Tahir-Nusrat

ایم کیوایم کا نوحہ

عام انتخابات میں محض چار ماہ رہ گئے ہیں۔ کچھ موسمی پرندوں نے ہری شاخوں کی جانب اڑان بھرلی ہے جبکہ کچھ ابھی تک اس انتظار میں ہیں کہ رخت سفرباندھ کر کس جانب لپکا جائے۔ اسی لئے وہ فی الحال ’’wait and see‘‘ پر عمل پیرا ہیں۔ تاکہ سودا ہو بھی تو بھرپور منافع کے ساتھ۔
درمیان میں سینیٹ کی گرما گرمی آگئی تو سینیٹ کے ٹکٹوں کیلئے بھی سیاست دان سرگرم ہوگئے ہیں۔ کہیں معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹایا گیا تو کہیں پارہ کافی اونچائیوں کو چھوگیا۔ کسی کو شکوہ ہے کہ وہ نظریاتی ہیں، پارٹی کے پرانے کارکن ہیں اسلئے وہ حقدار ہیں کہ ٹکٹ انہیں دیا جاتا لیکن ہماری مفاد پرست سیاست سے بھلا نظریات کا کیا تعلق؟ اسی لئے پلڑا انہی کا بھاری ہوتا ہے جس کا پارٹی میں اثر رسوخ زیادہ ہو۔
ویسے تو یہ دھماچوکڑی تمام سیاسی جماعتوں میں جاری ہے مگر سینیٹ کے انتخابات نے ایم کیو ایم پاکستان کو تتر بتر کردیا۔ پارٹی بظاہر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ کامران ٹیسوری ، ڈاکٹر فاروق ستار کیلئے بڑی مجبوری بن گئے تو متحدہ کے پرانے رہنما ناراض ہوگئے۔ پارٹی پی آئی بی اور بہادر آباد کے بیچ لٹکتی رہ گئی۔۔ ایک جانب فاروق ستار اوردوسری جانب عامر خان سمیت رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین نے اپنے امیدواروں کے الگ الگ کاغذات نامزدگی سینیٹ انتخابات کیلئے جمع کروادئیے ہیں۔
متوسط طبقے کی نمائندگی کرنے والی اس جماعت کو ہمیشہ سے مرکزی اور صوبائی اسمبلی میں فیصلہ کن اکثریت حاصل رہی۔ یہ ہر دور میں ’’سب‘‘ کو پیاری رہی، راج دلاری رہی۔۔۔ مگر اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ اس میں موجود شدت پسند عنصر نے متحدہ کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔ 1984ء میں یہ جماعت وجود میں آئی اور بہت کم عرصے میں مین سٹریم سیاست میں بڑی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ 1987ء کے لوکل گورنمنٹ الیکشن میں کامیابیاں ہوں یا پھر اس سے اگلے برس عام انتخابات کی کامرانیاں، ایم کیو ایم کا طوطی پورے ملک میں بولنے لگا تھا۔ 1990ء کے انتخابات میں یہ پاکستان کی تیسری بڑی جماعت بن کر ابھری۔
لیکن پھر اس جماعت نے تشدد کی پالیسی اپنائی۔ جس کے باعث 1992ء میں کراچی آپریشن کیا گیا۔ جس نے ایم کیو ایم کو ہِلا کر رکھ دیا۔ پارٹی قیادت لندن میں جا بیٹھی تو پاکستان میں اس کے بطن سے ایم کیو ایم حقیقی نے جنم لیا۔ یہ متحدہ کی خوش قسمتی سمجھیں کہ 1999ء میں سابق صدر پرویز مشرف نے نواز شریف کا دھڑن تختہ کیا تو اس جماعت کیلئے ایک بار پھر راہ ہموار ہوگئی اور پاکستان میں ایک بار پھر ایم کیو ایم کا ڈنکا بجنے لگا۔
سانحہ بارہ مئی 2007ء ہو ، بھتہ خوری یا پھر ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر خونیں واردات ، مبینہ طور پر متحدہ کا نام ہر جرم کے ساتھ نتھی رہا۔ یہاں تک ایک دوریہ بھی آیا کہ متحدہ کے قائد پاکستان اور ملکی اداروں کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کرنے لگے۔ جس پر مرکزی حکومت نے دوہزار سولہ میں اس پر پابندی لگائی۔
آج حال یہ ہے کہ ایم کیو ایم لندن اورایم کیو ایم پاکستان الگ الگ جماعتیں بن چکی ہیں۔ اگرچہ دونوں ایک ہی تھیلے کے جٹے بٹے ہیں۔ مگر بظاہریہ تقسیم ایم کیو ایم کیلئے بڑی ہلاکت خیز ثابت ہوئی ہے۔ جس کے بعد نہ تو پارٹی سنبھل رہی ہے اور نہ اس کے رہنما سنبھل رہے ہیں۔ رہی سہی کسر پاک سرزمین پارٹی نے پوری کردی ہے۔ جو ایم کیو ایم کے ناراض رہنماؤں کا مسکن بن گئی ہے۔
بہادر آباد گروپ نے پی آئی بی والوں کو ٹف ٹائم دینے کی پوری کوشش کی مگر الیکشن کمیشن نے جب صاف کہہ دیا کہ ایم کیو ایم پاکستان تو رجسٹرڈ ہی فاروق ستار کے نام سے ہے تو احتجاج کے اس غبارے سے ہوا نکلنے لگی۔ غلط فہمیاں جب جنم لیتی ہیں تو یقین کا پانی گدلا ہوجاتا ہے، حقیقت پر واہمے کا لبادہ چڑھ جاتا ہے اور اچھے بھلے انسان کو بھی اپنی کوتاہیاں نظر نہیں آتیں۔
گزشتہ کچھ دنوں سے جاری اس ڈرامے کا اگرچہ وقتی طور پر ڈراپ سین ہوگیا ہے۔ عامر خان کے آنسوؤں نے دلوں کو پگھلا دیا ہے۔ قوم پرستی کے نعروں نے ماحول گرما دیاہے۔فاروق ستار کو اس پورے معاملے میں سازش نظر آرہی ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ معاملہ کامران ٹیسوری کا نہیں کچھ اور ہے۔ اگر معاملہ کچھ اور تھا تو پھر کامران کیوں بحران کا سبب بنا۔ کسی ’’اورمعاملے‘‘ کاادراک کیوں نہیں کیا جاسکا؟
اس لڑائی میں اور کسی کا فائدہ ہو نہ ہو کامران ٹیسوری ضرور ایک اہم رکن بن کر سامنے آگئے ہیں۔ اگرچہ سینیٹ انتخابات کیلئے ان کا نام واپس لے لیا گیا ہے مگر پارٹی میں ڈپٹی کنوینرکا عہدہ دینا، اسی بات کا ثبوت ہے کہ چھتری کے ذریعے پارٹی میں اترنے والا اب سب کو قابل قبول ہے۔
مرکزیت جب کمزور ہو تو پارٹی کسی بادبانی کشتی کی طرح منجدھار میں ڈولتی رہتی ہے۔ فاروق ستار ایک منجھے ہوئے سیاستدان ضرور ہیں مگر پارٹی سنبھالنا شاید ان کے بس کی بات نہیں۔ تاہم فی الحال چائے کی پیالی کا طوفان وقتی طور پر تھم چکا ہے۔ کل تک ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے والے آج شیروشکر ہوگئے ہیں۔ گلے شکوے دورہوگئے ہیں مگر آخر کب تک؟ اب چونکہ عام انتخابات قریب آرہے ہیں تو اس بار اختلافات کچھ اور ہی ڈھنگ اور رنگ سے اٹھیں گے۔ کیا ایم کیو ایم پاکستان اس بار وار سہنے کیلئے تیار ہے؟۔