Ch Farrukh Shezad copy

این اے 120: طوفان کا پیش خیمہ

ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا کو گلوبل ویلیج میں تبدیل کر دیا ہے۔ بیسیویں صدی ایجادات اور سیاسی بیداری یعنی جمہوریت کی صدی تھی مگر 21 ویں صدی کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صدی ہے جس میں فاصلے اور وقت کی قید ختم ہو گئی ہے اور اہم ترین معاملات صرف ایک بٹن دبانے سے طے کیے جا رہے ہیں اس برق رفتاری نے جہاں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، وہاں ہمارا پاکستان بھی اس سے لاتعلق یا الگ تھلگ نہیں رہا۔۔۔ البتہ پرائیویٹ سیکٹر میں آئی ٹی جس تیزی سے سسٹم کی رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے حکومتی شعبے میں اس کا رول اس کے عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اس کی دو بڑی رکاوٹیں ہیں پہلے نمبر پر بیورو کریسی جو معاملات کو اپنے ہاتھ سے نہیں نکلنے دینا چاہتی اور دوسری رکاوٹ سیاسی مفادات ہیں۔
این اے 120 کا الیکشن اس وقت دنیا بھر کا مرکز نگاہ بنا ہوا ہے جس میں دونوں پارٹیوں کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اس کے نتائج اور سیاسی مضمرات سے قطع نظر ہماری پیش گوئی یہ ہے کہ اس کے نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی پورے ملک میں میڈیا کے ذریعے الزامات در الزامات کا ایک ایسا طوفان اٹھنے والا ہے جو پوری قوم میں بے چینی و انتشار کا باعث بنے گا۔ ہونا یہ ہے کہ جو بھی پارٹی ہارے گی وہ اپنے مخالفین پر منظم دھاندلی کے ناقابل تردید الزامات کو بوچھاڑ کر دے گی۔ ہمارے مینؤل الیکشن سسٹم کے اندر اتنے نقائص ہیں کہ ان الزامات سے جان چھڑانا جیتنے والوں کے لیے ناممکن ہو گا۔ پھر یہ ہو گا کہ الیکشن کمیشن اور عدالتیں سارے کام چھوڑ کر مذکورہ الیکشن پراسیس کا پوسٹ مارٹم شروع کریں گے جو 2018ء تک چلتا رہے گا اور پھر سارے ہنسی خوشی رہنے لگیں گے تاآنکہ اگلا الیکشن ہو گا جس میں ملک کے کونے کونے میں وہ سب کچھ دہرایا جائے گا جو این اے 120میں ہوا ہو گا۔ یہ سلسلہ نیا نہیں ہے یہ پہلے بھی ہوتا آیا ہے اور آگے بھی ہوتا رہے گا۔ بیورو کریسی یا سیاسی قیادت کے ضمیر اتنے نازک نہیں ہیں کہ وہ ان گناہوں کا بوجھ نہ اٹھا سکیں۔
کینیڈا اور فرانس نے اپنے ملکوں میں الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام رائج کر دیا ہے جس میں کوئی بھی شخص گھر بیٹھے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکتا ہے اور ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ سٹیشن پر جانے کی ضرورت نہیں رہی لیکن ہم پاکستان کے لیے اس نظام کی حمایت نہیں کرتے کیونکہ اس میں Hacking کے خطرات پائے جاتے ہیں البتہ انڈیا نے گزشتہ کئی سال سے جو الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) متعارف کرائی ہیں اس سے الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدالتوں کو بے پنا ہ ریلیف ملا ہے کیونکہ اس سے جعلی ووٹ ڈالنے کے رجحان میں 99 فیصد کمی آئی ہے جس سے بیورو کریسی اور عدالتوں کا قیمتی وقت بھی بچتا ہے اور عوام کے ذہنوں میں اپنے ووٹ کے تقدس کا احساس مضبوط ہوتا ہے اور عوام کا جمہوریت پر یقین بڑھتا ہے۔ جب ہم ہر معاملے میں انڈیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے کمربستہ رہتے ہیں تو کیوں نہ ہم بھی EVM کے ذریعے دھاندلی کی جڑ کاٹ دیں۔
آئی ٹی کے روز مرہ استعمال میں لانے کی چند مثالیں ضروری ہیں۔ لاہور میں پرائیویٹ سکولوں کے اندر اب حاضری رجسٹر ختم کر کے بائیو میٹرک سسٹم لاگو ہے۔ بچے کلاس میں جانے سے پہلے وہاں انگوٹھا لگا کر اپنی حاضری لگاتے ہیں جو بچہ اس سسٹم میں انگوٹھا نہیں لگاتا فوراً اس کے والدین کے دیے ہوئے نمبر پر میسج چلا جاتا ہے کہ فلاں بچہ آج سکول سے غیر حاضر ہے۔ اسی طرح محلے کی چھوٹی سی مارکیٹ کے ایک کونے میں 4×4 فٹ کے ایک کھوکھے میں پرائیویٹ موبائل کمپنی کا ایک میٹرک فیل سیلز مین آپ کو اس لیے نئی سم دینے سے انکار کر دیتا ہے کہ بائیو میٹرک میں اسے معلوم ہو چکا ہے کہ آپ کے نام پر 4 سمیں پہلے ہی موجود ہیں۔ وہ انگوٹھے کی لکیروں سے نادرا کی مدد سے آپ کو ان سموں کے نمبر اور نیٹ ورک بھی بتا دیتا ہے۔ ملک کے کونے کونے میں پھیلے ایزی پیسہ نیٹ ورک میں آپ پلک جھپکنے میں اپنی رقم دور دراز علاقے میں بھجواتے ہیں اور جیسے ہی وہ رقم موصول ہوتی ہے ایک سیکنڈ میں آپ کو میسج آجاتا ہے کہ آپ کی امانت متعلقہ فرد کو پہنچا دی گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب IT Penetration اتنی بڑھ چکی ہے تو ہمارے سرکاری محکموں میں آج بھی کچھوے کی رفتار سے اس پر کام ہو رہا ہے ۔ اگر 2013ء کے انتخابات میں بائیو میٹرک طریقے سے ووٹر کی شناخت کا اصول اپنایا جاتا تو 2014ء والا دھرنا معرض وجود میں نہ آتا۔۔۔ اور نہ ہی ایک پولیس والا 50 ووٹروں کی جگہ پر ووٹ کاسٹ کرتا۔۔۔ حکمران پارٹی اس لیے جدید سسٹم اپنانا نہیں چاہتی کہ اسے دھاندلی کا موقع مل سکے اور بیورو کریسی یہ سب اس لیے نہیں چاہتے تاکہ ان کی عوام اور سیاسی قیادت دونوں پر حاکمیت اور گرفت مضبوط رہے۔ ریٹرننگ آفیسرز اپنے اپنے ضلع میں سیاہ و سفید کے مالک بنے رہیں تا کہ وہ حکمران پارٹی کے ساتھ اپنی Bargaining پوزیشن کو دھاندلی کے ذریعے تقویت دے سکیں لیکن ملک کو اس کا سب سے بڑانقصان یہ پہنچ رہا ہے کہ جمہوریت پر عوامی بھروسہ ختم ہو چکا ہے۔ عوام کو پتا ہے کہ الیکشن کانتیجہ ان کے ووٹ سے نہیں بلکہ ریٹرننگ آفیسر کی مرضی سے آئے گا۔ کسی سیاسی جماعت نے کبھی کوشش ہی نہیں کی کہ دھاندلی کے الزامات کی جڑ ختم کرنے کے لیے یہاں پر بائیو میٹرک شناخت کو اختیار کیا جائے۔
اس موقع پر ہمیں روسی انقلاب کے لیڈر جوزف سٹالن کا وہ مشہور قول یاد آ رہا ہے کہ
The people who cast the votes decide nothing. The people who count the votes decide every thing.
فیصلہ وہ نہیں کرتے جو ووٹ ڈالتے ہیں بلکہ سارے فیصلے وہ لوگ کرتے ہیں جو ووٹوں کی گنتی پر مامور ہوتے ہیں۔ سٹالن کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوام کے لیے اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ ان کی رائے جاننے کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں۔ انتخابی ہیرا پھیری اگر کسی ایک حلقے میں ہو تو یہ دھاندلی کہلاتی ہے مگر جب یہ پورے ملک میں ہو تو یہ اعداد و شمار کے زمرے میں آجاتی ہے۔