Yahya Mujahid

بابری مسجد کی شہادت

بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کی شہادت کو 25 برس بیت چکے ہیں لیکن مسلمان آج بھی انصاف کے طلب گار ہیں۔ہندو انتہا پسند تنظیم بی جے پی نے آر ایس ایس اور شیوسینا جیسی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر 16ویں صدی عیسوی سے قائم مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی ایک تحریک چلائی اور پھر 6 دسمبر 1992ء کونیم فوجی دستوں کی مدد سے بابری مسجد کو شہید کر دیاگیا۔بابری مسجد کی شہادت کے نتیجے میں گجرات میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جس میں سرکاری سرپرستی میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کیاگیا۔انہی فسادات کے نتیجہ میں امریکہ کی جانب سے پہلے کہا جاتا رہا ہے کہ وہ بی جے پی لیڈر نریندر مودی کو اپنے ملک آنے کیلئے ویزہ نہیں دیں گے لیکن بعدا زاں انہی کے ساتھ دوستیاں نبھائی جارہی ہیں۔بابری مسجد کی شہادت کے خلاف اس وقت کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ اور بی جے پی کے مرکزی لیڈر ایل کے ایڈوانی سمیت 49 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جو 2 دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود قانونی داؤ پیچ اور عدالتی پیچیدگیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر نے 16 صدی عیسوی میں تعمیر کروائی تھی جو اسلامی اور مغل فن تعمیر کا ایک شاہکار تھی جب کہ ہندو انتہاپسندوں کا دعویٰ تھا کہ ظہیر الدین بابر نے ہندو دیواتا رام کی جائے پیدائش پر بنے رام مندر کو مسمار کر کے بابری مسجد تعمیر کی تاہم ہندو اس حوالے سے مستند تاریخی ثبوت دینے میں ناکام رہے ہیں۔
دو برس قبل بھارت میں اس بات کا اعتراف کر لیاگیا کہ بابری مسجدمنظم منصوبہ کے تحت شہید کی گئی اور اس کی شہادت میں نہ صرف بی جے پی اور شیو سینا سمیت تمام ہندو پارٹیاں متحد تھیں بلکہ اس وقت کی بھارتی حکومت بھی اس سارے منصوبہ سے آگا ہ تھی۔انڈیا میں سرکاری سرپرستی میں سینکڑوں مساجد شہید اور ہزاروں مسلمانوں کا خون بہایاجاچکاہے‘اسکے باوجود مسلمانوں کے خلاف دہشت
گردی کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کیاجاتا ہے۔ایک بھارتی ویب سائٹ نے اعتراف کیا کہ بابری مسجد طے شدہ منصوبے کے مطابق شہید کی گئی جس کا سابق وزیراعظم نرسمہا راو اوربی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی سمیت بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کو علم تھا، مسجد پرحملہ ایک مہینے کی خفیہ تیاری کے بعد سنگ پریوار کی تنظیم کے تربیت یافتہ شدت پسندوں نے کیا، اگر ایک منصوبہ ناکام ہوجاتاتو پلان بی کے تحت شیوسینا کے کارکنان ڈائنامائیٹ سے مسجد کواڑانے کیلئے تیار تھے۔ ‘کوبراپوسٹ’ کے خفیہ آپریشن کی رپورٹ کے مطابق بابری مسجد کی شہادت کے آپریشن کو ‘جنم بھومی’کا نام دیاگیا جس سے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت بابری مسجد پر حملے کی سازش سے آگاہ تھی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ منصوبہ سنگھ پریوار کے مختلف دھڑوں نے تیار کیا اور اس کے لیے ایک ماہ تک خفیہ طور پرتیاری کی گئی اور اس سلسلے میں ہندو انتہا پسندوں کو تربیت بھی دی گئی جس کے بعد 6دسمبر1992کو تربیت یافتہ شدت پسندوں نے16ویں صدی کی مسجد کو شہید کردیا اور پلان بی کے تحت شیوسینا کے کارکنان کی نوبت ہی نہیں آئی۔ویب سائٹ نے رام جنم بھومی موومنٹ سے متعلق 23 اہم شخصیات سے معلومات حاصل کر کے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔یہ انکشاف کوئی نیا نہیں۔ماضی میں بھی ہندوستان کی سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے بابری مسجد کی شہادت کے بارے میں سنسنی خیز بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کے اس وقت کے صدر شنکر دیال شرما کو بابری مسجد گرائے جانے کی معلومات تھیں۔ ہم اس وقت صدر جمہوریہ شنکر دیال شرما کے پاس ایک خط لے کر گئے اور ان کو بتایا کہ مسجد کو 6 دسمبر کو گرا دیا جائے گا اور یہ معلومات ان کو 4 دسمبر کو ہی دے دی گئی تھی۔ اتنا ہی نہیں ملائم سنگھ یادو نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ چاہتے تھے کہ مسجد گرے اور ملائم سنگھ جائیں۔بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے نام سے منسوب بھارتی ریاست اتر پردیش کی بڑی مساجد میں سے ایک تھی۔یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی۔ بابری مسجد کے اوپر تین گنبد تعمیر کیے گئے جن میں درمیانی گنبد بڑا اور اس کے ساتھ دو چھوٹے گنبد تھے۔ گنبد کے علاوہ مسجد کو پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا جس میں صحن بھی شامل تھا۔صحن میں ایک کنواں بھی کھودا گیا۔ گنبد چھوٹی اینٹوں سے بنا کر اس پر چونے کا پلستر کیا گیا تھا۔ مسجد کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے اس کی چھت کو بلند بنایا گیا روشنی اور ہوا کے لئے جالی دار کھڑکیاں نصب تھیں۔ اندرونی تعمیر میں ایک انتہائی خاص بات یہ تھی کہ محراب میں کھڑے شخص کی سرگوشی کو مسجد کے کسی بھی اندرونی حصے میں آسانی سے سنا جا سکتا تھا۔ الغرض یہ اسلامی فن تعمیر کا شاھکار تھا۔
بابری مسجد شہید کئے جانے کو 25برس گزر چکے ہیں لیکن ہندو انتہاپسند لیڈروں ایل کے ایڈوانی، اشوک سنگھل ودیگر سمیت کسی مجرم کو آج تک سزا نہیں دی گئی۔جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے سازشیں بھی پہلے سے بہت بڑھ گئی ہیں اور ہندوستانی سپریم کورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کے باوجود ہندوانتہاپسندوں کی جانب سے ہزاروں ٹن پتھر جمع کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کو کھلے عام دھمکیاں دی جارہی
ہیں۔ حکومت پاکستان کو بھارت کی اس دہشت گردی کیخلاف بھی بھرپور آواز بلند کرنی چاہیے۔ ہندوستان میں تشدد اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ محض گھر میں گائے کا گوشت رکھنے کی افواہ پھیلا کر فسادات بھڑکائے جاتے ہیں اور بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا جارہا ہے۔بھارتی مسلمان بہت زیادہ کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔
آخر میں امریکہ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کئے جانے کی خبروں پر چند الفاظ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس اعلان کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔پاکستان سمیت تمام مسلمان ملکوں میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ آج جمعہ کو بھی ملک گیر سطح پر یوم احتجاج منایا جارہا ہے اور شہر شہر احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں ۔ امریکہ نے اگر اپنا یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور دنیا بھر میں پرتشدد مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے اورامریکہ و اسرائیل کیخلاف نفرت کے وہ الاؤ بھڑکیں گے کہ انہیں کنٹرول کرنا پھر کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ یہودیوں نے ٹرمپ کو کامیاب کروانے کیلئے بے پناہ سرمایہ کاری کی ہے اور وہ بھی یہودیوں سے اپنے خاندان کے تعلقات کو فخریہ انداز میں بیان کرتے رہے ہیں اس لئے یہ سب کچھ اچانک نہیں ہے بلکہ طے شدہ پالیسیوں کا حصہ ہے۔ سعودی عرب، پاکستان، ترکی،اردن اور دیگر ملکوں نے امریکہ کے اس اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے تباہ کن نتائج کا حامل فیصلہ قرار دیا اور جلد اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔اگرچہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے بھی بظاہر امریکہ کے اس اعلان کی حمایت نہیں کی لیکن مسلم دنیا کو ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے باہم مل بیٹھ کر اپنے اختلافات ترک کرکے مضبوط لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے تاکہ امریکہ کو اس فیصلہ پر عملدرآمد سے روکا جاسکے اور مقبوضہ فلسطین کو غاصب اسرائیل کے قبضہ سے نجات دلائی جاسکے۔