Ali Imran Junior

ایکس ون۔۔۔

دوستو! پچھلے چار،پانچ روز میڈیا کے تمام شعبوں میں ’’ جی ٹی روڈ‘‘ چھایا رہا۔ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کس نے کسے نااہل کیا، کس کے ووٹوں کی توہین ہوئی، ریلی کیوں نکالی گئی، پاورشو کیسا رہا۔ان تمام سوالوں کا جواب دینا ’’فارغ‘‘ لوگوں کا کام ہے، ہمارے پاس کرنے کیلئے اتنے کام ہیں کہ ’’ ڈاٹ کام‘‘ ہوکررہ گئے ہیں چونکہ یہ کالم غیرسیاسی ہوتا ہے، اس لئے سیاسی باتوں سے گریز تو لازمی بنتا ہے، لیکن آپ سوچ تو رہے ہوں گے کہ آج کالم کا عنوان بڑا ہی عجیب سا ہے، جی ہاں،یہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا سکیورٹی کوڈ تھا۔حساس ادارے، سادہ لباس اہلکار جب وائرلیس پر بات کرتے تھے تو میاں صاحب کا نام لینے کے بجائے’’ ایکس ون‘‘ کہتے تھے۔ ایکس ون کے بعد ایکس ٹوآتا ہے، یہ اردو کے لیجنڈ ناول ابن صفی کا ایسا امر کردار ہے جو اردو زبان کے قیام تک کبھی مر نہیں سکتا۔ابن صفی کے حوالے سے کچھ ان کہی باتیں اور یادیں بہت جلد آپ لوگوں سے شیئر کریں گے۔پہلے آج کچھ غیرسیاسی باتیں تو ہوجائیں۔
جی ٹی روڈ کی اپنی تاریخ ہے، لیکن تاریخ سے ہم کبھی سبق نہیں سیکھتے اسی لئے ’’تاریخ‘‘ بن کر رہ جاتے ہیں۔ریلی کی حمایت کرنے والوں کو کہنا ہے کہ ’’تاریخ‘‘ رقم ہورہی ہے تو اس ریلی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حالانکہ تاریخ رقم نہیں کرنی تھی بلکہ ’’ رقم‘‘ واپس کرنی تھی ۔آغامسعود شورش نے ایک بار کہا تھا کہ ملکہ ترنم نورجہاں گلوکاری کا موٹروے ہے جس کے جواب میں اجمل نیازی صاحب نے دعویٰ کیا کہ کشور ناہید شاعری کی ’’جی ٹی روڈ‘‘ ہیں۔جب جی ٹی روڈ کی شاعری کا ذکر آگیا ہے تو آپ نے چلتی پھرتی شاعری کو نوٹ کیا ہوگا کہ کس طرح مزے مزے کی باتیں کتنے آسان لفظوں میں ٹرک، بسوں، رکشہ والے آویزاں کرتے ہیں،جنہیں آپ پڑھ پڑھ کے کافی دیر تک انجوائے کرسکتے ہیں۔۔ ایسی کچھ چلتی پھرتی شاعری اور دلچسپ باتیں ’’جی ٹی روڈ‘‘ کے حوالے سے پیش خدمت ہے۔۔
تیرا میرا صدیاں دا ویر اے،تْو لنگ جا ساڈی خیر اے۔میں گھر گیا تو لگا تھا تالا،جلنے والے کا منہ کالابند کرو یہ سٹار پلس کے شو،ہارن دو راستہ لو۔۔۔وہ وَج گیا اک کار سے،دیکھ ضرور مگر پیار سے۔
مہنگائی نے پورا پاکستان ہلایا،جنے ماں نوں ستایا اونے رکشہ چلایا۔ آدمی آدمی کو ڈنس’ ریا’ ہے، سانپ بیٹھا ہنس ‘ریا’ ہے۔یہ جینا بھی کیا جینا ہے، جہلم کے
آگے دینہ ہے۔ماں کی دعا اے سی کی ہوا۔
عاشقی کرنا ہے تو گاڑی چلانا چھوڑ دو،بریک بے وفاہے تو رکشا چلانا چھوڑ دو۔محبت کو زمانے میں گل نایاب کہتے ہیں، ہم آپ کو بیٹھنے سے پہلے آداب کہتے ہیں۔ تم خود کوکترینہ سمجھتی ہو تو کوئی غم نہیں، ذرا غور سے دیکھو ہم بھی سلمان سے کم نہیں۔قتل کرنا ہے تو نظر سے کر تلوار میں کیا رکھا ہے، سفر کرنا ہے تو رکشہ میں کر کار میں کیا رکھا ہے۔ پورٹ پر رہتے ہیں، سہراب گوٹھ میں سوتے ہیں، جب تمہاری یاد آتی ہے تو جی بھر کے روتے ہیں۔اے راکٹ تجھے قسم ہے ہمت نہ ہارنا، جیسا بھی کھڈا آئے ہنس کے گزارنا۔چلتی ہے گاڑی اڑتی ہے دھول، جلتے ہیں دشمن کھلتے ہیں پھول۔سڑک سے دوستی ہے سفر سے یاری ہے، دیکھ تو اے دوست کیا زندگی ہماری ہے۔میرے دل پر دکھوں کی ریل گاڑی جاری ہے، خوشیوں کا ٹکٹ نہیں ملتا، غموں کی بکنگ جاری ہے۔جاپان سے آئی ہوں سوزوکی میرا نام، دن بھر سامان لانا لے جانا ہے میرا کام۔۔گھر میں رونق بچوں سے، سڑکوں پر رونق بچوں سے۔ کبھی سائیڈ سے آتی ہو کبھی ہارن دیتی ہو، میری جان یہ بتاؤ مجھے یوں کیوں ستاتی ہو۔ایک ٹرک کے پیچھے تحریر تھا،لاکھ نخرے دکھاؤ لوڈ اٹھانا پڑے گا،بن کے دلہن میانوالی جانا پڑے گا۔۔ایک بس والے نے لکھوایا تھا،ہزاروں منزلیں ہونگی ، ہزاروں گاڑیاں ہونگی،سواری ہم کو ڈھونڈیں گی نہ جانے ہم کہاں ہونگے۔ٹرک والے نے سب کے نام ایک پیغام وہ بھی سرعام لکھا تھا،امریکہ جا نہیں سکتا کراچی جا رہا ہوں میں،میری جان فکر مت کرنا واپس آ رہا ہوں میں۔ایک ڈرائیور نے توآبائی شہر کے ساتھ محبت کا اظہار بڑے تصوف والے انداز میں بیان کیا،ہزاروں شہر ہیں لیکن ، ہزارہ ایک ہوتا ہے،جو تجھ کو یاد کرتا ہے وہ بندہ نیک ہوتا ہے۔۔کچھ ڈرائیورنیک اور پرہیزگار ہوتے ہیں تو ان کے ٹرکوں،بسوں،رکشوں پہ بھی کچھ اس طرح کی تحریریں دیکھنے کو بآسانی دستیاب ہوتی ہیں:نماز پڑھئے، اس سے قبل کہ آپ کی نماز پڑھی جائے۔ تعجب ہے تجھے نماز کی فرصت نہیں۔ اپنی گناہوں کی معافی مانگ لیجئے ،ہو سکتا ہے کہ یہ آپ کی زندگی کا آخری سفر ہو۔ نصیب سے زیادہ نہیں، وقت سے پہلے نہیں۔ نیک نگاہوں کو سلام۔ دعوت تبلیغ زندہ باد۔ داتا کی دیوانی۔ میں نوکر بری سرکار دا۔ گستاخ اکھیاں کھتے جا لڑیاں۔
ویسے سچی بات ہے،اگر آپ لوگوں میں سے کسی نے بالی وڈ مووی ’’غدر،ایک پریم کتھا‘‘ دیکھی ہے تو اس میں ہیروپر ایک گانا فلمایاگیا،یہ گانا پاکستان میں بھی سپرہٹ رہا،گانا کچھ یوں تھامیں نکلا گڈی لے کے رستے میں ایک موڑ آیا میں اتھے دل چھوڑ آیا،ایک موڑآیا،رب جانے کب گزرا امرتسر،رب جانے کب لاہور آیا، میں اتھے دل چھوڑ آیا۔۔اس بار ہیرو امرتسر سے لاہور نہیں بلکہ اسلام آباد سے لاہور آرہا تھا، ہمارے پیارے دوست جو باتیں بنانے میں کچھ زیادہ ہی ماہر ہیں،بالکل سیاست دانوں کی طرح، کہتے ہی۔ ریلی کے دوران جب پنڈی سے جہلم جارہے تھے تو معاملہ کچھ یوں تھا، سواری لبھے نہ لبھے،سپیڈ ایک سو نبے۔۔پیارے دوست مزید فرمانے لگے۔ جب سپیڈ میں ریلی جارہی تھی تو اچانک ’’ ایکس ون‘‘ نے اپنے ڈرائیور کو گاڑی آہستہ کرنے کا حکم دیا، گاڑی جونہی سلو ہوئی،ایکس ون نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور برابر سے گزرنے والے موٹرسائیکل سوار کو آواز لگائی۔ اوماما،سٹینڈ چُک لے۔ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ بھلے اپنے لیڈر سے محبت کرو لیکن اس کی بھینس کے گوبر کو گاجر کا حلوہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کرو۔ ایک اور دوست کو تشویش ہے کہ ابھی پچھلے سال ہی تو اوپن ہارٹ سرجری ہوئی پھر چند ماہ قبل گردے کی پتھری کا آپریشن ہوا،اس کے باوجود اتنا طویل سفر وہ بھی بذریعہ جی ٹی روڈ، منٹوں کا سفرگھنٹوں میں اور پھر جگہ جگہ خطاب،واہ جناب۔ایک نجی ٹی وی چینل نے جب ٹوئیٹ کیا کہ ، لاہور کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں جانوروں کی قیمتیں آسمان پر، اس کے جواب میں شیخ رشید نے فوری ٹوئیٹ کیا، ’’ جی ٹی روڈ سے نیا مال آ رہا ہے جی‘‘۔پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک معزز دوست کا کہنا تھا کہ نااہل کی سیٹ پر ’’اہلیہ‘‘ الیکشن لڑیں گی۔
ملتان میں ایک چنگ چی پر فراز کی خوب صورت غزل کا بیڑاغرق دیکھا۔۔آپ بھی انجوائے کیجئے۔
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو! ہم بھی کالج کے باہر ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو! آج ہم سگریٹ ’’بھر‘‘ کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی
سو! اپنے ’’چنگچی‘‘ کا ایکسیڈنٹ کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ہم بھی معجزے ’’افضل پینٹر‘‘ کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
سو اُسے ’’ایزی لوڈ‘‘ کر کے دیکھتے ہیں
اس سے ایک بات تو بالکل کلیئر ہوتی ہے وہ یہ کہ ۔۔ بیروزگاری کے ہاتھوں تعلیم یافتہ اعلی ادبی ذوق کے حامل بھی چنگچی چلانے پر مجبور ہیں۔