abdul sattar awan

این اے 120کا انتخابی دنگل اور فوج کا مقدمہ

وطن عزیز میں ہونے والے عام انتخابات میں خوب جوش وخروش پایاجاتا ہے ،اس موقع پر عوام کے مختلف جذبات و رجحانات سامنے آئے ہیں جن کی بنیادپر وہ کسی بھی سیاسی جماعت کو مستر د یا منتخب کرنے کے لئے اپنا بنیادی حق رائے دہی استعمال کر تے ہیں ۔ 17ستمبرکو حلقہ این اے 120میں ہونے والا ضمنی الیکشن اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا ۔اس کی دلچسپ صورت حال کا اندازہ اس سے لگائیے کہ سیاسی ماہرین بھی اپنے تبصروں میں ابہام کاشکار رہے کہ اس حلقے سے کون سی جماعت کامیاب ٹھہرے گی۔ دوسری جانب یہ الیکشن ایک طرح سے ان نئی سیاسی جماعتوں کا بھی کڑا امتحان تھا جو اس میدان میں پہلی بار اتریں ۔ ہمارے تجزیہ نگاروں نے تو صرف کلثوم نواز ، یاسمین راشد اور فیصل میر کا ہی تذکرہ کئے رکھا اور تحریک لبیک یا ملی مسلم لیگ کم ازکم الیکٹرانک میڈیا پر بہت کم ڈسکس ہوئی لیکن نتائج آنے پر ان جماعتوں نے توقع سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا ۔یہ حلقہ نہ صرف لاہور بلکہ نواز لیگ کا دل ہے اور اس میں نئی سیاسی جماعتوں کاظہور اور پھر اس قدر عوامی مینڈیٹ حاصل کرنا سیاسی اعتبار سے معمولی بات نہیں ۔ اس تاریخی انتخابی معرکے میں مسلم لیگ نواز کی کلثوم نواز 61745ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں اور ان کے مد مقابل پی ٹی آئی کی یاسمین راشد 47099ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہیں۔ وفاق کی علامت پیپلز پارٹی چاروں شانے چت ہوگئی جبکہ اس پارٹی کی قیادت کسی بڑی تبدیلی کااعلان کر رہی تھی ۔ تحریک لبیک کے شیخ اظہر رضوی نے 7130 اورملی مسلم لیگ کے شیخ یعقوب نے 5822 ووٹ حاصل کئے،جماعت اسلامی کی کارکردگی مایوس کن رہی اور 592ووٹ حاصل کر سکی اس طرح سوائے کلثوم نواز اور یاسمین راشد کے امیدوار اپنی ضمانتیں ہی ضبط کروا بیٹھے۔
اس الیکشن میں کانٹے دار مقابلہ تو صرف نواز لیگ اور پی ٹی آئی کے مابین تھا ، لہٰذا ان جماعتوں نے بھرپور ڈو ر ٹو ڈور مہم چلائی ، اپنی کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا اور ووٹرز کے دل جیتنے کی بھرپور کوشش کی ۔ اس گرما گرم انتخابی ماحول نے پوری قوم کو اپنی گرفت میں لئے رکھا اوراس پر ملک بھر کے عوام اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کی نظریں لگی رہیں ۔ یہ حلقہ اس لئے خاصی اہمیت اختیار کر گیا تھاکہ یہاں سے2013ء میں منتخب ہونے والے مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نوازشریف کو پانامہ کیس میں ایک عدالتی فیصلے کے تحت ’’تخت‘‘سے اتار دیا گیا ۔چونکہ میاں نواز شریف کی نااہلی کا کیس تحریک انصاف نے لڑا تھا لہذاس لئے بھی اس کے امیدوار کی کامیابی کے امکانات ظاہر کئے جا رہے تھے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ الیکشن شفاف اندازسے پایہ تکمیل کو پہنچا اور فتح کاسہرا نواز لیگ کے سرسجا لیکن ابھی تک مسلم لیگ کی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔ دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں اسی حلقے سے نواز لیگ تقریباً چالیس ہزارکی لیڈسے کامیاب ہوئی لیکن اب اس کی عوامی مقبولیت کا گراف کافی نیچے آیا ہے اور وہ تیرہ ہزار کی برتری سے کامیاب ہوسکی۔نواز لیگ کے لئے سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کی تحریک انصاف نے اس کے مضبوط سیاسی قلعے میں دراڑ ڈال دی ہے اورلاہورجیسے اہم ترین شہر میں اسے بھاری عوامی مینڈیٹ ملنا معمولی بات نہیں ۔ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایک کلچر یہ بھی ہے کہ انتخابات میں ہارنے والے امیدوار اور سیاسی جماعتیں خوش دلی سے نتائج کو قبول نہیں کرتیں ۔ اس بار بھی شکست خورد ہ امیدواروں نے اس سیاسی روایت کی پاسدار ی کرتے ہوئے دھاندلی کے الزامات عائد کئے،بہر حال اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ الیکشن کافی حد تک فیئرتھا اوراس میں’’جھرلو‘‘نہ چل سکا۔
