Hayat Abdulla

اے برما کے ہجراں نصیبو! ابھی کٹتے رہو

نہیں نہیں۔۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اتنا بے مہر اور بے مروت کبھی نہیں ہو سکتا کہ عالم کفر کے خونیں اور دل دہلا دینے والے قہر پر اس کے احساسات کی راکھ میں دبی کوئی ایک چنگاری بھی بھڑک نہ اٹھے۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ ایک ایٹمی ملک کے صدر ممنون حسین کی زبان اس قدر بھی ساکت و جامد نہیں ہو سکتی کہ مسلمانوں کی بوٹیاں نوچ لی جائیں، ان کے جسم و جاں کو کاٹ دیا جائے اور یہ زبان چند الفاظ تک ادا نہ کر سکے۔ بودھ بھکشوؤں کے ظلم دیکھنے والوں کے حواس مختل ہو جاتے ہیں۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ ممنون حسین کی زبان اتنی منجمد نہیں ہو سکتی کہ اس قدر خون خرابے پر اس میں جنبش تک نہ ہو۔۔۔ میں نہیں مانتا کہ نوازشریف کے احساسات اس قدر برفیلے بھی ہو سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے جسموں کی تکا بوٹی کرنے کی ویڈیوز دیکھ کر بھی نوازشریف کے جذبات تہ و بالا نہ ہوں۔
برما کے مسلمانوں پر قہر و غضب اور ظلم و سربریت دیکھنے والی آنکھیں بھی سکتے میں آ جاتی ہیں۔ 2600مکانات جلا دیئے گئے، 500سے زائد بستیاں تہس نہس کر دی گئیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں ڈنڈوں سے توڑ توڑ کر گردنیں کاٹ دی گئیں۔ ماں باپ کے سامنے بیٹیوں کی عصمتیں تار تار کر دی گئیں، وہ کچھ بھی تو نہیں کر سکتے۔ انسانیت کی جتنی تذلیل برما میں ہوئی، اسلام کے ساتھ عداوت اور مخاصمت جس قدر برما میں برتی جا رہی ہے وہ دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں۔ 57اسلامی ممالک کے سربراہ محض تماشائی کا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ 24ممالک کا تخلیق پانے والا نیا اسلامی اتحاد بھی ایک لفظ تک ادا کرنے سے گریزاں ہے۔
چیخ اٹھتی ہوئی ہر گھر سے نظر آتی ہے
ہر مکاں شہر کا آسیب زدہ لگتا ہے
بدھسٹ راہب آشن وردھو کہتا ہے کہ مسلمانوں کو کاٹ ڈالو، ان کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو کہ ایسا کرنا بودھوں کا مذہبی فریضہ ہے۔ آنگ سان سوچی دنیا بھر میں انسانی حقوق کی علم بردار ہے مگر مسلمانوں کے قتل پر برما کی فوج کو انگیخت دیتی ہے۔ مہاتما بودھ کودنیا میں امن کا سب سے بڑا پیام بر اور عدم تشدد کے فلسفے کا داعی سمجھا جاتا ہے۔ مہاتما بودھ کا نظریہ ہے کہ کسی جانور کو قتل کرنا بھی ایسے ہی ہے جیسے کسی انسان کو مار ڈالنا مگر مسلمانوں کو بے دردی اور سفاکیت کے ساتھ قتل کرنا آج کے بدھ مت کے پیروکاروں کا مذہبی فریضہ بن گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے اصل مذہبی فریضے سے بہت دور چلے گئے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کے جان و تن پر دردو الم کے اتنے انبار لگا دیئے گئے ہیں کہ گریہ و زاری اور فریاد تک ان کے لبوں پر آنے سے گریز پا ہیں۔ برما کی فوج انہیں بے دردی کے ساتھ مارتی جاتی ہے اور وہ مرتے چلے جاتے ہیں۔ کوئی صدائے احتجاج، کوئی حرفِ فریاد ان کے لبوں پر نہیں آتا کہ یہ سب رائیگاں ہی تو ہے۔
جتنا جی چاہے کریں ظلم وہ مجھ پر
