Hayat Abdulla

این اے120میں علمائے کرام کا انتخاب

تازہ الیکشن سے یہ بات توآشکار ہو چکی کہ سماج میں تندرو، تلخ مزاج اور بدعنوان رویوں نے رواج پا کر شعور و آگہی پر مشتمل احساسات کو برے طریقے سے روند ڈالا ہے۔ اہل فہم و ذکا اور اہل حل و عقد بھی یہ کام فریضہ سمجھ کرسرانجام دینے لگے ہیں۔ اہل علم، اہل قلم و قرطاس اور دینی مزاج سے آراستہ لوگ بھی سطحی سے مفادات کے لئے دن دہاڑے ایسی ایسی علمی موشگافیاں پیش کرنے لگے ہیں کہ ان کی چترائی پر ہر محب وطن کو ابکائی آنے لگی ہے۔ انہی اہل علم کے حسن کی کرشمہ سازی ہے کہ یہ چاہیں تو جنوں کو خرد اور خرد کو جنوں ثابت کر دیں۔ دین شناس لوگ بھی ایک عام فہم سی بات کو پیچیدگیوں میں الجھانے کے لئے ایسے ایسے فلسفے بگھاریں گے اور ایسی ایسی تاویلوں کو تڑکا لگا کر پیش کریں گے جو کسی کے وہم و گمان تک میں بھی نہ ہو گا۔ شخصیت پرستی اس حد تک شعور کی راہیں مسدود کرڈالے گی۔ ذاتی مفادات یوں ادراک کو اڑن چھو کر ڈالیں گے۔ یہ حقیقت اب سب پر عیاں ہو چکی، دنیاوی لوبھ، جاہ و منصب کی حرص اور مقام و مرتبے کی ہوس نے دینی قائدین کے اندر کا پول اچھی طرح کھول دیا ہے۔ کل تک یہی دینی قبا میں لپٹے لوگ نسوانی قیادت کے خلاف پوری تمکنت اور آب و تاب کے ساتھ صف آرا تھے مگر اب اس کے جواز کے لئے کوئی محقق تاریخ کے کونوں کھدروں سے رضیہ سلطانہ کو کھوج لایا ہے تو کوئی بے نظیر بھٹوکو بطور دلیل پیش کرنے لگا ہے۔ بات یہاں تک بھی محدود نہیں بلکہ کچھ عاقبت نااندیش، ہزاروں مسلمانوں کو سفاکیت کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کروا دینے والی آنگ سان سوچی کوبھی بطور تمثیل پیش کرنے لگے تھے کہ دیکھو یہ بھی تو عورتیں ہیں ان کے دور حکومت میں ان کے ملکوں اور قوموں نے خوب ترقی کی ہے۔ سو عورت کی حکمرانی میں قوم کے ترقی نہ کرنے والی حدیث یہاں صادق کیوں نہیں آتی، اس لئے اس کا مفہوم ہی کچھ اور ہے۔
اس بات کو سمجھنا چنداں دشوار نہیں تھا کہ کون اسلام پسند ہے اور کون اسلام سے بیزار؟ کون حب الوطنی کے جذبات سے شاداب ہے اور کون ملک کو لوٹنے جیسے مکروہ کام کا ذمہ دار؟ کون متقی اور پرہیز گار ہے اور کون دنیادار؟ کون قرآن وحدیث کا عالم ہے اور کون قرآن و حدیث سے بے گانہ؟ کون بھارت کے ساتھ مخاصمت اور معاندت رکھتا ہے اور کون بھارت کا یار و مددگار؟ مگران میں سے کسی امتیاز کو درخوراعتنا سمجھا ہی نہ گیا اور افسوس تو یہ ہے کہ دینی مزاج کے حامل قائدین نے ان خصوصیات پر نوازشریف کو مقدم رکھا۔ ان سارے خصائص اور امتیازات کو نسوانی حکومت کے جواز اور عدم جواز کے بکھیڑوں میں الجھا دیا گیا اور دینی مزاج کے حامل طبقے نے اپنا سارا وزن جواز کے پلڑے میں یوں انڈیل دیا کہ لوگ ورطہ حیرت میں ڈوب گئے؟ باقاعدہ ریسرچ سکالرز موٹی موٹی عینکیں لگا کر اور خون پسینہ ایک کر کے یہ ثابت کرنے لگے کہ عورت کی حکمرانی جائز ہے۔ وہ کرپشن اور بدعنوانی جسے پاکستان کی عدالتوں نے نحیف و نڈھال کر ڈالا تھا، دین آشنا طبقہ اسی بدعنوانی کو توانائی فراہم کرنے کے لئے ایک مثالی اتحاد کر بیٹھا۔ احساس زیاں، کسی آہ و فغاں کے بغیرہی اس انداز سے رخصت ہوا کہ احادیث کی تفسیر کومن مرضی کے مطابق ڈھال لیا گیا اور پھر من چاہی تاویلوں کو فکر کی منڈیروں پر بٹھا کر روشنیاں نوچنے پر لگا دیا۔ سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم جوئی شروع کر دی گئی۔ شکستہ دلیلوں کی کھٹاس کو طرح طرح کی تحقیقات اور لفظوں کی قبا پہنا کر پیش کیا گیا۔
حلقہ این اے 120کی ایک نشست پر یہ علمائے دین اکٹھے نہ ہو سکے اور اپنا سارا جسمانی اور ایمانی وزن نواز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا تو عام انتخابات میں یہ کس طرح اسلام کے نام پر ووٹ مانگ سکتے ہیں اور پھر ان کی بات پر کون یقین کرے گا، سو ملک میں قرآن و حدیث کے نفاذ کے لئے ان کی باتیں محض اخباری بیانات کی حد تک زبانی جمع خرچ ہیں، عملی طورپر یہ لوگ اپنی ہی باتوں کے برعکس سوفیصد متضاد راہوں پر گامزن ہیں۔
سوال یہ ہے کہ عورت کی حکمرانی کے جواز کے لئے انتہائی باریک بینی اور مشقت کے ساتھ تحقیق کی گئی تو کیا عورت صرف کلثوم نواز ہی تھی؟ کیا ڈاکٹر یاسمین راشد عورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تحقیق کا مقصد عورت کی تائید و نصرت تھا ہی نہیں بلکہ صرف اورصرف نوازشریف کی اہلیہ کی حمایت مطلوب تھی۔ میں سمجھتا ہوں یہ علمائے دین کا ایک بھیانک رویہ تھا جس کے باعث اس طبقے کے وقار اور احترام کو شدید نقصان پہنچا۔ ان ثقیل اور کٹھن حالات میں کچھ علمائے کرام ایسے بھی تھے کہ جنہوں نے حق گوئی اور حق شعاری سے اپنا رشتہ ناتا قائم رکھا، میں عقیدت بھرا سلام پیش کرتا ہوں مولانا سمیع الحق اور حافظ ابتسام الٰہی ظہیر سمیت ان علمائے دین کو جنہوں نے انتہائی کڑے اور دگرگوں دباؤ کے باوجود اپنے قول و عمل سے حق و صداقت کوجدا نہ کیا۔ یقیناًایسے علماء ہی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ میری نقد و جرح اور محاکمے کا روئے سخن ان علمائے کرام کی طرف ہے جو نوازشریف کے ساتھ وفاداری میں بہت آگے نکل چکے ہیں اور اس سے بھی الم ناک بات یہ ہے کہ یہ آج تک اپنی ٹانگوں پر کھڑے نہیں ہو سکے۔ یہ ہمیشہ بیساکھیوں کا سہارا لیتے ہیں اور بیساکھیاں بھی وہ جنہیں پاکستان کی عدلیہ نے نااہل قرار دیا ہے، یقیناًیہ بیساکھیاں انہیں اسلام کے نفاذ کی طرف کبھی نہیں آنے دیں گی۔