M-Imran-ul-Haqq

این اے 120کا ضمنی انتخاب:درست ا ندازہ

این اے 120کا انتخاب بہت سارے سوالا ت جنم دے کر اختتام پذیر ہو چکا ہے ۔ملکی و غیر ملکی میڈیا نے نمایاں کوریج دی ۔نتیجہ سوچوں کے عین مطابق ہی نکلا۔ اندازہ کے مطابق بیگم کلثوم نواز دس سے پندرہ ہزار ووٹوں کی لیڈ سے ہی جیتیں ہیں اور ملی مسلم لیگ کے محمد یعقوب شیخ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی سے زائد ووٹ لے جائیں گے ،یہ اندازہ لگانا کوئی راکٹ سائنس نہیں تھی ۔بلکہ زمینی حقائق یہی تھے جو قبل از انتخاب نظر آرہے تھے ۔وجوہات بے شمار ہیں مگر یہاں تفصیل ابھی مطلوب نہیں۔اپنے آئندہ کسی کالم میں اس حوالے سے تذکرہ ضرور کروں گا ۔
مسلم لیگ ن نے 2013ء میں اس حلقے میں 91666ووٹ لئے تھے اور اب جبکہ کچھ مسلم لیگ ن کے حوالے سے سوفٹ کانر رکھنے والے حلقوں کی جانب سے میاں محمد نواز شریف کو ناہل قرار دے کر منظر نامے سے ہٹا دیا گیا ہے توقع کی جارہی تھی کہ ہمدردی کا ووٹ بھی ملے گا ۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ الٹا مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک میں 29ہزار سے زائد ووٹوں کی کمی واقع ہوگئی ہے ۔اس طرح پی ٹی آئی کے ووٹ بینک میں بھی اگرچہ معمولی ہی سہی مگر کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔لیکن جس انداز میں یاسمین راشد نے ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلائی اور ہر گلی محلے میں پہنچی وہ یقیناًپی ٹی آئی والوں کے لئے باعث اطمینان ہو نی چاہیے۔معمولی ووٹوں سے ہار کوئی ہار نہیں ۔ بلکہ اس کو مسلم لیگ ن کی ہار ہی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔اس ضمنی انتخاب کی اہم بات پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کی کا رکردگی تھی ۔جو کہ بلاشبہ مایوس کن تھی کیونکہ ان کے مقابلے میں نومولود ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک کے امیدواروں نے قابل ذکر ووٹ حاصل کئے۔پیپلز پارٹی اورجماعت اسلامی کے سینئر رہنماؤں کو ا س حوالے سے سنجیدگی کا مظاہر ہ کرنا ہو گا اور اپنی ناکامیوں کا تنقیدی جائزہ لے کر کارکنوں کو ایک نیاولولہ اور جذبہ دینا ہو گا ۔ موجودہ انتخابی نتا ئج ملک کے فہمیدہ حلقوں کے لئے پریشانی کا باعث بھی ہیں۔اس ساری صورت حال میں مریم نواز شریف کا خاندان کی سپورٹ کے بغیر یوں میدان میں اترنا اور کامیاب ہونا عکاسی کرتا ہے کہ آئندہ دنوں میں شریف خاندان میں اختلافات مزید بڑھ جائیں گے ۔نواز شریف کے نا اہل ہو جانے کے بعد ان کی جانشین کے طور پر مریم نواز شریف سیاسی میدان میں عملی طور پر سرگرم ہو چکی ہیں۔حمزہ شہباز شریف اور خود چچا محترم میاں محمد شہباز شریف سیاسی میدانوں میں مریم نواز شریف کی انٹری سے خوش نہیں ۔مسلم لیگ ن کی ساری قیادت سراسیمگی کے عالم میں ہے ۔آپس کے اختلافات کھول کر سامنے آچکے ہیں ۔حکمران خاندان کے علاوہ مسلم لیگ کے بانی رہنماؤں میں شامل چوہدری نثار علی خان ایک جانب اور خواجہ آصف ،احسان اقبال ،خواجہ سعد رفیق ،شاہد خاقان عباسی وکٹ کے دوسری جانب کھیل رہے ہیں۔ گھر کو صاٖ ف کرنے کے حالیہ بیان نے اس بات کا تعین کر دیا ہے کہ موجودہ سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحہ پر نہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گھر کو صاف کرنا اب ضروری ہو گیا ہے تو مسلم لیگ کے سابق وفاقی وزیر داخلہ چار سال کیا کرتے رہے ؟پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کہتے ہیں کہ ’’ این اے 120میں ن لیگ کے ووٹ 30فیصد کم ہونا سپریم کورٹ کی فتح ہے‘‘ اداروں کی پشت پر سیاست کرنا درست اقدام نہیں۔اس قسم کے بیانات اداروں کے درمیان کشمکش کی سیاست کو پروان چڑھانے کے مترادف ہیں ۔ملک مزید کسی بھی قسم کے عدم استحکام اور جارحیت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔سپریم کو رٹ کے احترام کا دعویٰ کرنے والے فیصلوں پر تحفظات کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔عدالت عظمیٰ نے بھی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دائر اپیلوں کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ حلقہ این اے 120کے عوام نے جو فیصلہ دیا ہے ان کی رائے کا احترام کیا جانا چاہے ‘‘ درست ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ صورت حال کو گھمبیر نہیں کرنا چاہے ۔