مجھ میں اب نام کو بھی طاقت فریاد نہیں
میانمار کی کل آبادی 5کروڑ 60لاکھ کے قریب ہے جس میں 89فیصد بودھ، 4فیصد مسلمان (قریباً 22 لاکھ)، 4فیصد عیسائی، ایک فیصد ہندو اور دو فیصد دیگر قومیں آباد ہیں۔ سات صوبوں کے اس ملک میں مسلمانوں کی اکثریت راکھین میں آباد ہے۔ قریباً 6لاکھ مسلمان ہیں جنہیں روہنگیا کہا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ تسلیم کر چکی ہے کہ راکھین کے روہنگیا مسلمان روئے زمین پر مظلوم ترین قوم ہیں جنہیں دنیا میں انسانی حقوق تو کجا اپنے ہی ملک کے شہری کہلانے کا حق بھی حاصل نہیں، مگر عالمی امن کی زلف گرہ گیر کا اسیر عالمی ضمیر کسی چکنے گھڑے کی مانند، کسی آہ و زاری اور قتل و غارت گری پر نم ہوتا ہی نہیں۔ بودھ بھکشوؤں نے روہنگیا مسلمانوں پر ایسے درد لاد دیئے ہیں کہ جن کی مثال شاید تاریخ کے اوراق میں بھی ڈھونڈے سے نہ ملے مگر وہ کس سے امید باندھیں ۔۔۔ کوئی چارہ گر نہیں۔۔۔ کوئی مسیحا باقی ہی نہیں رہا۔۔۔ در بہ در خاک چھانتے لٹے پٹے روہنگیا مسلمان فقط اپنی جان بچانے ہی کی حسرتیں دل میں لئے بیٹھے ہیں اس کے علاوہ باقی تمام امیدیں کب کی دم توڑ چکیں
ہم فقیر لوگوں کا بس یہی اثاثہ ہیں
آنکھ کے کٹورے میں چند خواب رہنے دو
مگر اے روہنگیا مسلمانو! تم فکرنہ کرو، نوازشریف اتنا سخت دل نہیں کہ برہنہ مسلمان عورتوں کی کٹی پھٹی لاشیں دیکھ کر بھی یہ تڑپ نہ اٹھے، مجبوری فقط یہ ہے کہ اسے صرف چار سالوں تک وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے دیا گیا، ابھی اس کا ایک سال باقی تھا اور اس ایک سال میں اس نے پاکستان کو دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بنا دینا تھا، اب نوازشریف اپنی بیگم کو وزیراعظم بنانے کی تگ و دو میں مگن ہے جیسے ہی یہ مصروفیت ختم ہوتی ہے یہ روہنگیا مسلمانوں کے وارے نیارے کر ڈالے گا۔ برما کے مظلومو! شاہد خاقان عباسی اتنا کھٹور نہیں ہے کہ ہزاروں مسلمانوں کی لاشیں دیکھ کر اس کی آنکھیں ڈبڈبا نہ جائیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس بے چارے کو صرف چند دنوں کے لئے وزارت عظمیٰ سونپی گئی ہے، سو وہ اس سے لطف اندوز ہونے میں مصروف ہے۔ اے کٹے پھٹے اور ادھڑے جسموں سے سسکتے بلکتے انسانو! کلثوم نواز بھی اتنی تنگ دل اور سنگ دل نہیں ہے کہ برما کی مظلوم خواتین کے مونہوں پر پیشاب کر دیا جائے اور اس کے دل میں نرماہٹ کی کوئی کرن ہی نمودار نہ ہو، یہ تو بڑی ہی حساس خاتون ہے فی الحال کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود وزارت عظمیٰ حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ بس جیسے ہی الیکشن جیت کر وہ صحت مند ہو گئی تو پھر برما کے مظلوموں کے لئے ضرور آواز اٹھائے گی۔ پھر برما کے مسلمانوں کے سارے درد کافور ہو جائیں گے۔ اس لئے اے برما کے ہجراں نصیبو! ابھی کٹتے رہو۔۔۔ ابھی بلکتے رہو۔۔۔ ابھی فلک شگاف آہیں اور سسکیاں لیتے رہو۔۔۔ ابھی گریہ و زاری کرتے رہو۔۔۔ ابھی ظلم و جبر کے ہجوم بے کراں میں کسی مرغ بسمل کی طرح تڑپتے رہو۔۔۔ کہ ابھی چارہ گر خود درد کا مارا ہے
کس سے امید کرے کوئی علاج دل کی
چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا