوادے سے تعلق رکھتے ہوں ،صحابہ کرامؓ ،شہداء اور اولیا ء کے نام لے کر سمجھتے ہیں کہ انسان اور مسلمان ہونے کا حق ادا کردیا،حالانکہ صحابہؓ نے تو احتساب سے انکار نہیں کیا۔ شہداء نے تو نیزوں اور تیروں کی بارش میں کربلا میں بھی حق کا علم تھامے رکھا،اولیا ء نے ہر سو علم کی شمعیں روشن کیں،لیکن ہم کیسے مسلمان ہیں کہ پاک ہستیوں کے نام بھی لیتے ہیں اور بے شرمی، بے حیائی،لوٹ مار سے باز نہیں آتے۔
وطن میں لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کا جن بے قابو ہے، لوٹ مار عروج پرہے، قانون نام کی کوئی چیز نہیں ،ہر طرف کرپشن کا دور دورہ ہے، غریبوں مسکینوں کے نام پر کھایا پیا جا رہا ہے،امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہاہے،پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ مقروض ہو کر آنکھ کھولتا ہے،حکمران اور اپوزیشن چائنا کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے لیکن وہاں تو پانچ روپے اور پانچ ارب کی کرپشن پہ سزائے موت ہے لیکن یہاں کوئی جتنا ’’ کرپٹ ‘‘ہے اتنا ہی شریف زادہ ہے، حکومت اور اپوزیشن باریاں لینے میں مصروف ہیں یوں بھی کہہ لیں کہ ’’چور کتی‘‘ رل گئے ہیں، شہباز شریف صاحب بولا تو آپ نے سچ ہے کہ ستر سال سے ہم لوٹ مار میں مصروف ہیں لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ’’ بلی‘‘ کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