tariq mehmood ch

ایک دن، تین فیصلے

جمعتہ المبارک کا روز، تاریخ ساز ثابت ہوا۔ ایک ہی دن میں تین فیصلے ہوئے۔ ایسے فیصلے کہ پہلے نے دوسرے اور دوسرے کو تیسرے نے بھلا دیا۔ ایسا ثمرآور دن کہ میڈیا پرسن، خبریں دیتے، بپرز پر خطاب کرتے کرتے ہانپ کر رہ گئے۔ لیکن خبریں تھیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ ایسے بھرپور ایام مدتوں بعد آتے اور ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ تین فیصلوں اور اس کے مثبت، منفی اثرات سے بھرپور وہ دن بھی ایسا ہی تھا۔
قانون دان کہتے ہیں ہر مقدمے کے اندر ایک مقدمہ ہوتا ہے اور وہ پوشیدہ، مخفی معاملہ ہی اصل کیس ہوا کرتا ہے۔ ایسا ہی ہوگا۔ قلمکار کی رائے میں ہائی پروفائل، ہر مقدمے کا فیصلہ اس روز کیلئے ہی اہم نہیں، جب اس کے نتیجہ کی اناؤسمنٹ ہوتی ہے بلکہ وہ تاریخ مرتب کرتا ہے۔ قانون کی کتابوں میں نظیر بن کر ہی نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات پر، ان مٹ سیاہی سے لکھی تحریر بن کر زندہ رہتا ہے۔ مولوی تمیز الدین مرحوم کے مقدمہ سے لیکر پانامہ تک، مقدمات کی طویل تاریخ ہے۔ ایسے مقدمات جنہیں توہین عدالت کا خوف بھی، زبانوں کی نوک پر آنے سے نہیں روک پاتا۔ جمعتہ المبارک کو عدالتوں سے آئے دو مقدمات بھی پانامہ کے بطن سے نکلے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ گزشتہ چند ماہ پارلیمنٹ کے ایوانوں، جی ٹی روڈ پر کئے گئے فیصلے بھی اسی پانامہ کے دیئے ہوئے انڈے بچے لگتے ہیں۔ سو! وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ پارلیمانی لیڈروں کی بریک فاسٹ میٹنگ اور اس کے نتیجہ میں نئی حلقہ بندیوں کا ترمیمی بل پاس کرانے کی منظوری کا فیصلہ بھی، اسی کی کڑی ہے۔ اس ایک فیصلے نے عام انتخابات کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور کر دی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی ٹھنڈی ٹھار صبح کے ہنگام میں گرما گرم، ناشتے کے لوازمات نے، نہ جانے کیا سحر پھونکا کہ کایا پلٹ گئی۔ وہ قضیہ جو کبھی کورم، کبھی غیر حاضری، کبھی چیئرمین سینٹ کی سرزش، کبھی کونسل آف کامن انٹرمنٹ کے اجلاس کے بہانے، کبھی مردم شماری پر اعتراض کی آڑ لیکر تاخیر کا باعث بنتا رہا۔ بہرحال دیر آید درست آید۔ الیکشن انعقاد کیلئے تیاریوں میں تاخیر پہلے ہی ہو چکی۔ ترکی سے واپسی پر جناب وزیراعظم سیدھے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ شنید ہے کہ پیپلزپارٹی کے جمہوریت پسندوں کو رام کرنے میں بنیادی کردار ایک آزمودہ گارنٹر نے ادا کیا۔ گارنٹر، اب پنجاب سے سندھ کا رخ کر چکا ہے اور اس کے میگا پراجیکٹس، دن دگنی، رات چگنی ترقی کر رہے ہیں۔ مشنیں دن رات نوٹ اگل رہی ہیں۔ بہرحال نیکی اور بھلائی کا کام جو بھی کرے۔ اس کا بھلا۔ اگرچہ مجوزہ آئینی ترمیم کی منظوری میں ابھی دو روز باقی ہیں۔ لیکن امید ہے اب کوئی مزید مطالبہ سامنے نہیں آئے گا۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے اب عام انتخابات کے بروقت انعقاد کی راہ میں ’’بدنیتی‘‘ کے سوا کوئی اور رکاوٹ حائل نہیں رہی اور نیتوں کا حل صرف اللہ جانتا ہے۔ دو قومی سطح کی ایسی سیاسی جماعتیں بھی ہیں جو دن رات دعائیں مانگتی ہیں کہ تھوڑی سی مہلت اور مل جائے۔ بہرحال بات ہو رہی تھی فیصلوں کی۔ پانامہ کے فیصلے میں بہت کچھ پہلی دفعہ ہوا۔ بس ایک دفعہ نظیر قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آنے والوں کیلئے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ پہلی دفعہ واٹس ایپ کا استعمال، پہلی مرتبہ ایک مقدمہ کی تحقیقات کیلئے ایسی جے آئی ٹی کا قیام، اس پر نگران کی تعیناتی، تحقیقاتی عمل کے دوران، ایک ملزم کی تصویر کی لیکج، قطری شہزادے کی گواہی سے انکار، اس کو پاکستان آنے پر اصرار، برطانیہ سے تحقیقات کیلئے تحقیقاتی افسروں کے رشتے دار کی فرم کو بھیجنا اور پھر آخر میں انوکھا فیصلہ۔ وہ پانامہ کا مقدمہ، جس کے متعلق دعویٰ تھا کہ سب کچھ بہا کر ساتھ لے جائے گا۔ فیصلہ کا وقت آیا تو اس میں سے کچھ بھی حرف آخر نہ نکلا۔ ہاں البتہ ایسی شہادتیں ضرور فراہم ہوئیں جس کے نتیجہ میں ایک ہی الزام پر کئی نیب ریفرنس کی راہ ضرور ہموار ہوئی۔ وہ مقدمات، ابھی نیب عدالت کی راہداریوں میں ابتدائی قانونی موشگافیوں کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ پانامہ کا فیصلہ بہرحال ایک اقامہ اور ایک تنخواہ کی عدم وصولی پر ہوا۔ بہرحال منتخب وزیراعظم کو ڈکشنری کی ڈیفی نیشن کی بنیاد پر نااہل کر دیا گیا۔ کمال یہ ہے کہ وہ سابق ہوا لیکن اس کی اپنی پارٹی پر گرفت بھی قائم ہے اور سیاست بھی اس کے گرد گھومتی ہے۔ مخالفین کی بھی پانامہ جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات میں عشروں پرانا حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس دریافت کیا۔ اپنی سفارشات میں لکھا کہ یہ ریفرنس کھل جائے تو گوہر مقصود حاصل ہو جائے گا۔ صفحہ 193 پر لکھی سفارش ریکارڈ کا حصہ ہے۔ خودساختہ ترجمان اعلیٰ شیخ رشید کا دعویٰ تھا کہ ایل این جی ٹھیکے میں کک بیکس اور حدیبیہ ’’مدر آف آل کیسز‘‘ ہیں۔ قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر وہ ایل این جی ڈیل کے ثبوت حاصل کرنے قطر جائیں گے۔ لیکن شاید غلطی سے ہانگ کانگ کی فلائٹ پکڑ لی۔ دو چار روز دعوئیں کھاتیں ان کے ساتھ سولو لائیو شو کرنے والے تابع فرمان اینکر کیوں نہیں بولتے کہ بھائی وہ ثبوت کہاں ہیں؟ ڈراوا، حدیبیہ کیس تھا۔ کہا گیا سارا کنبہ ہی کڑکی میں آتا ہے۔ اس مقدمہ پر ایسی گولہ باری کی گئی کہ زمین سے آسمان تک سب کچھ کانپ اٹھا۔ سپریم کورٹ میں سماعت کا وقت آیا تو نیب کے پراسیکیوٹر کو کورٹ روم میں چھپنے کی جگہ تک نہ ملی۔ تینوں حدیبیہ ملز کیس کا پہاڑ چوبیس گھنٹے کی شفٹوں میں کھودا گیا۔ آخری تجزیہ میں ری اوپن کرنے کی اپیل مسترد کر دی۔ اپیل ریجکٹ ہوتے ہی عدلیہ کے احترام کا لبادہ اتر گیا اور ترجمان نیب پر گرجنے برسنے لگے۔ گویا اداروں کا احترام صرف اس وقت تک، جب فیصلے اپنے حق میں ہوں۔ سوا سال پہلے عمران خان سے شکست خوردہ حنیف عباسی نے دو متفرق ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کئے۔ الیکشن ہارنے والے سے زیادہ متاثرہ فریق کون ہوتا ہے؟ مقدمہ 405 روز اتار چڑھاؤ سے گزرا۔ کئی دفعہ فریق ثانی نے بیان اور دستاویز بدلیں۔ قطری شہزادے کا خط تو قبول نہ ہوا البتہ برطانوی شہزادی کی چٹھی کو شرف قبولیت حاصل ہوا۔ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے۔ عدالتیں فیصلہ شواہد اور دستاویزات کی بنیاد پر کرتی ہیں۔ شام کے وقت اگلے روز فیصلہ سنانے کا اعلان ہوا تو تبصرے، تجزیئے، اندازے لگائے گئے۔ کسی کو کیا معلوم کہ فیصلہ کیا آنے والا ہے۔ لیکن فیصلہ آنے کے چند گھنٹے پہلے سوشل میڈیا کی کسی وال کو وزٹ کر لیجئے۔ فیصلے کے مطابق جو ٹیوے بازی ہوئی وہ تقریباً پچاس فیصد درست پائی گئی۔ اس سے چند گھنٹے پہلے حدیبیہ پیپر پر فیصلہ آیا۔ شریف خاندان کی اکثریت کو ریلیف ملا۔ لیکن مبارکبادیں صرف وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ملیں۔ نہ جانے کیوں؟ پھر حتمی طور پر اس فیصلے کا اعلان ہوا۔ جس کی وجہ سے نگاہیں کورٹ نمبر ون پر لگی تھیں۔ چیئرمین عمران خان اہل اور جہانگیر ترین نااہل ہو گئے۔ فیصلے پر تبصرہ مناسب نہیں۔ چوبیس گھنٹے سے زبان خلق جو نقارہ خدا ہوا کرتی ہے کی صدائیں سوشل میڈیا کے ذریعے کانوں تک پہنچتی رہیں۔ کہیں بیلسنگ فیکٹر کا نام دیا جاتا ہے۔ کہیں کہا جا رہا ہے کہ کپتان نے نائٹ واچ مین کی وکٹ دے کر اپنی اننگز بچا لی ہے۔ میاں نوازشریف اور ان کے قریبی رفقا کو ایک مرتبہ پھر وہی بیانیہ دہرانے کا موقع مل گیا کہ احتساب کیسا؟ اصل نشانہ تو وہ تھے۔ وہ گئے تو باقی سب کچھ بائی بائی۔
ایک ہی دن میں تین فیصلوں نے بہت کچھ واضح کر دیا ہے۔ خاص طور پر الیکشن کا انعقاد۔ اب واضح ہو گیا کہ پنجاب میں متحارب فریقین کون ہوں گے؟ ایک جانب عمران خان، دوسری جانب شہباز شریف، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شہباز شریف کے پاس جو بیلٹ پیپر ہے اس پر نوازشریف کی تصویر ہے۔ حتمی فیصلہ نوازشریف کا اشارہ ابرو کرے گا۔