اب ہم دوسرے نکتے کی طرف آتے ہیں کہ ہونا تو یہ چاہئے کہ عوامی مینڈیٹ کااحترام کرتے ہوئے سیاسی جماعتیں بالغ نظر ی کا ثبوت دیں اور بجائے اداروں سے ٹکرانے کے انہیں مضبوط کریں لیکن اس حوالے سے صورت حال کافی مایوس ہے ۔ مثلاً حزب اقتدارو دیگر سیاسی قیادت کا یہ وتیر ہ ہے کہ وہ کھلے اور دبے لفظوں میں ملکی سلامتی کے اہم اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتی آئی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ نواز شریف نااہلی کے بعد فوج کی جانب انگشت نمائی کرتے ہوئے کہتے رہے کہ مجھے کیوں نکالا گیا؟ اب حالیہ الیکشن کے بعد ایک بار پھر مریم نواز نے کہا ہے کہ این اے120والوں نے نظر آنے والے مخالفین کے ساتھ ساتھ ان سے بھی مقابلہ کیا جو نظر نہیں آتے۔ ان کے اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے ۔ دوسری جانب ن لیگ کی قیادت دہشت گردی کے حوالے سے عالمی طاقتوں کو یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ واقعی ہمارے گھر میں کچھ ’’گند‘‘ باقی ہے اور ہم دہشت گردوں کو مات نہیں دے سکے ۔ ایسے بیانات دیتے ہوئے سوچنا چاہئے کہ ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ ایک طرف ہماری فوج مسلسل دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لڑتے ہوئے کامیابی کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے تو دوسری جانب سیاسی قیادت اپنی نادانیوں سے پاک فوج اور عوام کو اس جنگ میں ناکام قرار دینے پر تلی ہوئی ہے ۔ آخر ایسے لایعنی بیانات دینے کی ضرورت ہی کیا ہے جن سے ہم صرف نقصان ہی اٹھا سکتے ہیں ۔
ہم کس قدر دوغلے پن کاشکار ہیں کہ کسی معمولی سے مشکل لمحے میں بھی ہماری نظریں صرف فوج کی جانب اٹھتی ہیں۔ ہمارے سول اداروں کی کارکردگی کا اندازہ تو اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ دس مرلے پر مشتمل کسی عمارت میں آگ لگ جائے یا کوئی اور حادثہ پیش آجائے تو اس کے تدارک کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر رہتے ہیں اورفوری طورپر فوج کو بلایاجاتا ہے ۔جس قوم کا سول انتظامی سسٹم پانچ اوردس مرلے کی عمارت میں لگی آگ پر قابو پانے کے لئے اپنی فوج کو پکارنا شروع کر دے تو پھر ہمیں یہ کہنے دیجئے کہ اس قو م کی قیادت کو فوج پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ ملکی سرحدوں کادفاع ہو، دہشت گردی کی جنگ، پرامن انتخابات کا مسئلہ ہویا سیلا ب اور پولیو مہم کا معاملہ، ہماری نظریں صرف پاک فوج پر ٹھہرتی ہیں ۔ معمولی نوعیت کے مسائل و حادثات سے لے کر بڑے قومی بحرانوں تک ہم فوج کی راہ تک رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ہماری سیاسی قیادت کی حالت یہ ہے کہ فوج پرتنقید کئے بغیر اس کا کھانا ہضم نہیں ہوتا ۔بہر کیف گزارش محض اتنی ہے کہ حزب اقتدار ہو یا دیگر سیاسی جماعتیں‘انہیں عدلیہ، فوج اور ملکی سلامتی کے اہم اداروں پر طنز و تضحیک کا یہ باب بند کرنا چاہئے کیونکہ جس معاشرے میں اپنے محافظ اداروں کی قدر و منزلت کا احساس ہی ختم ہو جائے پھر زوال ہی اس کا مقدر ہوا کرتاہے ۔چوہدری نثار نے بالکل درست کہاہے کہ ایسے بیانات سے دشمن کو تقویت ملتی ہے اور اپنا بیانیہ کمزور ہوتا ہے جس سے ملک کے داخلی و خارجی مسائل بڑھ سکتے ہیں۔